Advertisement

ترقی پسند تحریک بنیادی طور پر اردو زبان و ادب کی ایک ادبی تحریک ہے جس کا آغاز باضابطہ طور پر 1936 میں ہوا۔ اس تحریک نے اردو ادب کو بہت متاثر کیا۔ ترقی پسند تحریک کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اردو ادب کے دامن کو وسیع کیا، شعر و ادب کی کوئی بھی صنف اس کے اثر سے نہیں بچی۔غزل، نظم، ناول، افسانہ، ڈرامہ، انشائیہ، رپورتاژ، تنقید ہر ایک صنف میں ترقی پسند خیالات پیش کیے جانے لگے۔ خواب و خیال کی دنیا سے نکل کر سنگلاخ حقیقتوں کی دنیا میں سانس لینا سکھایا۔ شعر و ادب کو بے فکروں اور امیروں کے ڈرائنگ روم سے نکال کر کھیت، کھلیان، فیکٹری تک پہنچایا۔ ابھی تک ادب کو اعلیٰ اور متوسط طبقے کی جاگیر سمجھا جاتا تھا، ترقی پسند تحریک کے طفیل عام انسان کی رسائی ادب تک ہوگئی۔ ہر تخلیق میں ترقی پسندانہ رنگ جھلکنے لگا۔

شعر و ادب کے دامن کو وسیع کرنے کی کوشش تو علی گڑھ تحریک کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی اب اس وسعت میں مزید اضافہ ہوا۔علی گڑھ تحریک نے پہلے ہی ثابت کردیا تھا کہ ادب بیکاروں کا مشغلہ اور وقت گزاری کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کے ذریعے زندگی کو سنوارا اور بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ترقی پسند تحریک نے بڑے پیمانے پر یہ کام کیا نتیجہ یہ کہ دیکھتے ہی دیکھتے افسانہ، شاعری اور تنقید تینوں کی دنیا بدل گئی۔ اس تحریک سے پہلے اردو ادب میں یا تو پریم چند کے آرائشی افسانے تھے یا پھر سجاد حیدر یلدرم کے رومانی افسانے۔ بےشک پریم چند کے دو ایک افسانوں میں حقیقت نگاری سے کام لیا گیا تھا جس کی بہترین مثال ان کا افسانہ ”کفن“ہے لیکن ان کی گنتی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسی زمانے میں کہانیوں کا ایک مجموعہ ”انگارے“ شائع ہوا۔ انگارے کی اشاعت 1932 میں ہوچکی تھی اس میں سجاد ظہیر، احمد علی، رشید جہاں، وغیرہ کے افسانے تھے۔ یہ تمام وہ لوگ تھے جو پہلے سے ہی ایسے افکار و تصورات ادب کے حوالے سے ذہن میں پیدا کر چکے تھے۔ انگارے خالص ترقی پسندانہ انداز پر مبنی افسانوں کا مجموعہ تھا۔حکومت نے اس مجموعے پر پابندی لگا دی۔ آگے چل کر جن فنکاروں نے افسانے لکھے انہوں نے صاف گوئی اور بے باکی کا سبق انگارے سے ہی سیکھا۔

Advertisement

ہماری قدیم شاعری میں حسن و عشق کے فرضی افسانوں کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ علی گڑھ تحریک نے پہلی بار اردو شاعری کو اس محدود دائرے سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ سرسید ، حالی اور محمد حسین آزاد کی کوششیں بار آور ضرور ہوئیں مگر اردو شاعری کی کائنات تو یکسر بدل ڈالنے کا کارنامہ آخرکار ترقی پسند تحریک نے انجام دیا۔ پریم چند نے کہا تھا کہ ’ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگا‘ اس تحریک کے کے زیر اثر یہ معیار بدلا۔

مختصر یہ کہ ترقی پسند تحریک کی بدولت اردو ادب کے موضوعات کو وسعت حاصل ہوئی اور بیان کے مختلف اسالیب وجود میں آئے۔

زندگی کے دوسرے امور کی طرح ادب بھی اپنے ارتقاء کے سفر میں مختلف مراحل سے گزرتا ہے، مختلف موڑ اس کے راستے میں آتے ہیں۔ اردو زبان و ادب کے طالب علم کے لئے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ اردو ادب کون کون سے مراحل سے گزر کر ہم تک پہنچا ہے۔ کس طرح کی تحریکوں نے اس کا دامن تھاما ہے، اس کے دامن میں کیا داخل ہوا ہے اور اس کے سرمائے سے کیا کیا نکلا ہے۔ کس چیز کی اہمیت بڑھی ہے اور کس چیز کی اہمیت وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوئی ہے۔

اردو ادب میں تین چار تحریکیں بہت مشہور ہیں جن کا سرمایہ اردو ادب کا ایک بیش بہا خزانہ ہے۔ انہیں میں ایک تحریک ”ترقی پسند تحریک“ کے نام سے مشہور ہے۔ترقی پسند تحریک بنیادی طور پر اردو زبان و ادب کی ایک ادبی تحریک ہے جس کا آغاز 1936 میں باضابطہ طور پر ہوا۔ اس تحریک نے اردو ادب کو بہت متاثر کیا ہے۔ کسی طرح کی تحریک یا رجحان شروع ہونے کے پیچھے اس کے بہت سے اسباب ہوتے ہیں۔ انسان ایک طرح کی زندگی اور ایک طرح کے ادب سے اکتا جاتا ہے، ایک طرح کے حالات بھی ہر وقت انسان کی زندگی میں نہیں رہتے، لاشعوری طور پر اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور یہ خواہش ہوتی ہے کہ کچھ نیا ہو، پرانے پن سے آزادی ملے اور زندگی میں کچھ نیا آئے تاکہ نئی تازگی ملے، اسے نیا لطف حاصل ہو۔

ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ لوگ باقاعدہ سوچتے ہیں اور اس سوچ کے نتیجے میں کچھ تحریکیں جنم لیتی ہیں۔ترقی پسند تحریک کی بنیاد اور اس کے اثرات بھی اسی طرح اردو ادب میں مرتب ہوئے۔ ادیبوں اور دانشوروں نے محسوس کیا کہ انسان اور انسانی تہذیب دونوں فاشزم کے چنگل میں آ چکے ہیں، اس کے شکار ہیں اور فاشزم کے خطرات سے انہیں بچانا ضروری ہے۔ اس احساس نے ان ادیبوں اور دانشوروں کو قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ چنانچہ اس احساس نے ان ادیبوں اور دانشوروں کو پیرس کے ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا جہاں بیٹھ کر سوچا گیا اور یہ اعلان کیا کہ ہمارا قلم ان طاقتوں کے خلاف نہ رکنے پائے جو انسانیت کا گلا گھونٹتی ہیں اور معصوم عوام کا خون چوستی ہیں۔

پیرس کے اس پلیٹ فارم پر جمع دانشوروں میں ہندوستان سے جو لوگ شریک تھے ان میں سجاد ظہیر اور ملک راج آنند، ان کے علاوہ بنگال کے ادیب ڈاکٹر جوتی گوش، پرمود سین گپتا اور اردو کے ایک اور ادیب و شاعر ڈاکٹر محمد دین تاثیر شامل تھے۔ لوگ ادیبوں کے اس پلیٹ فارم میں جس کا نام رکھا گیا تھا World Congress of the writers for” the defence of culture“ سوچ سے متاثر ہوئے اور اس حد تک متاثر ہوئے کہ انہوں نے لندن میں مقیم ہندوستانی نوجوانوں کی ایک میٹنگ بلائی اور اس نئی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک ادبی انجمن قائم کی جس کا نام تھا “Indian progressive writers association” دراصل یہی ادبی تنظیم یا ادبی انجمن ترقی پسند تحریک کی بنیاد بنی۔ ملک راج آنند اس کے صدر منتخب ہوئے۔ اپنی تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے اس انجمن کے باقاعدہ لندن میں جلسے ہونے لگے۔ اس انجمن نے لندن کے نان کنگ ریسٹورینٹ میں ایک منشور تیار کیا جس کا لب و لباب تھا۔ ”وہ سب کچھ جو ہم میں انتشار، نفاق اور اندھی تقلید کی طرف لے جاتا ہے قدامت پسندی ہے اور وہ سب کچھ جو ہم میں تنقیدی صلاحیت پیدا کرتا ہے، جو ہمیں اپنی عزیز روایات کو بھی عقل اقدار کی کسوٹی پر پرکھنے کے لئے آمادہ کرتا ہے، جو ہمیں صحت مند بناتا ہے اور ہم میں اتحاد اور یکجہتی کی قوت پیدا کرتا ہے اس کو ہم ترقی پسند تحریک کہیں گے۔

اس مقصد کو سامنے رکھ کر انجمن میں کچھ تجاویز پاس کی گئیں۔ ان میں جو خاص تجاویز ہیں وہ یہ ہیں:

(١) ہندوستان کے مختلف لسانی صوبوں میں ادیبوں کی انجمنیں قائم کی جائیں اور ان کا رابطہ لندن کی انجمن کے ساتھ استوار کیا جائے۔ ان جماعتوں سے میل جول پیدا کیا جائے جو اس انجمن کے مقاصد کے خلاف نہ ہوں۔

(٢) ترقی پسند ادب کی تخلیق اور ترجمہ کیا جائے جو صحت مند اور توانا ہو، جس سے تہذیبی بدحالی پسماندگی کو مٹایا جا سکے اور جس کی بدولت ہندوستانی آزادی اور سماج کی ترقی کی فکر کی جا سکے۔

(٣) ہندوستان کی قومی زبان اور انڈو رومن رسم الخط کو قومی رسم الخط تسلیم کرنے کا پرچار کیا جائے۔

(٤) فکر و نظر اور اظہارِ خیال کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنا۔

(٥) ادیبوں کے مفاد کی حفاظت کی جائے۔ ان ادیبوں کی مدد کی جائے جو اپنی کتابیں طبع کرنے کے لئے امداد چاہتے ہوں۔

اس منشور پر جن نوجوان ادیبوں نے دستخط کیے ان میں ملک راج آنند، سجاد ظہیر، ڈاکٹر جیوتی گوش اور ڈاکٹر محمد دین تاثیر کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس منشور کی کاپیاں ہندوستان میں بھیجے گئیں۔ ہندوستان میں پرزور طریقے سے اس کا خیرمقدم کیا گیا۔ اس منشور سے ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کی فضا ہموار ہونے لگی اور باقاعدہ تحریک کی شکل و صورت اختیار کرلی گئی۔

اس جدوجہد کے بعد جب سجاد ظہیر نے لندن سے ہندوستان واپس آکر دوڑ دھوپ شروع کی تو ان کی جدوجہد کے نتیجے میں ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس لکھنؤ میں منعقد ہوئی جسکی صدارت اس زمانے کے مشہور فکشن رائٹر منشی پریم چند نے فرمائی کیونکہ اس زمانے میں اس کانفرنس کی صدارت کے لیے نوجوان ترقی پسند ادیبوں کے سامنے سب سے موزوں اور مشہور نام پریم چند کا تھا۔
﴿ترقی پسند ادبی تحریک از خلیل الرحمن اعظمی﴾

چنانچہ سجاد ظہیر نے انہیں خط لکھا۔ پریم چند نے اس تحریک کے مقاصد کی سب سے زیادہ تائید کی تھی لیکن ان کی منکسر المزاجی صدارت کا منصب سنبھالنے کے لئے اجازت نہیں دیتی تھی۔ انہوں نے سجاد ظہیر کو لکھا؛
” صدارت کے بات، میں اس کا اہل نہیں۔عجز سے نہیں کہتا، اپنے میں کمزوری پاتا ہوں۔ مسٹر کنہیا لال منشی مجھ سے بہت بہتر ہوں گے یا ڈاکٹر جین۔ پنڈت جواہر لال نہرو تو بہت مصروف ہوں گے ورنہ وہ نہایت موزوں ہوں گے۔ اس موقع پر سبھی سیاست کے نشے میں ہوں گے اور ادبیات سے شاید کسی کو دلچسپی ہو لیکن ہمیں کچھ تو کرنا چاہیے۔ اگر مسٹر جوہر لال نہرو نے دلچسپی کا اظہار کیا تو جلسہ کامیاب ہوگا “

پھر لکھتے ہیں؛
” اور کیا لکھوں تم ذرا پنڈت امرناتھ جی کو تو آزماؤ۔ انھیں اردو ادب سے دلچسپی ہے اور وہ شاید صدارت منظور کرلیں۔“ لیکن نوجوانوں کا اصرار بڑھا تو پریم چند نے صدارت کو قبول کر لی۔

ترقی پسند مصنفین کی پہلی کل ہند کانفرنس

ترقی پسند ادیبوں کی یہ کانفرنس اپریل 1936 میں ہوئی۔ یہ ہندوستان کی پہلی ادبی تحریک تھی جس میں نہ صرف اردو کے ادیب شامل تھے بلکہ دوسری زبانوں کے ادب بھی نظریاتی اتحاد کی بنا پر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو رہے تھے۔ اس کانفرنس میں پریم چند کے علاوہ مولانا حسرت موہانی، جے پرکاش نارائن، کملا دیوی، میاں افتخار الدین، یوسف مہر علی، اندو لال یا چنگ اور جتندر کمار وغیرہ نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ بنگال، گجرات، مہاراشٹر اور مدراس کے ادیب شریک ہوئے اور اپنی زبان کے ادبی مسائل پر تقریریں کیں۔ اس کانفرنس کی دو چیزیں اردو ادب کی تاریخ میں یادگار رہیں گی، ایک تو وہ اعلان نامہ یا مینی فیسٹو جو ہندوستان کے ترقی پسند ادیبوں نے اپنی کل ہند کانفرنس میں پیش کیا اور دوسرا منشی پریم چند کا خطبہ۔

پریم چند نے جو صدارتی خطبہ دیا تھا وہ ترقی پسند مصنفین کے لئے رہنمائے خطوط کے طور پر آج بھی اس کی اہمیت باقی ہے۔ ترقی پسند تحریک جو شروع ہوئی تھی اردو ادب میں اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ادب کو زندگی سے قریب تر کیا جائے۔ اگر اس خطبے کو پڑھیں اور سوچیں اور غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ ترقی پسند تحریک کا مقصد کیا تھا۔

پریم چند کا خطبہ

ادب اور افادیت کے موضوع پر پریم چند نے اس خطبے میں کہا؛
” مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں ہے کہ میں اور چیزوں کی طرح آرٹ کو بھی افادیت کے میزان پر تولتا ہوں۔ بیشک آرٹ کا مقصد ذوق حسن کی تقویت ہے اور وہ ہماری روحانی مسرت کی کنجی ہے لیکن ایسی کوئی ذوقی، معنوی یا روحانی مسرت نہیں جو اپنا افادی پہلو نہ رکھتی ہو۔ مسرت خود ایک افادی شئے ہے اور ایک ہی چیز سے ہمیں افادیت کے اعتبار سے مسرت بھی حاصل ہوتی ہے اور غم بھی۔ آسمان پر چھائی شفق بے شک ایک خوشنما نظارہ ہے لیکن اگر اساڑھ میں آسمان پر شفق چھا جائے تو وہ خوشی کا باعث نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ اکال کی خبر دیتی ہے۔“

پریم چند نے اپنا خطبہ ختم کرتے ہوئے آخر میں یہ الفاظ کہے؛
” ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اترے گا جس میں فکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، حسن کا جوہر ہو، تعمیر کی روح ہو، زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو جو ہمیں حرکت، ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے۔ سلائے نہیں کیونکہ اب زیادہ سونا موت کی علامت ہوگی“
﴿ترقی پسند ادبی تحریک از خلیل الرحمٰن اعظمی﴾

ترقی پسند تحریک کا پہلا اور آخری بنیادی مقصد سماجی مسائل کی طرف توجہ دلانا تھا۔ بقول علی سردار جعفری: ” یہ ہے کہ موضوع کی سماجی اہمیت ہونی چاہیے یعنی ایسا موضوع جو انسان کی زندگی، ماحول، ٹکراؤ تضاد، جدوجہد، کشمکش، جنبش اور حرارت کا ترجمان ہو“ اس مقصد کی روشنی میں یہ تحریک آگے بڑھنے لگی۔ اس کی رفتار کو بڑھانے اور اس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جوڑنے کے لیے مختلف علاقوں میں ترقی پسند مصنفین کی کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا۔

دوسری کل ہند کانفرنس

دوسری کل ہند کانفرنس 1938 میں کلکتہ میں ہوئی جس کے افتتاح کے لیے ربندر ناتھ ٹیگور کو بلایا گیا تھا۔ افسوس کہ وہ عین وقت پر بیمار ہو گئے لیکن انہوں نے خطبہ لکھ کر بھیج دیا تھا جو کانفرنس میں پڑھا گیا۔ ملک راج آنند نے اس کانفرنس کی صدارت کی۔ اس میں بنگالی زبان کے کئی اہم ادیب و شاعر تارا شنکر جی، بدھا دیو بوس، پر ماتما چوہدری، جے این سین گپتا وغیرہ شریک ہوئے۔اردو کے ادیبوں میں سجاد ظہیر، احمد علی ، عبدالعلیم، کرشن چندر، مجاز لکھنوی اور سردار جعفری وغیرہ شریک ہوئے۔ اس کانفرنس میں ڈاکٹر علیم نے اپنا مقالہ اردو، ہندی، ہندوستانی پر پڑھا اور اردو بنگالی، گجراتی، مراٹھی اور تامل ادب کے رجحانات پر تقریریں ہوئیں۔ڈاکٹر عبدالعلیم کو اس کانفرنس میں کل ہند انجمن کا جنرل سیکٹری بنایا گیا۔

تیسری کانفرنس 1942 میں دہلی میں ہوئی۔ چوتھی کانفرنس1945 میں حیدرآباد میں منعقد ہوئی۔ پانچویں کانفرنس 1949 میں بھیمڑی میں ہوئی۔ اس طرح بہت سے ادیبوں کا ساتھ اس تحریک کو ملا۔ اس تحریک سے جو ادیب جڑے تھے ان میں منشی پریم چند کے ساتھ ساتھ سردار جعفری، حیات اللہ انصاری، سہیل عظیم آبادی، مجاز لکھنوی، اختر حسین رائے پوری، خواجہ احمد عباس، جان نثار اختر، فیض احمد فیض ،ساحر لدھیانوی، حسرت موہانی، نیاز فتح پوری، قاضی عبدالغفار، علی عباس حسینی اور فراق گورکھپوری کا تعاون کابل ذکر ہے۔ اس لیے یہ تحریک بہت جلد ملک کے گوشے گوشے میں پھیل گئی اور اردو زبان میں ترقی پسند ادب کا انبار لگ گیا۔ صرف یہی ادیب نہیں جڑے بلکہ اس تحریک کو جواہر لال نہرو کی سرپرستی حاصل ہو گئی، مولوی عبدالحق منشی پریم چند کی سرپرستی حاصل ہوئی۔

خلیل الرحمٰن اعظمی کی یہ بات بالکل درست ہے کہ ”یہ پہلی ادبی تحریک تھی اردو میں جس نے نہ صرف یہ کہ پورے ملک کے ادیبوں کو ایک نظریاتی رشتے میں منسلک کرنے کی کوشش کی بلکہ ہندوستان کی دوسری تمام زبانوں میں بھی اتحاد و اشتراک کا وسیلہ بن گئی“

ابتدا میں یہ تحریر اردو زبان میں شروع ہوئی لیکن اتنی کامیاب ثابت ہو گئی کہ دوسری زبانوں میں بھی یہ تحریک پھلنے پھولنے لگی۔ ادیبوں کو یہ تحریک اتنی پسند آئی کہ ہر ایک کی منظورنظر بن گئی۔ ہر طرف اس تحریک کے اثرات نظر آنے لگے۔ شعر و ادب کی کوئی بھی ایسی صنف اس کے اثر سے نہیں بچی چاہے وہ غزل ہو نظم، ناول ہو یا افسانہ، ڈراما ہو یا انشائیہ، رپورتاژ ہو یا تنقید، ہر ایک صنف میں ترقی پسند خیالات پیش کیے جانے لگے، ہر تخلیق میں ترقی پسندانہ رنگ جھلکنے لگا۔

صرف یہی نہیں کہ شعر و ادب کے موضوع پر مواد ترقی پسند ہو گیا بلکہ ادب کے اظہار کا طریقہ بھی ترقی پسند ہوگیا یعنی شعر و ادب کا وسیلہ اظہار آسان واضح براہ راست اور بے باک ہوگیا۔ لفظوں میں جوش بھر گیا اور لہجے میں گن گرج آگئی۔

اردو کے جن شعرا نے ترقی پسندی سے اپنا رشتہ جوڑ اور اسے مضبوط کیا ان میں مجاز لکھنوی، فیض احمد فیض، مخدوم معین الدین، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، مجروح سلطانپوری، جان نثار ، احمد ندیم قاسمی ساحر، لدھیانوی اور پرویز شاہدی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان سب نے اپنی غزلوں اور نظموں کا رواج ترقی پسندی کی طرف موڑ دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک کو ان کی تخلیقی کاوشوں نے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

اگر ہم ان کے دیوان یا شعری مجموعوں کو دیکھیں تو زیادہ تر ایسے اشعار لکھے گئے ہیں جن میں ترقی پسند خیالات موجود ہیں۔ جن میں نہ صرف ترقی پسند خیالات موجود ہیں بلکہ جن کا طریقۂ اظہار بھی ترقی پسند ہو گیا ہے ، جس میں جوش ہے ولولہ ہے۔ کچھ اشعار یہاں نمونے کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔ مثلاً فراق گورکھپوری اس زمانے کے ایک اہم شاعر ہے وہ لکھتے ہیں۔

بندگی سے کبھی نہیں ملتی اس طرح زندگی نہیں ملتی
لینے سے تاج و تخت ملتے ہیں مانگنے سے بھیک بھی نہیں ملتی

اس طرح فیض احمد فیض کا پورا کلام ترقی پسندانہ خیا لات سے برا ہوا ہے۔ ان کی غزلیں اور نظمیں ترقی پسندانہ خیال سے جڑی ہوئی ہیں۔چند اشعار فیض احمد فیض کے ملاحظہ ہوں۔

دونوں جہان تیری محبت میں یاد کے
وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب نہیں غم روزگار کے

اک فرصتِ گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

کب نظر میں آئے گی بے داغ بندے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
﴿فیض احمد فیض﴾

اس زمانے کے ایک اور مشہور شاعر مجروح سلطان پوری کا ایک خالص ترقی پسند شعر ملاحظہ فرمائیں؀

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
﴿مجروح سلطان پوری﴾

غزل کے ساتھ ساتھ ترقی پسند تحریک نے نظم کو بھی متاثر کیا۔ زیادہ تر نظمیں ترقی پسند خیالات سے بھری پڑی ہیں۔

ایک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
﴿ساحر لدھیانوی﴾

اس زمانے کا ایک بڑا شاعر جوش ملیح آبادی بھی ہے۔ ان کی ایک نظم ہے جس کا عنوان ”ٹھنڈی انگلیاں“ ترقی پسندانہ خیالات سے جڑی ہے۔ اسی طرح اسرار الحق مجاز کی ایک نظم ”آوارہ“ بھی ترقی پسندانہ خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔ نظم ملاحظہ ہو؀

راستے میں رُک کے دَم لے لوں میری عادت نہیں
لوٹ کر واپس چلا جاؤں میری فطرت نہیں

اور کوئی ہم نوا مل جائے یہ قسمت نہیں
اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں

جی میں آتا ہے کہ اب عہدِ وفا بھی توڑ دوں
ان کو پا سکتا ہوں میں یہ اصرار بھی توڑ دوں

یاں مناسب ہے یہ زنجیرِ ہوا بھی توڑ دوں
اے غم دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

جی میں آتا ہے مردہ چاند تارے نوچ لوں
اس کنارے نوچ لوں اور اس کنارے نوچ لوں

ایک دو کا ذکر کیا سارے کے سارے نوچ لوں
اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں

مفلسی اور یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنے
سینکڑوں سلطان جابر ہیں نظر کے سامنے

لے کے ایک چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں
تاج پر اس کے دمکتا ہے جو پتھر توڑ دوں

کوئی توڑے یا نہ توڑے میں ہی بڑھ کر توڑ دوں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
﴿اسرار الحق مجاز﴾

ساحر لدھیانوی کی ایک مشہور نظم ”تاج محل“ ملاحظہ ہو؀

تاج تیرے لیے ایک مظہر الفت ہی سہی
تجھ کو اسی وادی رنگین سے عقیدت ہی سہی
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے

بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی
ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری رہزن کا سفر کیا معنی

میری محبوب پس پردہ تشہیر وفا
تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا
مردہ شائیوں کے مقابر سے بہنے والی

اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا
ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے ان کے جذبے

لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
﴿ساحر لدھیانوی﴾

فیض احمد فیض کی ایک نظم ”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ“ ملاحظہ فرمائیں؀

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات

تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہ ے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوجائے
یوں نہ تھا، میں فقط چاہا تھا یوں ہوجائے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخواب سے بنوائے ہوئے

جابجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے
پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کجیے
اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجیے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
﴿فیض احمد فیض﴾

اسی طرح جان نثار اختر کی نظم ”ہم ایک ہیں“ سردار جعفری کی نظم ”نوالہ“ خلیل الرحمن اعظمی کی نظم ”سوداگر“ ترقی پسند خیالات سے جڑی ہیں اور علی سردار جعفری کا مضمون ”ترقی پسند تحریک“ بھی اسی تحریک کے ساتھ جڑا ہے۔ اس کے علاوہ مخدوم محی الدین کی کہانی ” آدم کی اولاد“ اور احتشام حسین کی کہانی” کھنڈر “ کے علاوہ مجاز، جذبی، اختر اور ڈاکٹر تاثیر کی نظمیں، بہت سے اخبارات اور رسائل ایسی نظمیں شائع کر رہے تھے جن میں ترقی پسندانہ عناصر کا غلبہ تھا۔ مئی 1939 کے پرچے میں جو ’نیا ادب‘ کا دوسرا شمارہ تھا، جوش کی نظم اور عصمت چغتائی کا افسانہ ”گیندا“ کے علاوہ جدید چینی ادب پر سوامی دیانند کے مضمون کا ترجمہ بھی شائع کیا گیا۔

بقول خلیل الرحمن اعظمی ”نظموں کے حصے میں جوش ملیح آبادی کی نظم ’وفاداران ازلی کا پیام شہنشاہ ہندوستان کے نام‘ مجاز کی نظم ’عشرت فردا‘ جمیل مظہری کی نظم ’ماں‘ رضی آبادی کی ’نوجوان کی دنیا‘ فیض کی ’سوچ‘ تاثیر کی ’غریبوں کی صدا‘ جذبی کی ’فطرت ایک مفلس کی نظر میں‘ مخدوم کی ’مشرق‘ سردار جعفری کی ’مزدور لڑکیاں‘ جانثار اخترکی ’خانہ بدوش‘ شامل کی گئی تھیں۔

مارچ 1940 میں حلقۂ ادب لکھنؤ سے ”آزادی کی نظمیں“ کے نام سے ایک مجموعہ سبط جین نے مرتب کر کے شائع کیا جس میں غالب سے لے کر موجودہ دور کے شعرا کی وہ تمام نظمیں جمع کردی گئی تھیں جن میں وطن کی آزادی اور قومی بیداری کے گیت گائے تھے۔ اس مجموعہ کا دیباچہ رفیع احمد قدوائی نے لکھا ہے اور اور اس مجموعے کا تعارف کراتے ہوئے کہا تھا:
” آزادی کی نظموں کا زیر نظر مجموعہ صرف نظموں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ احساس غلامی کے ارتقا کی تاریخ ہے اور مجھے خوشی ہے کہ مرتب نے انتخاب کی بنیاد قومی زندگی کی حقیقتوں پر رکھی ہے۔ اس انتخاب سے اس دعویٰ کی بھی تائید ہوتی ہے کہ ادب اور زندگی میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔اگر ان نظموں کو بغور پڑھا گیا تو نہ صرف آزادی کے تصور کا کا تدریجی ارتقاء واضح ہو جائے گا بلکہ یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ آج ہم کس منزل پر ہیں، ہمارے رجحانات کیا ہیں اور ہماری منزل کیا ہوگی “

پریم چند پہلے سے ترقی پسند خیالات رکھتے تھے اور جب یہ تحریک آئی ان کے خیالات اور بھی روشن ہو گئے اور ان کی زیادہ تر کہانیوں میں مزدوروں کسانوں اور ہندوستان کی عوام کا دکھ درد جھلکنے لگا۔

اس تحریک کے بعد اردو ادب کا راستہ عوام سے جڑ گیا۔ ادب غریبوں اور مزدوروں کے دکھ درد کے اظہار کا وسیلہ بن گیا۔ ادب سماج سے جڑ گیا، سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں۔ شعر و ادب کو لفظوں کے گورکھ دھندے سے نکال کر ایک سیدھی سادی اور سچی زبان عطا کی گئی جس میں فطری اور صداقت و خلوص والی زبان تھی۔ادب میں جوش جذبہ صداقت اور خلوص کو جگہ ملی اور اظہارِ خیال کی آزادی پر زور دیا گیا۔

