Afsana Ki Tareef in Urdu/Short Story

اردو افسانہ

داستان ناول اور افسانہ دراصل ایک ہی نثری صنف کے مختلف روپ ہیں۔ان تینوں کو ملا کر ‘افسانوی ادب‘ یا ‘فکشن‘ کا نام بھی دیا جاسکتا ہے۔ان تینوں کی بنیادی خصوصیت ایک ہے اور وہ ہے قصہ پن۔یعنی ہر قدم پر یہ جاننے کی خواہش کے آگے کیا ہوا اور اس کے بعد کیا ہونے والا ہے۔یہ کہانی پن یا قصہ پن ہی فکشن کی جان ہے۔

جب انسان کو بہت فرصت تھی تو وہ ایسے قصّے سنتا اور سناتا تھا جو بہت طویل ہوتے تھے۔اس زمانے میں وہ ایسی باتوں اور ایسی چیزوں پر یقین کر لیتا تھا جو عقل کو دنگ کردیتی ہیں۔ان کو فوق فطری عناصر کہا جاتا ہے۔داستانوں میں ان کی بہتات ہوتی تھی۔مگر زمانے کا ورق پلٹا ،انسان کی مصروفیت بڑھی اور غیر فطری باتوں پر سے اسکا ایمان اٹھ گیا۔زندگی کے حقیقی واقعات کو اس نے اپنے قصوں کا موضوع بنایا اور غیر ضروری طوالت سے دامن بچایا تو ناول وجود میں آیا۔مصروفیت اور بڑھی تو افسانہ وجود میں آیا۔افسانہ چھوٹا سا ہوتا ہے اس لیے اس میں پوری زندگی کو پیش نہیں کیا جا سکتا۔اس میں زندگی کے کسی ایک رخ سے اور کردار کے کسی ایک پہلو سے سروکار ہوتا ہے۔افسانے کے اجزاے ترکیبی بھی وہی ہوتے ہیں جو ناول کے ہیں مگر افسانے کا پیمانہ چھوٹا ہوتا ہے اس لیے ان کے اجزائے ترکیبی کے برتنے کا انداز بھی بدل جاتا ہے۔

افسانے سے مراد ایسی نثری کہانی ہے جس میں کوئی ایسا واقعہ بیان کیا گیا ہو جس کی ابتدا ہو، ارتقاء ہو، اور خاتمہ ہو اور جو زندگی کی بصیرت میں اضافہ کرے۔دوسرے لفظوں میں وہ نثری کہانی جس میں زندگی کے کسی ایک گوشے یا رخ کو کم سے کم الفاظ میں اجاگر کیا جائے۔افسانہ مغربی ادب سے مستعار لیا گیا ہے لیکن اس کے موضوعات ابتدا سے ہی مقامی عناصر پر مشتمل رہے ہیں۔

مختصر افسانے کی مختلف تعریفیں کی جاتی ہیں۔
*اڈ گرالین پو کے مطابق "افسانہ وہ مختصر کہانی ہے جو آدھ گھنٹے سے لے کر ایک یا دو گھنٹے کے اندر پڑھی جاسکے ۔گویا افسانہ اتنا مختصر ہونا چاہئے کہ اسے ایک نشست میں پڑھا جاسکے” لیکن اس تعریف میں افسانے کی فنی ساخت سے متعلق وضاحت نہیں ہوتی۔
*واشنگٹن ارنگ جس نے انیسویں صدی کے آغاز میں مختصر افسانے کی ابتداء کی، لکھتے ہیں”مختصر افسانے کو پڑھ کر قاری کے دل پر ایک خاص کیفیت گزر جاتی ہے اور یہی مختصر افسانے کی پہچان ہے”
*افسانے کی یہ بھی تعریف کی گئی ہے کہ مختصر افسانہ افسانوی ادب کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور مختصر ترین صنف ہے۔
*پروفیسر وقار عظیم کے مطابق”مختصر افسانہ ایک ایسی نثری داستان ہے جو بآسانی آدھ گھنٹہ سے لے کر دو گھنٹے تک پڑھ سکیں اور جس میں اختصار یا سادگی کے علاوہ اتحاد اثر،اتحاد زماں،اور اتحاد کردار بدرجہ اتم موجود ہوں”۔
*افسانے کے جدید نقاد ڈاکٹر فردوس فاطمہ نصیر افسانے کی تعریف یوں کرتی ہیں”مختصر افسانہ وہ صنفِ ادب ہے جس میں نہایت اختصار کے ساتھ نثر میں زندگی کے کسی ایک پہلو کی خیر کن جھلک فنی طریقہ پر دکھائ جائے”۔
*ڈاکٹر اختر نے اپنے مضمون ‘تحقیق و تنقید‘ میں افسانے کی تعریف یوں کی ہے”ایک اچھا افسانہ ایک کامیاب ڈرامے کی طرح ہے کہ ایجاز کا جس میں حسنِ کامل ہوتا ہے اور ناظرین کے لیے ذہنی مسرت کا سامان مہیا کرتا ہے”۔
افسانہ ایک حقیقت پسندانہ صنف ادب ہے اس میں زندگی کے کسی ایسے گوشے یا واقعے یا زندگی کے کسی ایک پہلو کو مؤثر طریقے سے بیان کیا جاتا ہے۔مختصر الفاظ میں نہایت اختصار کے ساتھ اپنی بات کو قارئین تک پہنچایا جاتا ہے۔ناول کی طرح افسانے میں بےشمار کردار بھی نہیں ہوتے، محدود تعداد میں کردار ہوتے ہیں۔یا اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ افسانے میں ایک یا ایک سے زیادہ کردار ہو سکتے ہیں۔منظر نامہ، پلاٹ، یا مکالمہ بھی ہو سکتا ہے۔

لیکن ادھر افسانے میں بہت تبدیلیاں ہوئی ہیں اور افسانے کی کوئی ایک تعریف مکمل نہیں کی جاسکتی،دراصل بدلتی ہوئی زندگی اور زمانے کے بدلتے ہوئے مزاج کے ساتھ ساتھ افسانے کی پیشکش اور ہئیت میں بھی تبدیلیاں ہورہی ہیں۔چناچہ افسانے کی اہم خوبی اس کا اختصار ہے۔داستان اور ناول کے مقابلے میں افسانہ بہت مختصر ہوتا ہے البتہ اس کے اختصار کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔

Close