شیخ محمد اقبال نام اور اقبال تخلص ہے۔٩ نومبر١٨٧٧ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔والد کا نام شیخ نور محمد اور والدہ کا نام امام بی بی تھا۔اقبال کا آبائی وطن کشمیر تھا کیونکہ ان کے آباواجداد کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ میں جابسے تھے۔ان کے اجداد کشمیری پنڈتوں میں سپرو خاندان کے برہمن تھے جو آج سے تقریبا ڈھائی سو سال پہلے مشرف بہ اسلام ہو کر سیالکوٹ چلے گئے تھے۔اقبال کو بھی کشمیری نژاد ہونے پر بہت ہی ناز تھا۔اقبال کی ابتدائی تعلیم مکتب میں شروع ہوئی بعد میں والد نے اسکاچ مشن اسکول میں داخل کرا دیا جہاں سے انھوں نے سید میر حسن سے عربی اور فارسی پڑھی،میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات بھی یہیں سے پاس کیے۔پھر مزید تعلیم کے لیے لاہور کے گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا اور وہاں سے بی۔ اے کا امتحان پاس کیا۔اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فلسفہ میں ایم-اے کا امتحان پاس کیا اور یونیورسٹی میں اول آئے۔پھر اورینٹل کالج لاہور میں تاریخ اور فلسفہ کے پروفیسر مقرر ہوئے۔اس کے بعد کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفہ کی ڈگری حاصل کی۔جرمنی سے پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور لندن میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔واپس آکر لاہور میں وکالت کی۔علم و ادب سے ان کا زندگی بھر لگاؤ رہا اس وجہ سے ان کا شمار دنیا کے بڑے عالموں اور مفکروں میں ہوتا ہے۔اور علامہ بھی کہلاتے ہیں۔حکومت کی طرف سے آپ کو "سر” کا خطاب ١٩٢٣ء میں ملا۔

اقبال نے تین شادیاں کیں مگر ان کی ازدواجی زندگی زیادہ خوشگوار نہیں رہی اور سبب یہ کہ ان کی مالی حالت کبھی بہت اچھی نہیں رہی۔١٠ جنوری ١٩٣٤ء کو اقبال کو نزلہ ہوا جو انفلوئنزا میں تبدیل ہوگیا۔پھر آواز بیٹھ گئی، دل کا عارضہ بھی ہوگیا، مرض بڑھتے گئے صحت خراب ہوتی گئی اور  آخرکار ٢١ اپریل ١٩٣٨ء کو انتقال ہوگیا۔

ڈاکٹر سر محمد اقبال کو تلاوتِ قرآن کا بچپن سے شوق تھا اور آواز بھی اچھی پائی تھی۔فجر کی نماز کے لیے والد کے ساتھ مسجد جاتے تھے شیخ صاحب تو نماز کے بعد دیر تک وہیں اوراد و وظائف میں مصروف رہتے،اقبال نماز کے بعد گھر آ کے تلاوت میں مشغول ہوجاتے۔شیخ صاحب مسجد سے واپس آتے تو بیٹے کی آواز سن کر خوشی سے پھولے نہ سماتے۔ایک دن نصیحت کی کہ بیٹا کلامِ پاک یہ سمجھ کر پڑھا کرو کہ اللہ تعالٰی تم سے ہی مخاطب ہے اور یہ تمہیں پر نازل ہوا ہے۔اس نصیحت کے بڑے اہم نتائج برآمد ہوئے۔کلام پاک کے رموز و نکات پر اقبال مسلسل غور کرتے رہے اور قرآن کریم کی تعلیم ان کے رگ و ریشہ میں سرایت کر گئی۔آخرکار ان کی شاعری سرتاسر کلامِ اللہ کی تفسیر بن گئی۔مثنوی رموز بےخودی میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ میری شاعری کا کوئی حرف قرآن حکیم سے باہر نہیں،اگر باہر ہو تو روز محشر مجھے ذلت و رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آے اور میری شاعری وجود میں آنے سے پہلے ہی فنا ہو جائے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال نے ہمیشہ عشقِ حقیقی میں شاعری کی ہے۔

حب وطن اقبال کی زندگی کا پہلا پیار تھا اور فطرت کے دلکش مناظر انھیں بہت عزیز تھے۔چنانچہ شعر کہنے شروع کیے تو پہلے انہی دونوں کو موضوعِ سخن بنایا۔”ترانہ ہندی”( سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا) کے اشعار آج بھی ہمارے خون کی گردش میں اضافہ کرتے ہیں۔اس دور میں وطن کے لیے اقبال کے دل میں کتنا درد تھا، یہ دیکھنا ہو تو "تصویر درد” کا مطالعہ کرنا چاہیے۔اسی طرح ان کی بہت سی نظموں اور غزلوں میں حب الوطنی کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