کارل مارکس کا نظریہ

کارل مارکس ایک مشہور جرمن مفکر تھے۔ انہوں نے سرمایہ و محنت کے مسائل پر غور کیا اور اپنے افکار اپنی معرکہ آرا تصنیف ”سرمایہ “ میں پیش کیے۔ انہوں نے سرمایہ داروں کو ظالم اور مزدوروں کو مظلوم قرار دیا کیونکہ محنت کش یعنی مزدور کو سرمایہ دار پیداوار میں اس کا حصہ نہیں دیتے۔ حالانکہ پیداوار میں اس محنت کو سرمائے سے زیادہ اہمیت حاصل ہے اور کارل مارکس کے نزدیک دولت کی یہ غیرمساوی یعنی نابرابر تقسیم ہی دنیا کی ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔
﴿اردو نثر کا تنقیدی مطالعہ﴾

ادب کے حوالے سے مارکس کا فلسفہ بہت وسیع فلسفہ ہے۔ وہ ایک معاشی، سیاسی، اور سماجی فلسفہ ہے۔ اس کے کئی پہلو ہیں۔ سوشلزم کا جو تصور ہے اشتراکیت کا جو تصور ہے اس میں یہ ہے کہ معاشرے میں انقلابی تبدیلی آئے اور سرمایہ داری کا جو نظام ہے اس نظام کے بعد ایک سماجیاتی نظام سوشلزم پر مبنی اشتراکیت پر مبنی ایک نظام قائم ہو، یہ بنیادی مقصد تھا کارل ماکس کا۔ استحصال (Exploitation) کا خاتمہ ہو یعنی ایک شخص کے ذریعے دوسرے شخص کا استحصال نہ ہو۔ طبقاتی نظام کا خاتمہ ہو یعنی غیر طبقاتی نظام جہاں مساوات نہ ہو۔ کوئی امیر کوئی غریب نہ ہو۔ یہ ساری چیزیں جو ادب میں ہیں ان چیزوں کو پیش کرنے کا کام پسند تحریک نے کیا۔

لینن کا نظریہ

لینن ایک بلند حوصلہ روسی رہنما تھے۔ انہوں نے محنت کشوں کی رہنمائی کا حق ادا کیا۔ اس زمانے میں روسی بادشاہ زار کی زیادتیاں انتہا کو پہنچ چکی تھیں اس لئے وہاں کارل مارکس کے افکار کا گہرا اثر ہوا۔ لینن خاص طور پر اس تحریک سے متاثر ہوئے۔ آخر کار محنت کشوں نے متحد ہو کر 1918میں زار روس کی حکومت کو شکست دے دی اور حکومت کی باگ دوڑ خود سنبھال لی۔

حکمران جماعت کا نیا نام ”روسی کمیونسٹ پارٹی“ قرار پایا۔ اس انقلاب نے ساری دنیا پر یہ حقیقت روشن کردی کہ محنت و مشقت کرنے والے اگر اکٹھے ہو جائیں تو ظالموں کی مضبوط سے مضبوط حکومت بھی ان کے آگے ٹھہر نہیں سکتی۔ 1933 میں ہٹلر کے آمرانہ رویے نے دنیا بھر کے دانشوروں اور ادیبوں کو جو عام لوگوں کی بنسبت زیادہ حساس ہوتے ہیں، یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اب مظلوموں کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہونے کا وقت آ گیا ہے۔

جواہر لال نہرو کی تقریر

بقول خلیل الرحمن اعظمی جواہر لال نہرو نے ترقی پسند ادیبوں کے سامنے بڑی بے تکلفی اور صاف گوئی سے تقریر شروع کی:
” علم و ادب پر رائے دینے کا مجھے حق تو نہیں ہے لیکن جب دیکھتا ہوں کہ مجھ سے کم حق رکھنے والے لوگ رائے دے رہے ہیں تو مجھے بھی ضرورت ہوتی ہے کچھ کہنے کی۔ مجھے دو تین کتابیں لکھنے کا اتفاق ہوا ہے اور لکھنے کا شوق بھی ہے لیکن میرے پاس ان کاموں کے لیے وقت نہیں ہے۔ میرا زیادہ تر طاقت دوسرے کاموں میں صرف ہوتی ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔

ترقی پسند ادب کیا ہے؟ ادیب کن لوگوں کے لیے لکھتا ہے اور کیوں لکھتا ہے؟ ان سوالوں کا جواب ہر شخص دے سکتا ہے اور دیے گئے ہیں ان کو بار بار دہرانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ان سوالوں کو سن کر میرا دل چاہتا ہے کہ پوچھوں آپ کیوں زندہ ہیں؟ کیا مقصد ہے زندگی کا ؟ پنڈت جی نے ادب و سیاست کے طریق کار پر روشنی ڈالی اور ادب کی اہمیت بتائی۔
” موجودہ دنیا کو اس خیالی دنیا تک لے جانے کی اور لوگ بھی کوشش کرتے ہیں مثلاً سیاسی حضرت ہیں لیکن سیاسی حضرات اور اسی قسم کی کوشش کرنے والے دوسرے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں پھنس جاتے ہیں، بڑی باتوں پر زیادہ توجہ نہیں دے سکتے۔ایک آرٹسٹ ایسی چھوٹی باتوں سے الگ رہتا ہے۔ اس کی زندگی اور ماحول سیاسی لوگوں کی زندگی اور ماحول سے مختلف ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ بڑی بڑی باتوں کو روزمرہ کی چھوٹی باتوں کے چنگل سے الگ کرکے سماج کو دکھا سکتا ہے “
” ادیب کی پہنچ جہاں ہوتی ہے وہاں سیاستدان کی نہیں۔ اس کے پاس عام لوگوں کی زبان ہوتی ہے اس سے مدد لے کر وہ خیالی دنیا اور موجودہ دنیا کے درمیان ایک پل بناتا ہے جس میں میں سے ہو کر عام لوگوں کے دماغ خیالی دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ تو پھر واقع پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں“

آرٹسٹ اور ادیب میں انفرادیت ہوتی ہے۔ اگر کسی آرٹسٹ میں انفرادیت نہیں ہے تو میں اس کو آرٹسٹ نہیں کہہ سکتا لیکن اگر اس کی انفرادیت ایسی ہے کہ وہ سماج سے الگ ہے اور جو چیزیں سماج کو ہلاتی ہیں ان سے متاثر نہیں ہوتا تو وہ ادیب بے کار ہے۔ اس کی اکیلی طاقت سماج کو آگے نہیں پہنچا سکتی۔لیکن اگر اس کے برخلاف اس کی انفرادیت میں سماج کو دخل ہے یعنی وہ انفرادیت سماج کا نمائندہ کہی جا سکتی ہے تو وہ بڑی چیز ہے اس میں قوم کی طاقت آجاتی ہے اور وہ دنیا کو ہلا دیتی ہے۔ گزشتہ دور میں جتنے بھی بڑے بڑے لکھنے والے ہوئے شیکسپیئر وغیرہ وہ سب کسی نہ کسی طرح اپنے دور کے سماج کے نمائندے تھے “

اس تقریر میں پنڈت جی نے اشتراکی سماج کی تائید کی:
”اگر انفرادیت ترقی پا سکتی ہے تو وہ صرف سوشلز سماج میں پچھلی دنیا میں پھر بھی ان لوگوں کو موقع حاصل تھا جو روپیہ پیسہ رکھتے تھے اور اختیارات رکھتے تھے لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے کہ وہ لوگ بھی جکڑے ہوئے ہیں۔یہ کہنا کہ سوشلزم آ کر انفرادیت کو فنا کر دے گا غلط ہے۔ وہ دور ایسا نہیں ہوگا کہ سب ایک ہو جائے بلکہ ہر ایک کو اپنے ڈھنگ پر ترقی کرنے کے مواقع حاصل ہوں گے “

آخر میں نوجوان ادیبوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا؛
” ایک بات سے میں جھلکتا ہو وہ یہ کہ ایسا ادب لکھتے وقت اکثر لوگ خاص خاص فقرے، خاص نعرے دھرانے لگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح انہوں نے ایک زبردست خیال رکھ دیا لیکن معقول لکھنے والے کے لئے یہ زیبا نہیں اور نہ اس میں آرٹ ہے، نہ کوئی خاص پیغام، ایسی چیزوں کی جگہ صرف سیاست میں ہے۔

ہندوستان کے انجمن ترقی پسند مصنفین کی ایسی انجمنیں یورپ میں متعدد ہیں۔ انہوں نے بڑے بڑے کام کیے ہیں کیونکہ وہ لوگوں کے دماغ میں ہیں۔ انقلاب فرانس میں والٹر کے ایسے ادیبوں کا بڑا دخل ہے۔ اس کا اثر انقلاب کے بعد سو برس تک باقی رہا۔

آنے والے انقلاب کے لئے ملک کو تیار کرنا، اس کی ذمہ داری ادیب پر ہوتی ہے۔ آپ لوگوں کے مسئلوں کو حل کیجئے، ان کا راستہ بتائے لیکن آپ کی بات آرٹ کے ذریعے ہونی چاہیے نہ کہ منطق کے ذریعے۔ آپ کی بات ان کے دل میں اتر جانی چاہیے۔ ہندوستان میں ادیبوں نے بڑا اثر کیا ہے۔ مثلاً بنگال میں ٹیگور نے لیکن ابھی تک ایسے ادیب کم پیدا ہوئے جو ملک کو زیادہ آگے لے جا سکیں۔انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام ایک بڑی ضرورت کو پورا کرتا ہے اور اس سے ہمیں بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔“
﴿ترقی پسند ادبی تحریک: خلیل الرحمن اعظمی﴾

ترقی پسند تحریک کا اصل کارنامہ

ترقی پسند تحریک کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اردو ادب کے دامن کو وسیع کیا، خیال و خواب کی دنیا سے نکل کر سنگلاخ کی دنیا میں سانس لینا سکھایا۔ شعر و ادب کو بے فکروں اور امیروں کے ڈرائنگ روم سے نکال کر کھیت، کھلیان، فیکٹری تک پہنچایا۔ ابھی تک ادب کو اعلیٰ اور متوسط طبقے کی جاگیر سمجھا جاتا تھا ترقی پسند تحریک کے طفیل عام انسان کی رسائی ادب تک ہوگئی۔

شعر و ادب کے دامن کو وسیع کرنے کی کوشش تو علی گڑھ تحریک کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی شروع ہو گئی۔ اب اس وسعت میں مزید اضافہ ہوا۔ علی گڑھ تحریک نے پہلے ہی ثابت کردیا تھا کہ ادب بیکاروں کا مشغلہ اور وقت گزاری کا ذریعہ نہیں، اس کے ذریعے زندگی کو سنوارا اور بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ترقی پسند تحریک نے بڑے پیمانے پر یہ کام کیا نتیجہ یہ کہ دیکھتے ہی دیکھتے افسانہ، شاعری اور تنقید تینوں کی دنیا بدل گئی۔

اس تحریک سے پہلے اردو میں یا تو پریم چند کے دو دیک افسانوں میں حقیقت نگاری سے کام لیا گیا تھا جس کی بہترین مثال ان کا افسانہ ”کفن“ ہے لیکن ان کی گنتی نہ ہونے کے برابر ہے۔اسی زمانے میں کہانیوں کا ایک مجموعہ ”انگارے“ کے نام سے شائع ہوا۔ اس میں سجاد ظہیر، احمد علی، رشید جہان اور محمودالظفر کی کہانیاں شامل تھیں۔ان کہانیوں میں سماجی مسائل کو بڑی بے باکی کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔ حکومت نے اس مجموعے پر پابندی لگا دی۔ آگے چل کر جن فنکاروں نے افسانے لکھے انہوں نے صاف گوئی اور بے باکی کا سبق انگارے سے ہی لکھا۔
﴿اردو نثر کا تنقیدی مطالعہ: ڈاکٹر سنبل نگار﴾

