گو جوانی میں تھی کجائی بہت
پر جوانی ہم کو راس آئی بہت

زیر برقع تو نے کیا دکھلا دیا
جمع ہیں ہر سو تماشائی بہت

Advertisement

آہٹ پہ اس کی اور پس جاتے ہیں دل
راس ہے اس کو خود آرائی بہت

چور تھا زخموں میں اور کہتا تھا حر
راحت اس تکلیف میں پائی بہت

Advertisement
Altaf Hussain Hali Ghazal 1

آرہی ہے چاہ یوسف سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

وصل کے ہو ہو کے سامان رہ گئے
مینہ نہ برسا اور گھٹا چھائی بہت

جانثاری پر وہ بول اٹھے مری
ہیں فدائی کم، تماشائی بہت

ہم نے ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کردیا
خاکساری اپنی کام آئی بہت

کردیا چپ واقعات دہر نے
تھی کبھی ہم میں بھی گویائی بہت

گھٹ گئی خود تلخیاں ایام کی
پاگئی کچھ بڑھ شکیبائی بہت

ہم نہ کہتے تھے کہ حالی چپ رہو
راست گوئ میں ہے رسوائ بہت