Advertisement
اعجاز ابنِ مشتاق
اعجاز ابنِ مشتاق

میری عمر یوں گزری ہے بادصبا میں یاروں
کبھی غم کو دکھانے میں، کبھی غم کو چھپانے میں

آزمائشیں اے دل سخت ہی سہی لیکن
یہ نصیب کیا کم ہے کہ کوئی آزما رہا ہے

نام : اعجاز ابنِ مشتاق
قلمی نام: الف عاجز اعجاز
تاریخ پیدائش: 26/ فروری/1995

جموں و کشمیر کے ضلع کولگام کے ایک چھوڑے سے گاؤں طولی نو پورہ سے میرا تعلق ہے۔ میرے والد کا نام مشتاق احمد اور والدہ کا نام مُنیرہ مریم ہے۔ میرا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے لیکن میری والدہ محترمہ جو کہ ایک تعلیم یافتہ اور دیندار خاتون ہیں، جہنوں نے مجھے بہت لاڈ و پیار سے پالا ہے اور تربیت کا خاص خیال رکھا ہے۔

میں نے ابتدائی تعلیم اپنی والدہ محترمہ سے ہی حاصل کی اور ساتھ ہی میرا داخلہ آبائی گاؤں کے ہی مدرسہ تعلیم القرآن میں ہوا۔ جہاں سے میں نے عربی و دینی تعلیم استادِ محترم محمد شفیع نائیک سے ۱۸ویں بہار تک حاصل کی۔ انگلش میڈیم حنیفہ نورانی پبلک اسکول سے میں نے آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کیا جبکہ میٹرک کی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول دنو بوگنڈ میں مکمل ہوئی۔ ہائر سیکنڈری کے لیے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری تحصیل کیموہ کولگام میں داخلہ لیا اور گریجویشن کی ڈگری میں نے ضلع اننت ناگ کے بائز کالج سے حاصل کی۔

یہیں سے میری ادبی زندگی کا آغاز صنف غزل سے ہوا۔ اس کے بعد میرا داخلہ یونیورسٹی آف کشمیر میں ہوا جہاں سے میں نے ایم اے اردو ادب میں اعلی نمبرات کے ساتھ پاس کیا اور یہیں سے باقاعدہ طور پر میری ادبی زندگی شروع ہوئی۔ یونیورسٹی میں مجھے قابلِ قدر اور قابلِ احترام استاتذہ ملے جنہوں نے مجھے اسٹیج فراہم کیا اور بولنے کا سلیقہ سہی ڈھنگ سے سکھایا۔ یونیورسٹی میں ’بزم ادب‘ کی محفل اور مشاعرہ ہر جمعہ کو ہوا کرتا تھا اور میں بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتا تھا اور دوست و احباب نے بہت حوصلہ دیا اور سراہا، وہیں سے میری ادبی زندگی میں نکھار آیا۔

پھر میں نے بے باکی سے لکھنا شروع کیا اور سماجی مسائل اور برائیوں پر میری خاص توجہ رہی جو کہ میری تحریروں میں صاف عیاں ہے۔ مگر میرے فن کو مزید حوصلہ و ہمت کے لیے میں اپنے پیارے استادوں جن میں خاص کر ڈاکٹر مظفر زرگر، ڈاکٹر عابد حسین اندرابی، ڈاکٹر مختار، ڈاکٹر مظفر لون، ڈاکٹر اشرف رونیالی، ڈاکٹر عرش کشمیری، منظور احمد لون، پرویز مانوس سر، ڈاکٹر شبنم قریشی، پروفیسر لکھنوندر سوڑی، اور غلام نبی کمار صاحب کا بے حد ممنون ہوں جنہوں نے مجھے کافی حوصلہ دیا، جن کی بدولت میں اپنے فن کو پیش کرنی کی سہی اور لکھنی کی جسارت کرپ اتا ہوں۔

یونیورسٹی آف کشمیر میں ہی ڈپلوما ان ٹیچنگ ٹرینگ کی سرٹیفکیٹ ڈگری بھی حاصل کی اور اس کے ساتھ ہی میرا داخلہ کلسٹر یونیورسٹی آف کشمیر سرینگر میں ہوا جہاں سے انٹگریٹڈ بی ایڈ، ایم ایڈ میں اس وقت میں زیرِ تعلیم ہوں۔ پوسٹ گریجویشن ڈپلومہ اردو جرنلزم بھی یونیورسٹی آف کشمیر میں جاری ہے۔

تخلیقات: شاعری کے دو انتھالوجی مجموعہ جن کا میں co-author ہوں ایک ’The Shrieking veils‘ اور دوسرا ‘کچھ کہانیاں ایسی بھی‘ زیرِ طبع ہیں۔ ریاستی، بیرونی ریاست اور انٹرنیشنل سطح پر ابھی تک میرے دو درجن کے قریب افسانے شائع ہوچکے ہیں۔ ادبی ویب سائٹ ” لفظ نامہ ” پر بھی میرے افسانے شائع ہوے۔ شائع ہونے والے افسانوں میں ” لہروں کی بیٹی، ریجیکٹ، پتھر بازی، بوجھ، قضا و قدر، ہارٹ اٹیک، محبت کی دیوی، فریب محبت، عزت کی روٹی، نوشاد کا فرشتہ، وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

کشمیر اعظمی، تعمیل ارشاد، ہفت روزہ نداے کشمیر، کشمیر ریز، روشن کشمیر، چٹان، صداے بسمل میگزین( لکھنؤ، پٹنہ، رانچی) ، لفظ نامہ ادبی فورم اور سائٹ پر، ماہنامہ اردو ڈائجسٹ اسپین وغیرہ میں اب تک میری تحریریں چھپ چکی ہیں۔
رابطہ: 9622697944
ای میل: [email protected]

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement