Advertisement

غزل ایک رنگارنگ تہذیب کی امین ہے، غزل اختلافِ خیالات و مضامین کی ہم آہنگی کا سنگم ہے ۔غزل کی معنوی ہئیت اس بات پر دال ہے کہ اس کا ہر شعر ایک اکائی ہے اس کے باوجود اس اکائی کے دامن میں مختلف تہذیبیں یک رنگ ہو جاتی ہیں۔ اس یک رنگی کے ساتھ ساتھ ہمہ رنگ بھی ہے کہ پانچ یا سات اکائیوں میں مشترکہ تہذیب کی قوس قزح جگمگانے لگتی ہے۔ قوس قزح اپنے وحدت وجود کے باوجود اس وقت معتبر اور ہر دلعزیز بن سکتی ہے کہ جب وہ کثرت رنگا رنگی کا جلوہ دے، ٹھیک اسی طرح غزل بھی وحدت ہیئت اور اختلاف اکائی کے باوجود اپنے مجموعی شعری دامن میں رنگارنگ تہذیب کی امین بن کر افق ادب پر اس طرح جلوہ افروز ہو کہ ہر چشم بینا کا نور اور ہر دل ِذوق و شوق کے لیے سرور و راحت کا سامان بن جائے یہ وصف صنف ِغزل میں بدرجئہ اتم موجود ہے۔

تہذیبی اور روحانی ہم آہنگی کے لیے غزل کے دامن میں ایک نادر اور جمالیاتی جامع حربہ تلمیح کا بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس استعمال کی ایک اگلی اور جمالیاتی منزل اس تلمیح کے سیاق و سباق کے مطابق تخلیقی برتاوکا عمل ہے، اس تخلیقی اور جمالیاتی ہم آہنگی کے برتاوپر فراق کو ید طولیٰ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فراق کی غزل میں اختلافِ تلمیح و تہذیب، مشترکہ ہندوستانی تہذیب یا مشترکہ روحانی ہم آہنگی کا روپ دھار لیتی ہے۔ بقول فراق :

ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی ۔ میری باتیں بعنوانِ دگر وہ مان لیتے ہیں۔
​فراق کی غزل میں آدم کا وجود ایک منبع و مرکز یا وسیع استعارہ بن کر ابھرتا ہے، شعورِ فراق کے مطابق جس سے نہ صرف تمام تہذیبیں وجود پذیر ہوئی ہیں بلکہ اسی وجود کے سبب یہ رنگا رنگ تہذیبیں آباد بھی ہیں۔ یہاں تک کہ اس جہان ِرنگ و بو کی رونق، زیروبم، نشیب و فراز اور ذوق و شوق یا محبت و عشق کی محشر سامانیاں تمام کی تمام اسی وجودِ آدم سے وابستہ ہیں۔ اس طرح فراق نے شعوری طور پر ایک ایسے تلمیحی استعارے کو مرکز بنایا ہے جہاں تمام نسلی و تہذیبی رنگا رنگی،یک رنگی کے روحانی سنگم میں بغل گیر ہو سکتی ہے۔پھر اس پر ہنرمندی یہ کہ خاص عقیدہ و خیال کو محدودیت کے سائے سے آفاقی خیال کی کہکشاں میں لانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ یہ فنی ہنرمندی اس وقت میسر آ سکتی ہے جب تخلیقی صلاحیت پختگی کی امین بن جائے۔ حالانکہ فراق نے جس نظریہ کو آفاقیت کی فضا یا مشترکہ تہذیبی دائرے میں لانے کی کوشش کی ہے وہ دراصل اہل کتاب کے عقیدے کا حصہ ہے۔ فراق کی غزل میں اختلافِ تلمیح کی معنوی ہم آہنگی کے رنگ ملاحظہ ہوں:

زہے سوزِ‌ غم ِآدم خوشا سازِ دلِ آدم
اسی اک شمع کی لَو نے جہان ِتیرگی بدلا

بہ فیض ِآدم ِخاکی زمیں سونا اگلتی ہے
اسی ذرّے نے دورِ مِہر و ماہ و مشتری بدلا

عشق کی آنچ تری ہی کسر تھی
اب اکسیر ہے خاکِ آدم

پلٹ رہے ہیں غریب الوطن، پلٹنا تھا
وہ کوچہ روکشِ جنت ہو، گھر ہے گھر پھر بھی

Advertisement

زرتشتیوں کے یہاں دو خدا مانے جاتے ہیں، ایک نیکی کا خالق اور ایک بدی کا خالق۔ جس کو بدی کا خالق مانا جاتا ہے اسے ‘اہرمن’ کہتے ہیں۔اسلام، یہودی اور عیسائی مذاہب میں اسے خالق نہیں بلکہ ابلیس، شیطان، شر وغیرہ کے نام دیے جاتے ہیں ،جو بدی کا سبب بنتا ہے۔ ہاں یہ تصور ہندوستان میں ویدانتی فلسفے کے قریب ہے۔ اس طرح فراق نے ایک تہذیبی تلمیح کو ایک وسیع استعارے کے پیراے میں برت کر اختلافی نظریوں کو روحانی ہم آہنگی میں لانے کے لیے کمال ہنرمندی کا ثبوت دیا ہے:

دیے ہی جاتی ہے ترغیب جرم ِآدم
غضب ہے سوزِ دل ِاَہرَمَن کی آنچ نہ پوچھ

ہندوستان میں کچھ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ کنواری لڑکیاں یا دوشیزائیں اس احساس کے ساتھ گنے کے کھیتوں میں اچھلا کودا کرتی تھیں کہ جو جتنی اونچی چھلانگ لگا لے گئی گنا اتنا ہی بڑا ہوگا۔ دوشیزاؤں کے لئے یہ پاکیزہ خیال صرف اور صرف ہندوستانی تہذیب کا حصہ ہے لیکن فراق نے اس تلمیح کو مِہرِ قیامت کی ترکیب کے ساتھ جوڑ کر تلمیحی ہم آہنگی پیدا کر دی ہے اور اپنے تخلیقی شعور و عمل کے ذریعہ دو مختلف تہذیبی تلمیحات کو ہم آہنگ کر لیا ہے:

اب ان کو مِہر ِقیامت کی آنکھیں ڈھونڈتی ہیں
ہوئے جو کھیت کسی کی حیا اٹھانے میں

اس شعر کے بین السطور سے جو یہ معنی میں نے نکالے ہیں وہ فراق کی ایک رباعی سے بھی واضح ہوجاتے ہیں۔ اس سلسلے کی ایک رباعی ملاحظہ ہو:

یہ ایکھ کے کھیتوں کی چمکتی سطحیں
معصوم کنواریوں کے دلکش دوڑ میں
کھیتوں کے بیچ میں لگاتی ہیں چھلانگ
ایکھ اتنی اگے گی جتنا اونچا کودیں

دنیا کی مختلف تہذیبوں میں وجودِ باری تعالیٰ کے متعلق بہت ہی اہم اور مشکل ترین فلاسفی موجود ہے۔ابتداے تصوفِ اسلامی میں وحدانیت کا تصور اہم ہے، بعد کے عربی اور ایرانی تصوف میں وحدت الوجود کا ایک مخصوص تصور وجود میں آجاتا ہے، بعدازاں وحدت الوجود کے جزوی معانی کے اختلاف کے سبب وحدت الشہود کا نظریہ آیا۔ ہندوستان میں اولاً ویدِ مقدس میں وحدانیت کا خالص تصور موجود ہے، پھر ویدانتی نظریہ خالق ِواحد کی صفات کے متعلق ہندوستانی فلسفیوں نے پیش کیا برہمہ (خدا ) کی صفات بھی اس کی ذات یعنی وجود کا عین ہیں۔ برہمہ یعنی خالق، وشو یعنی پرورش کرنے والا اور شیو یعنی فنا کرنے والے کی شکلوں میں ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے ویدانتیوں کے نزدیک برہمہ، وِشنو اور شِیو یہ تینوں شکلیں ایک برہمہ کی ہیں جو اس نے تین عظیم کام انجام دینے کے لئے اختیار کر رکھی ہیں۔

حاصل کلام یہ کہ ہندو دھرم یا تہذیب کے پیرو برہمہ کو تو آخری اور سب جگہ موجود رہنے والی ہستی مانتے ہیں لیکن تین بڑے دیوتا برہمہ، وِشنو اور شِیو کو بھی اسی طرح مانتے ہیں اور ان کی پوجا اور حمد و ثنا کرتے ہیں۔ بعد میں بجریانی سدھو اور ناتھ پنتھیوں نے مذہب کے ظاہری اعمال کی بجا آوری کے خلاف آواز بلند کی اور صرف اس تصور پر اصرار کیا کہ معبودِ حقیقی سے لَو لگانے میں ہی نروان (نجات) کی راہ ہے نہ کہ دھرم کے ظاہری اعمال کی بجا آوری میں، ان کے بعد نِرگن وادیوں نے بھی اس پر زور دیا لیکن ایک جزوی ترمیم کے ساتھ ،یہ لوگ برہمہ یعنی معبود ِحقیقی یا نور کی تجسیم کے قائل تھے جب کہ نر گن وادی ایسے نور کے قائل تھے جس کی کوئی شکل و صورت یا تجسیم نہیں ہو سکتی۔ یہ نظریہ اسلامی صوفیا سے کچھ قریب تھا۔

ان کے برعکس ویشنو علما اور بھگتی تحریک کے زیر اثر بلبھ اچاریہ، شنکراچاریہ ،رامانج چاریہ اور ان کے چیلے ہیں جنہوں نے برہمہ یا ایشور کو رام چندر جی اور کرشن چندر جی میں حلول کر کے تجسیمی صورت میں دیکھا۔اس طرح یہ رنگا رنگ تہذیبیں بعض نرمیوں اور حذف و اضافہ کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ یہی وہ عناصر ہیں جن سے مشترکہ ہندوستانی تہذیب کی تشکیل ہوئی اسی کو ہم مشترکہ ہندوستانی تہذیب یا ہندوستانی روحانی ہم آہنگی بھی کہہ سکتےہیں۔ انہیں مختلف تہذیبوں کے لین دین سے ادب میں وحدت الوجود، وحدت الشہود یاوجودی اور شہودی کی بحثیں وجود میں آئیں ۔ ان نظریوں کو فارسی میں ”ہمہ اوست“ اور ”ہمہ از اوست“ کی تعبیریں بھی دی گئیں.

اس کی تفصیل کی گنجائش یہاں نہیں۔ یہاں پر میرا مقصد صرف اتنا ہے کہ اس بات کو واضح کروں کہ فراق قدیم ہندوستان کی تہذیبوں اور مخلوط تہذیبوں ،تمام کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہوں نے مختلف تہذیبوں کی ہم آہنگی کو اپنی غزل کی تخلیقی شعریات کا حصہ بنایا ہے۔ فراق کی غزل کے تہہِ متن یا بین السطور میں جب ہم غور و فکر کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ ان تمام تہذیبوں کو انہوں نے کہیں اختلاف ِتلمیحات اور کہیں مذہبی اور ملکی لفظیات کے پیراےمیں پیش کر کے تہذیبی اور روحانی ہم آہنگی میں تخلیقی ہنر مندی کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے اپنے غزلیہ کلام میں ”حسنِ مطلق“ کو وجودی، شہودی، تجسیمی، غیر تجسیمی اور کثرت در وحدت، تمام طرح کے رنگوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس یک رنگی میں ہمہ رنگی کے حسن کی طرف فرؔاق نے خود بھی اشارہ کیا ہے:

مری غزل میں ملے گا تجھے وہ عالم ِراز
جہاں ہیں اک ازل سے حقیقت اور مجاز

وہ عین محشر ِ نظارہ ہو کہ خلوت ِراز
کہیں بھی بند نہیں ہے نگاہِ شاہد باز

نجات کے لیے نہ انتظار ِمرگ و حشر کر
کہ قید وبندِ زندگی میں راز ہیں نجات کے

وحدت ِعاشق و معشوق کی تصویر ہوں
نَل کا ایثار تو اخلاص ِدمن مجھ کو دیا

ایک ایک صفت فِراق ! اس کی
دیکھا ہے تو ذات ہو گئی ہے

جسم اس کا نہ پوٗچھیے کیا ہے ؟
ایسی نرمی تو روٗح میں بھی نہیں

نئے منصور ہیں ،صدیوں پرانے شیخ و قاضی ہیں
نہ فتوے کفر کے بدلے نہ عذرِ دار ہی بدلا

یہ قشقہ سرخ سرخ روکش چراغ ِطور ہے
جبینِ کفر سے عیاں رموز الٰہیات کے

وحدت و کثرت اسی کے جلوے ہیں آنکھیں تو کھول !
زندگی خلوت کی خلوت ، انجمن کی انجمن

جہاں میں تھی بس اِک افواہ تیرے جلووں کی
چراغِ دَیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا ؟

تو ایک تھا مِرے اشعار میں ہزار ہوا
اِس اک چراغ سے کتنے چراغ جل اٹھے

فِرؔاق ! ایک ہوئے جاتے ہیں زمان و مکان
تلاشِ دوست میں، مَیں بھی کہاں نکل آیا ؟

فرؔاق کے یہاں محبت و عشق کا جو تصور ہے وہ مشترکہ ہندوستانی تہذیب کا امین ہے۔ اگرچہ اس پر کہیں کہیں مشرقیت، ایرانی تہذیب کی بعض کیفیات اور خاص طور پر اقبال کے نظریۂ عشق کا عکس دکھائی دیتا ہے لیکن فراق نے اس نظریے کو ویدانتی، نرگن وادی اور مذاہب کی ظاہری رسومات و روایات کے ساتھ تلمیحاتی اور علامتی پیراے میں اس طرح اپنی غزل کی شعری تخلیقیت میں ڈھالا ہے کہ رنگارنگ تہذیبیں کچھ اس طرح ہم آہنگ ہو تی ہیں کہ روح اور قالب کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔ فراق کی غزل سے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

توڑا ہے لامکاں کی حدوں کو بھی عشق نے
زندانِ عقل! تیری تو کیا کائنات ہے ؟

آج تو کفر ِعشق چَونک اٹھا
آج تو بول اٹھے ہیں بت خانے

مآلِ عشق سے اونچا بہت تھا عشق ان کا
مآل ِعشق سے خائف نہ غزنوی نہ آیاز

سرور ِکفّار ہے عشق اور امیرالمومنین
کعبہ و بت خانہ اوقاف ِدل ِعالی جناب

ہر درد ایک منزلِ معراج عشق ہے
درد اس نگاہِ ناز سے اٹھتا ہے آج بھی

عالمِ قدس کی پڑتی ہیں انہیں پر چھوٹیں
حسن بد مست سہی عشق سیہ کار سہی

عشق بھی اہلِ طریقت میں ہے ایسا تھا خیال
عشق ہے پیرِ طریقت مجھے معلوم نہ تھا

ازل سے سینۂ جبریل جس سے ہے محروم
قفس میں پال رہا ہوں وہ حسرتِ پرواز

جلوۂ حسن نِثار ِغم ِپنہاں کر دے
عشق توفیق جو دے ،وصل کو ہجراں کر دے

علاوہ ازیں فرؔاق نے اپنی غزل میں مذہبی اور ادبی رسوم و روایات کی تلمیحات کو اس طرح برتا ہے کہ مختلف مشرقی اور بالخصوص ہندوستانی تہذیبیں غزل کے ایک ایک شعر میں سمٹ آئی ہیں۔خواہ وہ دَیر و حرم کی رسمیں ہوں، یا عربی اور ایرانی غزلیہ روایتیں ہوں یا ہندوستانی عورت ودیوی کے متعلق ہندوستانی تہذیب ہو، اختلافِ تلمیح کے باوجود غزل کے شعر میں یکجان ہو گئی ہیں۔ یہ وصفوں فراق کے شعری لہجے میں ملاحظہ ہوں:

