Disadvantages Of Alcohol Essay | شراب نوشی کی برائیاں

شراب نوشی کی برائیاں

شراب ایک بڑی نشہ آور چیز ہے۔ اس کی عادت سے انسان کے دل اور دماغ کے علاوہ اخلاقی قوتوں کو بھی نقصان ہوتا ہے۔شراب نوشی کی وجہ سے جسم کے اعضاء اور پٹھے کمزور ہوتے ہیں۔ اسی طرح اکثر ڈاکٹر مریضوں کو بیماری کی حالت میں الکوحل کا استعمال کرنے کی تجویز کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی ایک مضر شے ہے۔ اس سے دماغ کمزور ہو جاتا ہے، بدن میں سستی پیدا ہوجاتی ہے، آنکھوں کی روشنی کم ہونے لگتی ہے اور آنکھوں میں دھندلا پن پیدا ہو جاتا ہے۔

شراب سے خون میں ایک قسم کی گرمی محسوس ہوتی ہے جس سے طبیعت میں کچھ سرور اور فرحت پیدا ہوتی ہے۔ اسی سرور میں انسان کو اپنا اور بیگانہ کچھ معلوم نہیں رہتا۔ بلکہ کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ وہ بدحالی اور سستی کی حالت میں جو چاہتا ہے کر ڈالتا ہے اور نیک خیالات اور نیک ارادے سب برباد ہو جاتے ہیں۔

شراب خور اپنے کاموں کو اچھی طرح انجام نہیں دے سکتا۔ شرابی کا قیمتی وقت مستی اور نشے کی حالت میں برباد ہو جاتا ہے۔ بعض داناؤں نے شرابی کو ایک شاطر چور کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ جو گھر والوں کو تھپک تھپک کر سلا دیتا ہے اور سارا مال و اسباب ان کی بے خبری کے عالم میں اڑا لے جاتا ہے۔ یہ ایسا ڈاکو ہے جو تمام دماغی کائنات پر قبضہ کر لیتا ہے۔

شراب نوشی انسان کے قوت ہاضمہ کو نقصان پہنچاتی ہے۔جس سے انسان کا جسم امراض کا مرکز بن جاتا ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ پرانے شرابیوں کو گھٹیا، سلسلبول اور جلدی امراض وغیرہ کی بہت سی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں اور اسطرح وہ بہت ہی کم عمری میں مر جاتے ہیں۔

ہماری مذہبی کتابوں میں بھی شراب نوشی کی مذمت کی گئی ہے اور اس کو حرام قرار دیا گیا ہے اور شرابی انسان عوام میں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

تاریخ کی کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب خور سے وہ افعال سرزد ہوتے ہیں جس کا ہوش کی حالت میں بھی ہونا ناممکن ہوتا ہے۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ شراب نوشی اور اس طرح کے دوسرے گندے نشوں سے اپنے دامن کو ہمیشہ بچائے رکھیں اور خوشگوار زندگی گزاریں۔

Close