اردو شاعری کی صنعتیں

فصاحت و بلاغت کا بیان

فصاحت و بلاغت شاعری کے لئے انتہادرجہ ضروری ہیں۔انہیں ملحوظ رکھے بغیر شاعری حسن تاثیر سے خالی اور فنی عظمت سے محروم رہتی ہے۔ ادیبوں اور نقادوں نے اپنے طور پر فصاحت و بلاغت کی وضاحت کی ہے۔ کسی ایک مخصوص تعریف پر علماء کا اتفاق نہیں ہے۔

جہاں تک بلاغت کا سوال ہے تو اس کے لغوی معنی "تیز زبانی” کے ہیں۔ مجازی معنی، کلام کو دوسروں تک پہنچانے میں مرتبہ کمال تک پہنچنا۔ بلاغت بامعنی زبان کا تصور ہے۔ اس کے معنی ہیں کلام سے کچھ مراد لینا اور اس میں مرتبہ کمال کو پہنچنا، یعنی زبان کا بالارادہ استعمال بلاغت کی شرط ہے۔ جس کلام میں دوسروں تک پہنچنے کی جتنی صلاحیت ہوگی وہ اتنا ہی بلیغ ہوگا۔ بلیغ کلام کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ اظہارِ مطلب کے لئے کم از کم الفاظ کا استعمال ہو۔

فصاحت سے مراد ہے لفظ یا محاورے یا فقرے کو اس طرح بولا یا لکھا جائے جس طرح مستند اہل زبان بولتے یا لکھتے ہیں۔ لہذا فصاحت کا تصور زیادہ تر سماعی ہے۔اس کی بنیاد روزمرہ اہل زبان پر ہے جو بدلتا بھی رہتا ہے۔ اس لئے فصاحت کے بارے میں کوئی اصول قائم کرنا ناممکن ہے۔ چناچہ فصاحت کا تصور زمانے کے ساتھ بدلتا رہتا ہے، الفاظ بھی زمانے کے ساتھ فصیح اور غیر فصیح بنتے رہتے ہیں۔

کلام بلاغت پیدا کرنے والے علم کو علوم بلاغت کہا جاتا ہے۔ ان علوم میں علم بیان، علم بدیع، علم عروض اور علم قافیہ وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔

Close