ویلنٹائن ڈے کی حقیقت

صدیوں قبل اٹلی کے دارالحکومت روم میں بت پرستی عام تھی۔تیسری صدی میں رومیوں کے بادشاہ کلاڈیوس دوم نے شادی پر پابند لگا دی اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ چاہتا تھا کہ روم ایک طاقتور قوم بنے اور مزید فتوحات حاصل کرئے۔اس مقصد کے لیے اس نے فوج میں نوجوان بھرتی کرنا شروع کیے لیکن نوجوانوں کی تعداد قلیل تھی۔نوجوانوں کو پابندیوں کے شکنجے میں جکڑ کر بادشاہ روم کو سوپر پاور بنانا چاہتا تھا۔

اسی اثناء میں عیسائیوں کا ایک پادری جس کا نام سینٹ ویلنٹائن تھا لوگوں کی چھپ کر شادیاں کرواتا۔ ایک روز بادشاہ کو معلوم ہوگیا،بادشاہ نے اسے قیدکردیا۔ اسی دوران جیلر کی بیٹی کو دل دے بیٹھا۔بادشاہ کو خبر ہوئی تو اس پر مقدمہ چلا اسے مذہب تبدیل کرنے کا اختیار دیا گیا لیکن اس نے انکار کردیا اور 14 فروری 296ء کو اسے سزائے موت دی گئ۔اس کے آخری خط میں اپنی محبوبہ کے لیے یہ الفاظ درج تھے” فرام مائے ویلنٹائن”

دوسری طرف یہ تہوار رومیوں کے دیوتا لوپرکالیا سے بھی تعلق رکھتا ہے۔اس تہوار کو منانے کا طریقہ یہ تھا کہ وہ لوگ کتے اور بکری کو ذبح کرتے اور دو طاقتور مضبوط نوجوان اپنے جسم پر کتے اور بکری کے خون کا لیپ کرتے اور پھر دودھ سے نہاتے، اس کے بعد ایک بڑا قافلہ سڑکوں پر نکلتا جس کی قیادت انہی دو نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتی۔ راستے میں انہیں جو بھی ملتا اسےچمڑے کے دو ٹکڑے سے مارتے۔ رومی عورتیں بہت خوشی سے اس ٹکڑے سے مار کھاتیں کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق اس سے انہیں شفا ملتی اور بانجھ پن دور ہوجاتا۔لیکن جب رومیوں نے عیسائیت کو قبول کر لیا توانہوں نے بت پرستی کی بجاۓ اسے سینٹ ویلنٹائن سے منسوب کردیا ۔کیونکہ اس نے اپنے مذہب عیسائیت کو ترجیح دی اسی وجہ سے اسے “محبت کا شہید” بھی کہا جاتا ہے۔بعد میں خون کے لیپ سے ہٹ کر اس باطل ، فرسودہ تہوار کو قرعہ اندازی کے طریقے سے منایا جانے لگا۔کم عمر لڑکیوں کے نام ایک پرچی پر لکھ کر قرعہ اندازی کی جاتی نوجوان لڑکے پرچی کو نکالتے جس لڑکی کا نام نکلتا اس کے ساتھ ایک سال تک بغیر شادی کےتعلق استوارکرتے۔قرون وسطیٰ میں اٹلی سے شروع ہونے والی اس رسم کو دفن کر دیا گیا تھا مگراٹھارویں اور انیسویں صدی میں بےحیائی پر مبنی اس تہوار میں دوبارہ روح پھونک دی گئ۔

پاکستان میں جس طرح نیو ائیر پر آتش بازی کا رواج ہے اسی طرح اس نوجوانوں کی اکثریت ویلنٹائن ڈے بھی مناتی ہے ۔عوام کی اکثریت اگرچہ اس تہوار کو ناپسند کرتی ہے مگر اس دن دکانوں پر چاکلیٹ، ٹیڈی بئیر ، پرفیوم ، کارڈذ ، ہارٹ شپ بالونز اور کیک ، سرخ رنگ کی مٹھائی ، سرخ لباس میں ملبوس نوجوان ہر طرف نظر آتے ہیں۔سرخ گلاب کے پھولوں کی فروخت اس روز عروج پر ہوتی ہے،بڑے بڑے ہوٹلوں میں ڈنرز کی بکنگ کی جاتی ہے،سوشل میڈیا پر اس دن اسی حوالے سے پوسٹیں کی جاتی ہیں ۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ مغرب ایک آزاد معاشرہ ہے جس کی تہذیب ، روایات ہم سے بالکل الگ ہیں،ان کا مقصد اور محور صرف اورصرف ہوس پرستی کو فروغ دے کر جنسی تسکین حاصل کرنا ہے۔

اسلام تو سراپا محبت ہے ،محبت کے لیے ویلیٹائن کے نام پر بے حیائی کو فروغ دینا ہماری تہذیب نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاتھا :”جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے۔”اسلام ایک امن پسند دین ہے جو حیاء کا درس دیتا ہے۔انسان اور جانور میں واضح فرق کرنے والی چیز حیا ہے،فرمان رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے جب حیاء نہ رہے تو جو جی میں آۓ کرو۔ہم اپنا کلچر ، روایات ، اقتدار کو نظر انداز کر کے اندھا دھند مغربی کلچر کو فالو کررہے ہیں، ا س کے نتائج اور حقائق جانے بغیر ۔انگریز برصغیر سے برسوں پہلے چلا گیا لیکن ہم آج بھی انگریز کی ذہنی غلامی کا شکار ہیں۔!

تحریرمقدس حبیبہ