Advertisement

اردو ادب میں مزاح نگاری کی روایت کسی نہ کسی شکل میں ابتدا ہی سے موجود تھی لیکن اکثر و بیشتر مزاح نگاروں کی یہ کوشش پھکڑ بازی کی حد تک پہنچ جاتی تھی۔ کہ اس سے لطف اندوز ہونا کسی بھی شریف آدمی کے بس کی بات نہیں تھی۔ شائستہ مزاح نگاری کی روایت کو یورپ میں خصوصاً انگلستان میں ایڈ یسن اور swift نے فروغ دیا ۔جن کے مزاحیہ کالموں نے ساری دنیا کو متاثر کیا اردو صحافت کے ذریعے مزاحیہ کالم نگاری کی روایت کو فروغ ملا۔ جس کی داغ بیل منشی سجاد حسین نے اودھ پنچ  سے 1877ء  میں ڈالی 1877ء میں  ہندوستانی معاشرے میں نہ جانے کون سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ کہ اچانک طنز و مزاح نگاروں کا ایک قافلہ ابھر  آیا اور نہ صرف انفرادی طور پر اخباروں میں  کالم لکھے جانے لگے۔ بلکہ پورا اخبار ہی اس روایت کو پروان چڑھانے کے لئے اودھ پنچ کے عنوان سے ابھر آیا۔

اودھ پنچ کے لکھنے والوں میں اس کے ایڈیٹر منشی سجاد حسین کے علاوہ تیربھون ناتھ ،رتن ناتھ سرشار ، مچھو بیگ، ستم ظریف ، جوالہ پرشاد، نواب سید احمد آزاد اکبر الہ آبادی قابل ذکر ہیں ۔ان قد آور طنز و مزاح نگاروں نے صبح معنوں میں اردو کے مزاحیہ ادب کو پایا  اعتبار بخشا اودھ پنچ کے بعد  ہندوستان کے گوشے گوشے میں پنچ نام کے اخبار نکالنے لگے ۔مثلا پنجال پہنچ ، لاہور پہنچ ،جلندھر پنچ، بنارس پنج ، آگرہ پہنچ ، دکن پنچ  نہ جانے کتنے پنچ اور نکلنے لگے لیکن جو مقام اودھ پنچ کو حاصل ہوا وہ اور کسی کے حصے میں نہ آیا 36  برس تک اودھ پنچ نے اردو  طنزومزاح کی خدمت انجام دی۔مایاناز مضامین شائع کیے جو اردو کے طنز و مزاح ادب کا قابل ذکر حصہ ہیں۔ اودھ پنچ  کا یہ کارنامہ کچھ کم قابل تحسین نہیں ہے ۔  کہ اس لیے لکھنے والوں نے زبان کو نہ صرف آسان اور عام فہم بنایا بلکہ اس کی لطافت اور شیرانی میں اضافہ کیا ہے جو ان کی تحریروں کی ضد میں نہ آیا ہو۔اودھ پنچ اور اس طرح کے رسالوں کی ظرافت مجموعی اعتبار سے چاہے علی’  نہ لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ انہوں نے طنز و ظرافت کے لیے بنیاد قائم کرنے کا فریضہ انجام دیا اور ایسا ماحول پیدا کیا کہ مزاحیہ کالم نگاری کے لیے نہایت ضروری تھا۔

اودھ پنچ کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ اس نے اردو والوں کے لیے ایک ایسی راہ قائم کی جس پر چل کر بعد میں کہیں اخبار و رسائل ایسے نکلے جن کا بنیادی مقصد طنز و مزاح کو فروغ دینا تھا۔  جس کی اس سے پہلے شادید کمی محسوس کی جاتی تھی.

Advertisement

اس دور کی خصوصیت پہ کچھ ایسی تھی کہ سیاسی و سماجی حالات پر براہ راست بات کرنے کے بجائے طنز و مزاح کے پیرائے میں چوٹ کرنا زیادہ موثر ثابت ہو سکتا تھا۔  چنانچہ اس دور نے بہت سے ایسے ادیب بھی پیدا کیے ۔ جو کالم نگاری کی طرف مائل ہوئے ۔ اور اچھا مواد یاسرمایہ اردو  زبان کو دیے گئے۔

اودھ پنچ اور اس سے وابستہ ادیبوں فنکاروں کی کوششوں کا نتیجہ یہ رہا کہ ان کی پیروی میں طنز و ظرافت کا قافلہ آگے بڑھتا چلا گیا۔ اور اردو ادب میں طنز و ظرافت کا ایسا شعبہ قائم ہونا چلا گیا جس نے اردو ادب کی تاریخ میں ایک نئی باب کا اضافہ کیا۔ بیسویں صدی والوں میں خواجہ حسن نظامی، عبدالمجید سالک، چراغ حسن حسرت ، مولانا ظفر علی خان،  مولانا محمد علی، جوہر، قاضی عبدالغفار، عبدالماجد دریا بادی ، میرا ں  جی ، کرشن چندر ، کنہیا لال کپور ،احمد ندیم، حاجی لق لق ، ابراہیم جیلیس ، ابن انشاء ،خواجہ احمد عباس قابل ذکر ہیں۔  اودھ اخبار لکھنؤ سے نکلنے والے اخبار میں ایک اور اہم اخبار اودھ اخبار تھا۔ یہ اخبار ١٨۵٨ء کو جاری ہوا تھا اس کی تائید علامہ کیفی نے بھی اپنے ایک مضمون میں کی ہے جو رسالہ اردو اپریل ١٩٣۵ء میں شائع ہوا اس اخبار کی جتنی ذی علم معروف ہستی آڈیٹر ہوئی اردو کے کسی اور دوسرے اخبار کو نصیب نہیں ہوئی۔  اس اخبار کے ساتھ اس وقت کے مشہور ادیب جوالہ پرشاد، مولانا عبدالحلیم، شرر پنڈت ، رتن ناتھ سرشار ،جالب دہلوی،  یگانا چنگیزی ، شوکت تھانوی، مرزا محمد عسکری، اور پیارےلال شاکر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے دور کا کوئی دوسرا اخبار اس کا ہم پلہ نہیں تھا.

یہ اخبار لکھنؤ کے محلہ حضرت گنج سے نکلنا شروع ہوا پہلے ہفتہ وار اخبار کے طور پر ١٦ سال تک نکلتا رہا پھر ہفتے میں دوبارہ پھر تین بار نکلا  ١٨٧٦ء میں ہر دوسرے روز شائع ہونے لگا اور 1877ء میں رونما ہو گیا ہفتہ وار اخبار کا سالانہ چندہ ساٹھ روپیے اور روزانہ کا 30  روپیے تھا پہلے یہ چار صفحوں پر پھر چودہ صفحوں پر اور پھر سولہ صفحوں  پر اور 48 صفحات پر مشتمل چھپتا رہا شروع میں کچھ مضامین دیوناگری میں چھپے تھے تصاویر کو شائع کرنے کا اہتمام بھی کیا ۔

ابتدا میں اس کی کوئی پالیسی نہیں کی صرف ان  خبروں  کا مجموعہ ہوتا ۔ جو انگریزی اخباروں سے ترجمہ کر کے اس میں شائع کر دیئے جاتے پھر اس نے اپنی پالیسی مرتب کی جو کافی معیاری تھی یعنی ہندوستانی ادب کی خدمت کرنا تباہ کن اور  ضرررساں رسم و رواج سے قوم کو بچانا اصلاح اور ادبی انجمنوں کا پر یوگنڈا  کرنا کرنا یہ اپنی اس پالیسی پر مضبوطی سے قائم رہا۔
یہ اخبار  اپنے عہد کی ادبی  تمدنی میں معاشرتی اور سیاسی تاریخ کی مستند اور باوقار دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔  اس میں اس  عہد کے ایسے نادر واقعات ملتے ہیں جن سے موجودہ ناریخیں بلکل خالی ہے اس اخبار میں ادبی مضامین کے علاوہ تاریخی جغرافیائی مضامین کے علاوہ اور اعلی پائے کی فارسی اور اردو کی نظمیں بچوں کی نظمیں کتابوں اور اخباروں پر بے لاگ تبصرے کیے جاتے تھے اس اخبار کا ایک ضمیمہ یکم ستمبر ١٨٦۵ء میں کانپور گزٹ کے نام سے جاری ہوا تھا جس کے ایڈیٹر مولوی اسماعیل صاحب تھے اور بعد  میں  ١٨٦٠ء میں بند ہوگیا ۔

اس اخبار کا انداز تحریر سنجیدہ اور متعین تھا جس پر بھی نکتہ چینی کرنا متانت  کو نہیں چھوڑتا اس کے علاوہ حکومت کے بڑے بڑے حاکموں کو بھی نہیں بخشا یوں تو بظاہر اخبار انگریزوں کا مداح تھا لیکن ان کی غلطیوں کی ایسی پکڑ کرتا کہ ان کے پاس کوئی جواب نہ ہونا یورپین عورتوں کے بے حیائی اور بے شرمی کے واقعات پر مضامین شائع کرتا اور اپنی قوم کو اس سے بچنے کی تلقین کرتا آودھ اخبار جہاں انگریزوں کی بد انتظامی کی گرفت کرتا وہ ہندوستان کو بھی سامنے لاتا اور ان پر کڑی تنقید کرتا.