Advertisement
محمد ساجد

میرا نام محمد ساجد ولدیت شہاب الدین گاؤں مبارک پور عرف راولکی تحصیل پونہانا ضلع نوح میوات ہریانہ انڈیا۔ میری تعلیم از ابتداء دینیات تا ختمِ جلالین شریف عربی،دار العلوم محمدیہ میل کھیڑلا بھرت پور راجستھان میں ہوئی۔ مزید عالمیت کورس کی تکمیل کے لئے،دار العلوم دیوبند یوپی میں داخلہ لیا اور 2010 میں اعلیٰ نمبرات سے سند فضیلت کی حصول یابی کا اعزاز حاصل کیا۔

نیز فقہ اسلامی میں حصولِ گیرائی کاشوق جامع مسجد امروہہ یوپی کی طرف لے گیا جہاں *مفتی ریاست ہاپوڑی ثم رامپوری اور مفتی زاہد صاحبان* جیسے کہنہ مشق اساتذہ و مفتیان کی نگرانی میں،استخراج اور استنباط مسائل کی مشق و تمرین کا سلسلہ عروج پر تھا۔ چناچہ سال بھر وہاں کے شعبہ فقہ سے استفادہ کیا اور اعلیٰ نمبرات سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے دستار اور سند افتاء سے سرفرازی حاصل کی۔

اسلامک اسٹڈیز کی یک گونہ تکمیل کے بعد،عصری تعلیم کی کمی کے باعث،ابھی دل میں خفگی اور کم مائیگی کا احساس تھا اِس لئے ہنوز تعلیمی سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مرکز المعارف ممبئی کی شاخ MWERC بٹلہ ہاؤس اوکھلہ دہلی میں داخلہ لیا اور دو سالہ عربی انگلش ڈپلومہ کورس کے ذریعہ عالمی زبان انگلش میں،speaking skills (مہارت تکلَّم) کو develop کیا۔ پھر مزید اعتماد کی بحالی کے لئے ہریانہ بورڈ بھیوانی سے دسویں بارہویں جماعت کے امتحانات پاس کرکے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے گریجویشن کیا۔ فی الحال راجستھان ہریانہ میوات کی سب سے بڑی اسلامک عربک یونیورسٹی دار العلوم محمدیہ میل کھیڑلا میں تدریسی خدمات کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں MA اردو آنرز کا طالب علم ہوں۔

جامعہ ملیہ سے التحاق نے اُردُو زبان و ادب کی دلچسپی میں مہمیز کا کام کیا اورنئے مصنّفین و قلمکاروں سے متعارف کرایا جس کے بعد نئے نئے کالم نگار اور مضموں نویسوں کو پڑھنے اور کسی قدر لکھنے کا سلیقہ سیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج میل کھیڑلا میں دینیات و عربی کی تدریس کے ساتھ اُردُو زبان و ادب کے شعبہ مضمون نگاری میں اصلاحِ مضمون نویسی بھی احقر کا مشغلہ ہے۔ اُردو زباں و ادب سے وابستگی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ایک اُردو مضامین نوک قلم پر رکھے گئے جو تشہیر و طباعت سے بھی آراستہ ہوئے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement