غصہ کیا ہے؟,یہ کیوں آتا ہے؟,کب آتا ہے؟,اس کے نتائج کیا ہیں؟,آخر اس پر قابو کیسے پایا جائے؟۔۔۔۔کیا کبھی آپ نے سوچا؟
مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
"مومن کا امتحان غصہ میں ہوتا ہے۔”

اصل میں غصہ آپکی پہچان ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر انسان کو جاننا ہو تو اسے غصے کی حالت میں دیکھ لو۔ دنیا کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ غصہ زیادہ تر چھوٹوں پر آتا ہے۔ اور اگر کبھی بڑوں پر آ بھی جائے تو اتارا چھوٹوں پر ہی جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال میں آپ کے سامنے پیش کرتی ہوں تو چلیں اپنے گھر کی طرف ہی نظر ڈال لی جائے۔ فرض کریں آپ زمین پر سو رہے ہیں۔ اچانک آپ کی ٹانگ سے کوئی ٹکرایا اور آپ کی اچھی خاصی نیند خراب ہو جاتی ہے۔ غصے میں جب آپ ٹکرانے والے پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ سامنے آپ کے والد صاحب کھڑیں ہیں۔ تب آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟ یقیناً واپس آنکھیں بند کر کے سونا ہی بہتر سمجھیں گے۔ یہاں آپ کو دوبارہ نیند ہی آئی تھی کہ دوبارہ آپ سے کوئی ٹکراتا ہے۔ آپ جیسے ہی اس طرف نظر ڈالتے ہیں تو اس بار آپ کے گھر کا چھوٹا فرد مثلاً بھائی, بہن وغیرہ ہوئے تو میرا جہاں تک خیال ہے اس کی آج خیر نہیں ہوگی۔

غصے کے وقت انسان اپنے نفس پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ ہم مسلمان ہونے کی وجہ سے غصے میں بڑے چھوٹے کا لحاظ تو کر لیتے ہیں۔ لیکن جب انا درمیان میں آجائے تو ہم بڑے چھوٹے کا لحاظ بھی بھول جاتے ہیں‌۔ اور ہر غصہ ایک پچھتاوے کا سبب بنتا ہے۔ کیونکہ غصے میں کیے گئے ہر فیصلے جذباتی ہوتے ہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ انسان کو خوشی میں کوئی وعدہ اور غصے میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

صحیح بخاری صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ:
"حقیقی پہلوان وہ نہیں ہے جو غصے کے وقت کسی مقابل کو پچھاڑ دے اصل طاقت والا تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔”

کیا آپ نے کبھی اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کی ہے؟ شاید نہیں۔ کیونکہ غصے میں انسان کو ہوش ہی نہیں ہوتا۔ اپنے نفس پر قابو پانا سیکھئے۔ خدا سے ڈریئے اگر آپ کے کہے ہوئے الفاظ سامنے والے کو برے لگے اور اس نے صبر کر لیا تو معاملہ پھر آپ اور خدا کے درمیان آجائے گا کیونکہ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس سے پہلے آپ کا مخالف خدا کو اپنے ساتھ کرلے آپ خدا کو اپنا ہمدرد بنا لیں وہ اس طرح کہ تعوذ اور تسمیہ پڑھیں اور اس جگہ سے تھوڑی دیر کے لئے چلے جائیں اور صبر کر لیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جس نے غصے پر قابو پا لیا جبکہ وہ اس بات پر قدرت بھی رکھتا ہے کہ غصے کا اظہار کرکے اپنا بدلہ لے لے۔ تو قیامت کے روز اللہ تعالی اسے تمام لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اختیار دے گا کہ وہ جنت کی حوروں میں سے جسے چاہے پسند کرلے۔” (صحیح: جامع ترمذی)

جن لوگوں کو غصہ نہیں آتا اور جو اپنے غصے پر قابو پا لیتے ہیں۔ میرے نزدیک اس نے اپنی زندگی جیت لی وہ جیسے چاہے اپنی زندگی کو اپنے طور سے گزار سکتا ہیں۔ ورنہ غصے میں کیے گئے فیصلے ہماری زندگیوں کو غلط رخ دے دیتے ہیں۔ دنیا میں دو لوگ کامیاب زندگی گزارتے ہیں۔ ایک جو صبر کرتے ہیں اور دوسرا جن کے دل میں رحم ہوتا ہے جن میں یہ دونوں صفات نہ پائی جائیں وہ غصے میں نہ تو صبر کر پاتے ہیں اور نہ ہی کسی پر رحم اور نتیجتاً جذباتی اور غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں۔ تحریر کے اختتام پر میں ایک شعر عرض کرنا چاہوں گی۔ امید ہے آپ سب کو نہایت پسند آئے گا۔ارشاد کیا ہے؀

منہ میں زبان سب رکھتے ہیں لیکن
کمال وہ کرتے ہیں جو سنبھال کر رکھتے ہیں