دلوں کو تیرے تبسّم کی یاد یوٗں آئی
کہ جگمگا اٹھیں جس طرح مندِروں کے چراغ

خضر خود کھو جائیں، تجھ کو ڈھونڈنے نکلیں اگر
اے دلِ آوارہ ! تو اتنا بہک، اتنا بہک

خدا گواہ کہ عورت ہے ملکۂ آفاق
یہ مِہر و ماہ و کواکِب سب اس کے باج گزار

نئی منزل کے میر کارواں بھی اور ہوتے ہیں
پرانے خضر رہ بدلے وہ طرزِ رہبری بدلا

ہندوستانی عورت کا جب شوہر کہیں باہر چلا جاتا ہے تو چاندنی رات بیوی کے لئے قیامت سے کم نہیں ہوتی، ایسے لگتا ہے کہ چاندنی رات ناگن کی طرح اسے ڈس رہی ہے۔ اس کی حالت و کیفیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے، سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ ہونے کا احساس اسے ستاتا ہے۔ ایسی نازک کیفیات اور دلی جذبات کو فراق نے اپنی ایک رباعی میں وضاحت کے ساتھ اور غزل کے ایک شعر میں رمزیہ اور تلمیحی پیراے میں ڈھالا ہے۔ پہلے رباعی دیکھیں تو پھر غزلیہ شعر کی تفہیم آسان ہو جائے گی:

چہرے پہ ہوائیاں نگاہوں میں ہراس
ساجن کے برہ میں روپ کتنا ہے اداس
مکھڑے پہ دھواں دھواں لَٹاؤں کس طرح
بکھرے ہوئے بال ہیں کہ سیتا بن باس (روپ)

اب فراق کا غزلیہ شعر ملاحظہ ہو:
رات چلی ہے جوگن ہو کر بال سنوارے لَٹ چھٹکائے
چھپے فرؔاق لگن پر تارے دیپ بجھے ہم بھی سو جائیں

ادبی تلمیح کی دو مثالیں دیکھیں:
جنون ِمحبت ان آنکھوں کی وحشت
بیاباں بیاباں غزالاں غزالاں

اتنی وحشت ،اتنی وحشت، صدقے اچھی آنکھوں کے
تم نہ ہرن ہو، میں نہ شکاری، دوٗر اتنا کیوں بھاگو ہو

فرؔاق نے ایک مقام پر ابراہیمی تلمیح کو تو ذکر کیا ہے لیکن وضاحتی انداز میں تلمیح براےتلمیح نہیں بلکہ اس کے لوازم کو رمزیہ پیراے میں اس طرح برتا ہے کہ ہر میدانِ جدو جہد کو اس کے ساتھ جوڑدیاہے۔نیز انسانیت کے پائمال ہونے کے خدشے کے وقت اس تلمیح سے فیض اٹھانے کی ترغیب دی ہے اور سخت سے سخت میدان میں بھی میدان کے مآل کی رجائیت پر اصرار کیا ہے۔آخرکار ایک مخصوص تلمیح کو ایک اختصاص سے نکال کر آفاقی صورت دے دی ہے۔ اس طرح اختلاف ِتلمیح کے باوجود تہذیبی ہم آہنگی یوں قائم کر لی ہے:

زمانہ کود پڑا آگ میں یہی کہہ کر
کہ خون چاٹ کے ہو جائے گی یہ آگ بھی باغ

آخر میں اس مسئلہ پر بھی غور و فکر کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے کہ فراق کی غزل کے متعلق مذکورہ بالا عناصر پر جو بحث ہوئی ہے، اس کے متعلق فراق گورکھپوری کا کیا فکر و شعور ہے۔ ہاں فراق صاحب کو یہ جو تہذیبی اور روحانی ہم آہنگی کا شعور ملا ہے اس فیض کا سرچشمہ وہ ہندوستانی خاک کو قرار دیتے ہیں۔ اختلافوں کے اس موسم میں ہم آہنگی کی جو چاشنی پیدا ہوئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سرزمین ِہندو پر دنیا بھر کی قومیں یا تہذیبیں آکر جو آباد ہوئی ہیں ان کی آمیزش سے یہ متوازن ، معتدل روحانی و تہذیبی ہم آہنگی تیار ہوئی ہے۔یہ سب کچھ خاکِ ہند کی دین ہے، یہ لازوال دولت ارضِ جنت بھی مجھے نہیں دے سکتی تھی جو خاک ِہند نے دیا ہے ۔چوں کہ جنت کا وصف تو یک رنگ ہونا ہے جبکہ خاک ہند رنگا رنگ ہے۔ فرؔاق صاحب کے اس شعور کو ان کے غزلیہ کلام میں ملاحظہ کریں:

سر زمینِ ہندو پر اقوامِ عالم کے فرؔاق
قافلے بستے گئے ہندوستان بنتا گیا

ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی
مری باتیں بعنوان دِگر وہ مان لیتے ہیں

ارض ِجنت کے بھی بس میں نہیں جس کا دینا
ہند کی خاک نے وہ سوزِ وطن مجھ کو دیا

مجموعی طور پریہ کہا جاسکتا ہے کہ فراق کی غزل اختلافِ تلمیح اور اختلاف ِتہذیب کے باوجود تہذیبی و روحانی ہم آہنگی کا مظہر ہے، جس میں انہوں نے مشرقیات کے رنگارنگ تہذیبی فلسفوں کو مختلف التلمیح تہذیبی و مذہبی اور ادبی لفظیات کو غزلیہ شعری تخلیق میں اس طرح ڈھالا ہے کہ وہ دو قالب یک جان ہوکر روحانی اور تہذیبی ہم آہنگی کی عمدہ مثال بن گئے ہیں، جو رنگا رنگی خاکِ ہند کے افق پر قوس قزح بن کر ظاہر ہوئی ہے وہ رنگارنگی ارضِ جنت میں بھی فرؔاق کو نظر نہیں آئی۔ فراق کا تخلیقی ہنر یہ ہے کہ انہوں نے اختلاف ِتلمیحات کے ادبی حربے کو برت کر اس میں روحانی اور تہذیبی ہم آہنگی کو سمیٹ لیا ہے۔ اس طرح فراق کی غزل روحانی اور تہذیبی ہم آہنگی کی امین ثابت ہوئی ہےاور اس منفرد ہنر کی اَور ہمیشہ اہل ِعلم و ادب کی نظریں اٹھتی رہیں گی۔

مصادر

1. انتخاب فراق گورکھپوری۔ انجمن ترقی اردو ہند 2001
• 2. انتخاب غزلیات۔ مرتبہ پروفیسر ارتضیٰ کریم (شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی دہلی، 2012 )
• 3. منتخب غزلیں۔ اترپردیش اردو اکیڈمی لکھنؤ 2006
• 4. اردو انسائیکلوپیڈیا۔ فضل الرحمن ( قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی 2010)
• 5. روپ۔ مرتبہ مطرب نظامی فرید بک ڈپو پرائیوٹ لمٹیڈ نئی دہلی
• 6. ہندی ادب کی تاریخ۔ محمد حسن (ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی-2009 )

• ڈاکٹر محمد آصف ملکاسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو
بابا غلام شاہ یونیورسٹی راجوری جموں کشمیر