Advertisement
صائقہ غیاث 1
صائقہ غیاث

               میرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
               اسی  سیاہ سمندر  سے نور  نکلے  گا

نام : صائقہ غیاث
والد : محمد غیاث الدین
والدہ : رخسانہ خاتون
بھائی : انتخاب احمد ، بی اے کی تعلیم حاصل کر رہا۔
بہن : شگفتہ پروین ، ہائر سیکنڈری کی طلبہ ہے۔
تاریخ ولادت : 17 مارچ 1998 مغربی بنگال کے شہر درگاپور میں ہوئی  ۔

              چونکہ ماں ابتدائی درس گاہ ہوتی ہے، میری تعلیم کی شروعات  بھی تین سال کی عمر میں میری ماں کے زیر اثر ہوئی۔ والد محترم سے میری محبت بے پناہ رہی ہے۔ علامہ اقبال اپنے والد کے تعلق سے فرماتے ہیں؛
         ”  ہزار کتب خانے ایک طرف باپ کی نگاہ شفقت ایک طرف اسی واسطے تو جب کبھی موقع ملتا ہے ان کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں اور پہاڑ پر جانے کے بجائے ان کی گرمی صحبت سے مستفیض ہوتا ہوں ۔” جب کبھی مجھے بھی موقع ملتا ہے میں ان کی صحبت سے مستفیض ہوتی ہوں جو میرے لئے باعث سکون بھی ہے۔
            
مسجد محلہ میں واقع پرائمری اسکول سے میں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور میٹرک کی تعلیم رانی گنج اردو ہائی اسکول سے مکمل کی۔ ہائر سیکنڈری کی تعلیم انجمن گرلس اردو ہائی اسکول سے مکمل کی اور بی اے کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے Triveni Devi Bhalotia College میں داخلہ لیا اور اردو سے بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ یہی وہ وقت تھا جس نے اردو سے محبت میں مزید اضافہ کیا اور میں لکھنے کی طرف مائل ہوئی۔

اس سلسلے میں میرے استاذ محترم ڈاکٹر محمد شمشیر عالم اور محترمہ ڈاکٹر صابرہ حنا کی تربیت اور حوصلہ افزائی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ بی اے کے دوران ہی میں نے چند تنقیدی مضامین اور اپنا پہلا افسانہ ” انمول محبت ” لکھا۔ تنقیدی مضامین ” اقبال کی شاعری میں عظمت انسانی ” صدائے اردو آسنسول کے شمارہ دوم اور افسانہ ”انمول محبت ” شمارہ سوم میں منظر عام پر آچکے ہیں۔ افسانے میں اصلاح میں اپنی استاد محترمہ ڈاکٹر صابرہ حنا سے لیا کرتی ہوں جو خود بھی ایک مشہور شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔

میری تعلیم مسلسل جاری ہے اور میں Triveni Devi Bhalotia College سے ہی  MA  4th sem کی طلبہ ہوں۔ میرا شوقیہ مشغلہ کتب بینی کا ہے۔ بچپن سے مجھے افسانے اور کہانیوں کے مطالعے کا شوق رہا ہے۔ اخبارات، رسائل یا غیر نصابی کتابوں میں جب کبھی افسانے دستیاب ہوتے، میں دلچسپی کے ساتھ مطالعہ کرتی ہوں، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ خالق کائنات سے دعا ہے وہ میرے شوق میں مزید اضافہ فرمائے۔
         
بحیثیت افسانہ نگار میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ سماجی، سیاسی ، مذہبی اور معاشی صورتحال میں موجود مسائل کو اجاگر کروں کہ میری کاوشیں موجودہ حال کی ترجمان بن سکیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement