Advertisement
ہلال احمد پرے

مکرمی احقر کا نام ہلال احمد پرے ہے۔ میری پیدائش چار سو (چرسو) گاؤں تحصیل اونتی پورہ میں ایک غریب گھر کے ہاں ہوئی۔ میرا باپ ،جو کہ ایک ڈرائیور رہے ہیں، نے مجھے رواج کے مطابق یہاں میرا داخلہ ایک اسلامی ماڈل اسکول میں کرایا، جسکی سرپرستی جماعت اسلامی جموں و کشمیر کر رہی تھی اور ہنوز کر رہی ہے۔

تعلیم سے اکثر میرا جی بھاگنے کی کوشش کرتا مگر والدہ محترمہ کی کاوشوں اور خاص طور سے دباؤ کی بنا پر، بہر کیف، وہاں سے ہشتم کے بعد فارغی پر میرا داخلہ گورنمنٹ ہائی اسکول چرسو میں ہوا۔ پھر گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری ہے نور پورہ سے بارہویں پاس کرکے ڈگری کالج اننت ناگ مقدر بنا۔ اس دوران گھر کے حالات کچھ ڈانواڈھول نظر آنے لگے،اور ایک چچیرے کے ہاں فیکٹری میں مزدوری کرنا پڑی،وہ بھی بطور منشی،کیونکہ ریاضی سے جیسے ایک فطری کشش تھی۔

ایک پڑوسی استاد محترم کے سمجھانے پر اسی اسلامی ماڈل اسکول میں بطور استاد کے عزت و آبرو مقدر لکھا پایا۔ اس دوران پھر سے تعلیم کی ترسیل دل میں جاگزیں ہو گئی،کہ نہ صرف گریجویشن یا ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہوا بلکہ کچھ ہی سالوں کے اندر کئی زبانیں سیکھنے کے ساتھ ساتھ اسلامی لٹریچر ورثے میں ملا۔ ہوا یوں کہ پہلے اپنی مقامی مسجد میں کئی سال تک بچوں، نوجوانان ملت وقوم بلکہ گرانقدر بزرگوں کو علم تفسیر اور علم حدیث سکھانے کا اعزاز حاصل ہوا اور ہنوز جاری وساری ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مجھ احقر کی تنحیک ایک بلند پایہ درویش مکرمی سلطان صاحب بڈسگامی نے کی ہے۔ بعد میں ایک اور درویش خاص،علی صاحب، نے میرے والدین کو میری تعلیم کے بارے تسکین دیتے ہوئے کہا کہ اس بچے کے تئیں چودہ خار(١ خار =٨٠کلو) علم نصیب ہے۔ اور ایک اور بزرگ، احد صاحب،نے دو کوئنٹل علم مقدر بتایا۔ اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بچپن سے ہی مجھ میں عربی ، قرآن ناظرہ اور علم ریاضی میں خاصی فطری مہارت ،میرے اساتذہ کو نظر آنے لگی۔ بلکہ بات اسے آگے کی یہ ہے کہ میرے پہلے دو استاد، کہ جنہوں نے مجھے اول میں داخلہ کرایا، دونوں مسلئہ کشمیر کے لئے عسکری قیادت کے لئے کوشاں رہے۔ تو ایک طرف مجھے اہل طریقت سے میرا واسطہ رہا وہیں اہل شریعت ، اساتذہ کی شکل میں، میرے ورثے میں شامل ہوا، ورثہ جناب ایک چیز ، بلکہ خون میں شامل ہوا۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement