Advertisement
بلال سلیم

میرا نام بلال سلیم ہے۔میرے والد کا نام محمد سلیم ہے۔میری تین بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ میں سب سے چھوٹا اور سب کا لاڈلا ہوں۔میرا تعلق ملک پاکستان کے صوبہ سندھ کے ایک چھوٹے سے شہر کوٹری سے ہے۔میں مزدوروں کے عالمی دن یعنی مئی کی پہلی تاریخ کو اس دنیا میں آیا۔

میری پیدائش بھی صوبہ سندھ کے ایک چھوٹے سے شہر جھڈو میں ہوئی تھی جہاں سے میں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک حیدرآباد کے ایک سرکاری اسکول سے اے۔ون گریڈ سے پاس کیا۔انٹر۔یڈیٹ میں ایک پرائیوٹ اسکول میں نوکری شروع کی اور ساتھ میں گھر میں آنے والے خواتین ، شعاع ، کرن اور دیگر ڈائجسٹ کا مطالعہ کرنے لگا جس کا نتیجہ بی۔گریڈ کی صورت میں سامنے آیا۔یونیورسٹی پڑھنے کا شوق شروع سے تھا لہذا میں نے جی جان لگا کر محنت کی اور انٹری ٹیسٹ پاس کرکے میرٹ پر جامعہ سندھ جامشورو کا طالب علم بن گیا۔لیکچرار اور مصنف بننے کا شوق بچپن سے تھا لہذا بی ایس اردو کو اپنے مستقبل کے لیے بہترین سمجھا۔

بچپن سے لکھنے کا شوق رہا۔ اپنی پہلی کہانی پانچویں کلاس میں تصنیف کی ، اسکول پرفارمنس کے لیے دو ڈرامے بھی تحریر کیے۔میٹرک کے زمانے میں اپنا پہلا ناول "مقدر کا کھیل” کے نام سے تصنیف کیا۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً کہانیاں لکھتا رہا۔ اردو ادب کا طالب علم بننے کے بعد میرے اس شوق کو ہر جمعرات کو ہونے والی نشست نے جلا بخشی اور میں نے افسانے لکھنے شروع کیے۔ سال اول میں ہی ایک اور ناول "عشق ستمگر” کے نام سے تصنیف کیا۔

مجھے شاعری سے زیادہ شغف کبھی نہیں رہا۔ نثر میں ہی اپنی صلاحیت کو سنوار رہا ہوں۔ناول ،افسانہ ، تجزیے اور تبصرے تحریر کر رہا ہوں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement