Advertisement

روزانہ صحافت کا آغاز

اردو صحافت کا آغاز ہفتہ وار اخباروں سے ہوا 1822ء میں جب جام جہاں نما اردو کا پہلا اخبار کلکتہ سے جاری ہوا تو یہ ہفتہ وار اخبار تھا۔ اس کی پیروی میں بعد میں جتنے ہی اخبار یک بعد دیگر انیسویں صدی کے آخر تک نکلتے رہے وہ کم و پیش ہفتہ وار اخبار ہی تھے۔ انسیویں صدی کے آخر میں نکلنے والے چند ہفتہ وار  ی ہفتہ وار اخباری ہی تھے انیسویں صدی کے آخر میں نکلنے والے چند ہفتہ وار اخبار ایسے ضرور تھے جو بیسویں صدی میں داخل ہونے کے بعد روزانہ اخبار بنے اور آزادی تک اپنی خدمت انجام دیتے رہے ۔

حقائق کے باوجود اردو کا پہلا روزنامہ گائیڈ کے نام سے خان بہادر مولوی کبیرالدین نے جاری کیا جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ انگریزوں کا خوش آمدید اخبار تھا ۔ اس نے روزنامہ ہونے کے باوجود کوئی ایسا کام نہیں کیا جیسے اردو صحافت  کے ارتقاء میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہو پھر بھی روزنامہ ہونے کی وجہ اس اخبار کو روزناموں کی تاریخ میں خشت اول کی حیثیت حاصل ہے انہی دنوں لاہور سے اخبار عام جاری ہوا جس نے جلد ہی پیسہ اخبار کا نام کر کے مرکزی حیثیت حاصل کی یہ اخبار ابتدا تو ہفتہ وار تھا لیکن جلد ہی اردو گائیڈ کی پیروی میں روزنامہ ہوا اور کچھ مدت تک اسی شکل میں عوام کی توجہ کا مرکز بنا رہا اس کے ایڈیٹر منشی محبوب عالم چونکہ  بڑے جواں دیدہ آدمی تھے اور صحافت کے رموز نکات سے واقفیت ہونے کے ساتھ ہی ساتھ یورپ کا سفر بھی کر چکے تھے۔ چنانچہ ان کی قیامت میں اس اخبار نے حاصی ترقی کی 1924 ء میں یہ بار بند ہوگیا ۔

Advertisement

 بیسویں صدی کا سورج جب رونما ہوا تو بڑے صغیر کی عوام جدوجہد آزادی کے شدید دور میں داخل ہو رہی تھی کانگریس کے قیام اور اس کے بعد مسلم لیگ کے وجود نے قومی سطح پر جو بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی جس سیاسی شعور کو عام کیا اس کا تقاضہ یہ تھا کہ اردو صحافت میں شدت پیدا ہو ان حالات کے ساتھ ہی ساتھ عالمی سطح پر بھی جو انقلابات رونما ہوئے خصوصا عالمی جنگ کی وجہ سے انسان جس تباہی و بربادی سے دوچار ہوا اس کا تقاضا بھی یہ تھا کہ دنیا کو رونما ہونے والے ہر نے واقعہ سے باخبر رکھا جائے چنانچے ان تقاضوں کے تحت جہاں کے ہفتہ وار اخبار جاری ہوئے۔  وہاں روزنامہ بھی سامنے آئے ان میں مدینہ اخبار  کا ذکر  خصوصا قابل ذکر ہے ۔ یہ    اخبار اگرچہ کافی پہلے بجنور سے مولی مجید حسن کی قیامت میں نکلنے لگا تھا لیکن 1930ء کے بعد اسے روزانہ اخبار کر دیا گیا اس سے پہلے لاہور زمیندار نکلنے لگا تھا یہ  اخبار  بھی 1930  اب کےآس پاس ہی روزنامے کی شکل میں نکلنے لگا جدوجہد آزادی میں اخبار  مدینہ اور زمیندار کا کردار ناقابل فراموش ہے اسی زمانے میں کلکتہ سے کہی روزنامے   جاری کیے گئے۔ خاص طور پر  روزنامہ ہند کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسی زمانے میں ممبئی سے خلافت پشاور سے روزنامہ کوہستاں جاری کیا گیا.

Advertisement
  • ١ زمیندار
  • ٢ ہمدرد
  • ٣  الہلال

زمیندار

 اردو صحافت کی تاریخ میں مولانا ظفر علی خان کو بابائے صحافت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے آپ نے زمیندار کی وساطت اور اردو صحافت کی جو خدمات انجام دیں ان میں صحافت کی تاریخ نظر انداز نہیں کر سکتی۔ مولانا ظفر علی خان کے والد مولانا سراج الدین نے ١٩٠٣ء میں مفت روزہ زمیندار لاہور سے جاری کیا تھا،  مالی مشکلات کی وجہ سے مولوی سراج کرم آباد منتقل ہوگئے ان کی وفات کے بعد مولانا ظفر علی خان نے زمیندار کی باگ دوڑ سنبھالی اور ایک بار پھر لاہور سے شائع کرنا شروع کیا جنگ طرابلس کے زمانے میں انہوں نے روزانہ کردیا یہ اخبار  برطانوی سامراج کے خلاف ایک زبردست تازیانہ کا درجہ رکھتا تھا اور اسی جہاد کی وجہ سے زمیندار تمام طبقوں میں بہت مشہور ہوا اس اخبار کی اس مجاہدانہ روش کی وجہ سے حکام وقت اس کے خلاف  تھے ۔ چناچہ اخبار کی ضمانت طلبی اور چھپائے خانے کی ضبطی  کا سلسلہ شروع ہوا جو آزادی کے وقت جاری رہا۔ اس کی بنیاد کی وجہ سے اس وقت کا کوئی دوسرا اخبار زمیندار کا مقابلہ نہیں کر سکتا مولانا ظفر علی خان چونکے شاعر بھی تھے چنانچہ  ان کی باغیانہ نظمیں اس کی صفہ اول پر  چھپتی تھی جو پورے ملک میں تہلکہ مچا دیتی تھی گورنر سر مائیکل اور ان کے بعد سر مانسٹر  اس اخبار کو کچل دینے کے در پے تھے لیکن زمیندار کے مداح اور خیرخوا ضمانت طلبی پر بڑی سے بڑی رقم فراہم کر دیتے تھے۔  جس کی وجہ سے اخبار مسلسل جاری رہتا تھا ،رولٹ ایکٹ کے خلاف جدوجہد میں اور جلیانوالہ باغ کے قتل عام کے دنوں میں مولانا ظفر علی خان کی تحریروں نے انگریزوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکا یا پریس  ایکٹ کے خلاف مہیم چلانے کے لئے ظفر علی خان انگلستان بھی گئے اور وہاں سے ایک ایسا مضمون شائع کیا جس سے آگ بگولہ ہو کر حکام نے  زمیندار کو بند کر دیا  ٨٠ ہزار روپے کی ضمانت طلبی پر اور پریس کی کو بھی ضبط کر لیا ۔ لیکن انہی دنوں ساری رقم فراہم کر دی گئی ۔

مولانا ظفر علی خان نے سر جان سائمن کا استقبال کرنے پر علامہ اقبال کے خلاف لکھا اور لالہ لاج پت رائے پر لاٹھی چارج پر نظم لکھی سردار بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو جب  پھانسی کی سزا دی گئی اور ان کی لاش ستلج  کے کنارے پر جلائی گی گیٹ لاہور میں مولانا نے تقریر کی اور فیالبدیع  نظم پڑھی جس نے پوری قوم میں آگ لگا دی ۔
مولانا کانگریس سے الگ ہوکر مسلم لیگ میں شامل ہوگئے تھے مگر جب لالہ بہاری چنانہ کی قیادت میں ایجیٹیشن کیوں کی گئی تو اس میں شامل ہوگئے.انہوں نے انگریزوں کے خلاف فل البدیع  منظوم تقریر کی اور اس طرح تقریر  میں اور صحافت میں وہ جوہر دکھائے جنہیں   آج بھی نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

Advertisement