ہماری جو روایتی شاعری چلی آ رہی تھی اس میں صرف حسن و عشق کے حوالے سے ہی لکھا جا رہا تھا۔ ہمارے موضوعات محدود تھے چاہے وہ شاعری ہو یا نثر کی تخلیقات ہوں۔ ان دونوں سطحوں پر جدید ترین نظریات اور افکار تھے، ان سے ادب کو مستحکم کرنے کا کام علی گڑھ تحریک نے کیا۔علی گڑھ تحریک نے پہلی بار اردو شاعری کو اس محدود دائرے سے باہر نکالنے کی کوشش کی لیکن علی گڑھ تحریک کے اثرات رفتہ رفتہ ختم ہونے لگے تھے اور ہمارے یہاں بیسویں صدی کے اول نے رومانی تحریک جو ایک نظریہ ہے وہ بھی سامنے آیا۔

رومانیت کی اگرچہ ہمارے یہاں تو اس طرح سے تحریک نہیں رہی لیکن مغرب میں رومانی تحریک غالب رہی ہے۔ اس کے اثرات بیسویں صدی کے ادب پر بہت نمایاں تھے اور پھر ہمارا ادب حسن و عشق کے اس ایسے حصار میں پھر سے بند ہونے لگا تھا جس کی طرف ہمارے جو بعد کے پریم چند ہیں، انہوں نے اور اقبال نے اس رویے سے انحراف کرتے ہوئے ادب کو زندگی سے قریب تر کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن جب ترقی پسند ادبی تحریک باضابطہ طور پر شروع ہوئی تو اس وقت ادب کے موضوعات کیا ہونے چاہیے؟ ادب کا تقاضا کیا ہے؟ ادیب کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ ان تمام پہلوؤں پر ایک طرح سے روشنی ڈالی گئی۔ایک باظابطہ دستور پر بنایا گیا کہ ادب کو اس دستور کے تابع ہو کر ادیبوں کو چاہیے کہ ادب تخلیق کریں۔

ترقی پسند تحریک کی خامیاں

ترقی پسند تحریک کی خامیاں بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتیں۔ ادب کے مقصدیت اور افادیت پر زور تو علی گڑھ تحریک نے بھی دیا تھا لیکن ترقی پسند تحریک نے اسے اور زیادہ اہمیت دی۔ رفتہ رفتہ موضوع اور مواد ہی کو سب کچھ سمجھا جانے لگا اور ادب کی جمالیاتی قدریں نظر انداز کی جانے لگیں۔ عالمی ادب کے پس منظر میں غور کیا جائے تو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ مارکس نقادوں نے جمالیاتی قدروں یعنی ادب کی دلکشی و رعنائی کو ہمیشہ مناسب حد تک اہمیت دی لیکن اکثر ترقی پسند ادیب کمیونزم کے پرچار کو ہی سب کچھ سمجھنے لگے۔حسن کاری کی ادب میں کوئی اہمیت نہیں رہ گئی۔ انقلاب کی دعوت اس طرح دی جانے لگی جیسے ادب تخلیق نہ کیا جا رہا ہو، شاعری نہ کی جا رہی ہو، محض نعرے لگائے جا رہے ہوں۔ نمونے کے طور پر یہ دو شعر ملاحظہ ہوں؛

وقت ہے آو دو عالم کو دگرگوں کر دیں
قلب گیتی میں بتاہی کے شرارے بردیں
﴿مخدوم ﴾

میرے ہونٹوں پہ نغمے کانپتے ہیں دل کے تاروں کے
میں ہولی کھیلتا ہوں خون سے سرمایہ داروں کے
﴿علی سردار جعفری﴾

اس کے بعد جو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ترقی پسند تحریک نے اردو ادب کو بہت کچھ دیا۔ ایسی تخلیقات کچھ کم نہیں جن میں بیداری کا پیغام بھی ہے اور اعلی درجے کی حسن کاری بھی۔ اس کی دو مثالیں ملاحظہ فرمائیے۔

ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
﴿مجروح سلطان پوری﴾

وہ تیرگی ہے کہ اکثر خیال آتا ہے
میرے فلک پہ کوئی آفتاب ہے کہ نہیں
﴿جذبی﴾

حاصلِ کلام

ترقی پسند تحریک کی خامیوں کے باوجود ان خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جو ترقی پسند تحریک نے انجام دیں، جن کے سبب اردو ادب نئی جہتوں سے روشناس ہوا اور بے شمار لازوال تخلیقات وجود میں آئیں۔ پروفیسر آل احمد سرور نے غیر جانبدارانہ انداز میں تحریک کا جائزہ لیتے ہوئے فرمایا ہے:
” ترقی پسند ادب نے جس طرح انسان کو زندگی اور ادب کے اسٹیج پر مرکزی جگہ دی ہے، جس طرح عام آدمیوں میں ہیرو کے صفات دیکھے اور دکھائے ہیں، جس طرح طبقاتی اور سماجی خلجیوں کو کم کیا ہے، جس طرح اصلاح بغاوت اور انقلاب کے لیے ولولہ پیدا کیا ہے، جس طرح ماضی پرستی کے بجائے ماضی کو عقل کی عینک سے دیکھنا سکھایا ہے، جس طرح ہیرو پرستی کم کی ہے، جس طرح ادب کی زبان کو سائنس اور دوسرے علوم کی وجہ سے تقویت پہنچائی ہے، جس طرح لوگوں نے اپنی پرانی مصیبت پر قناعت کرنے کے بجائے ایک نئی مسرت کو لبیک کہنے کا جذبہ پیدا کیا ہے، جس طرح زبان کو چند مخصوص لوگوں کا کھلونا بنانے کے بجائے سب کے دل کا آئینہ بنایا ہے، جس طرح اس نے سلانے یا رلانے کے بجائے جگانے اور بادہ ساغر کے بجائے تلوار کا کام لیا ہے، جس طرح تنقیدی شعور کو ابھارا ہے اور تخلیقی جوہر کی تربیت وتہذیب کا کام اپنے ذمہ لیا ہے، اس سے اس کی کامیابی اور بڑائی ظاہر ہوتی ہے۔ادب کی دنیا میں نئی راہوں، تجربوں اور دریافتوں کی بڑی اہمیت ہے۔نئے راستوں میں لوگ بھٹکتے بھی ہیں لیکن ان ہی لغزشوں سے راستے کی آبرو قائم ہے۔“
﴿اردو نثر کا تنقیدی مطالعہ: ڈاکٹر سنبل نگار﴾