ہوائی جہاز پر مضمون

ایک وقت تھا کہ سادگی کا دلدادہ اور جفاکشی کا عادی تھا۔ کالے کوسوں کا سفر پیدل طے کیا جاتا تھا۔تیرتھ یاترا یا حج زیارت اور سیروسیاحت پیدل ہی ہوا کرتی تھی۔ جہاں بیٹھ جاتے جنگل میں رونق ہوجاتی۔ ویرانہ بستی بن جاتا۔ مگر اس رونق اور بستی کے ساتھ کچھ تکلیفیں بھی وابستہ تھیں۔نہ دن کو چین نہ رات آرام، صبح وشام چلنے سے کام، درندوں کا خوف، رہزنوں کا خطرہ، آندھی کی آفت، بارش کی مصیبت، سردی کی شدت اور گرمی کی حدت، بدن کی تھکان، طبیعت کا ہیجان۔ ایک ہی سفر میں مہینے لگ جاتے تھے۔

زندگی پھر نے پھرانے میں کٹ جاتی۔ آہستہ آہستہ علم کی روشنی پھیلی۔ انسان دماغ سے کام لینے لگا اس نے پالکی، تام جھام، بیل گاڑی، رکشہ اور گھوڑا گاڑی بنا لی۔ اس سے تسلی نہ ہوئی ٹمٹم، اور ٹرام وجود میں آئے۔ سائنس میں ترقی کی۔ بھاب اور بجلی سے ریل گاڑیاں چلیں۔موٹرے اور ڈیزل کاریں ہوا سے باتیں کرنے لگیں۔ انسان نے مچھلیوں سے تیرنا سیکھا۔ آخر کشتیاں اور سمندری جہاز بنا لیے لیکن اب بھی قرار نہ ہوا۔ پرندوں کو دیکھ کر فضا میں اڑنے کی خواہش پیدا ہوئی۔

چین میں غبارے اڑانے کی کوششیں شروع ہوئیں۔1764ء میں کیونڈش نامی ایک سائنسدان نے معمولی ہوا سے بھی ہلکی گیس نائٹروجن معلوم کی اور غبارے میں یہ گیس بھر کر ساتھ کرسی باندھنے کی کوشش کی مگر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔1783ء میں دو فرانسیسیوں نے پیرس میں ایک بڑا غبارہ بنایا۔ اس کے ساتھ ایک ٹوکری باندھی جس میں بطخ کا ایک بچہ اور ایک بھیڑ رکھ کر اسے ہوا میں اڑا دیا وہ سفر کے بعد صحیح سلامت اتر آئے۔ پھر ہائیڈروجن گیس استعمال ہونے لگی۔ اس سے لمبے لمبے سفر آسان ہو گئے۔ لیکن ابھی تک یہ غبارے ہوا کے رح ہی چل سکتے تھے۔

1900ء میں کاونٹ زیلین نے بڑے بڑے ہوائی جہاز کثیر لاگت سے تیار کیے۔ 1905ء میں دو امریکن بھائیوں نے موٹر انجن کی مدد سے اڑان لگانے والی ایک مشین بنائی جو کامیاب ثابت ہوئی۔ اب کیا تھا راستہ صاف ہو گیا۔ قسم قسم کے ہوائی جہاز بننے لگے یہاں تک کہ پہلی عالمگیر جنگ میں ہوائی جہازوں نے خوب حصہ لیا۔

1927ء میں ہوائی جہاز نے دنیا کے گرد چکر لگانے کی مہم سر کر لی۔ دوسری عالمگیر جنگ میں اس عجیب ایجاد نے خوب کرشمے دکھائے۔ شہریوں پر بے پناہ بمباری ہوئی۔ بندرگاہوں پر زناٹے دار حملے ہوئے۔مختصر یہ کہ آسمان کو زمین سے اور مشرق کو مغرب سے ملا دیا گیا۔ اب حالت یہ ہے کہ سمندر کی سطح پر تیرتے ہوئے کروزر میں سے ہوائی جہاز پر پرواز کرنے لگے ہیں۔ اپنا کام کیا اور واپس کروزر میں آگئے۔ کسی وجہ سے سمندر میں گر پڑے تو کشتی کی طرح تیر نکلے۔ اب ہوائی جہاز سینکڑوں سواریاں اور ہزاروں من بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں۔ ہزاروں میل کی اڑان بے روک ٹوک طے کرتے ہیں۔ اب ترقی یہاں تک ہوئی ہے کہ انسان راکٹ سے چلنے والے خلائی جہاز میں بیٹھ کر چاند کی سیر کر آیا ہے جو یہاں سے اڑھائی لاکھ میل دور ہے۔

ہوائی جہاز بڑے کام کی چیز ہے۔اب یہ وہی کام انجام دے رہے ہیں جو ریل گاڑی زمین پر اور بحری جہاز سمندر میں انجام دے رہے ہیں۔ ہوائی جہاز سے مختلف ملکوں کا سفر کر سکتے ہیں۔ یہ بار برداری میں بھی معاون ہیں۔ڈاک بھی ان کے ذریعے دور دراز مقامات کو بھیجی جاتی ہے۔ جنگ میں تو ان کی اہمیت بے حد ہے۔ زمینی فوج کی چڑھائی ہوائی جہازوں کے سائے میں ہوتی ہے۔

جس ملک کی ہوائی فوج کمزور ہے وہ دشمن کے حملوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ہوائی جہاز اب تجارت میں بھی مددگار ہے۔ دنیا میں جابجا ہوائی جہازوں کے اڈے ہیں اور تمام ملک ایک دوسرے کے ساتھ ہوائی راستوں سے وابستہ ہیں۔ ہہائی جہاز نے مہینوں کے سفر کو گھنٹوں کی بات بنا دیا ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ بلندی ہو یا پستی، چشکی ہو یا تری، جنگل ہو یا پہاڑ یہ سب سے بے نیاز اور بالاتر ہے۔ اسے نہ سڑک کی ضرورت ہے نہ پل کی۔ ضرورت کے مطابق پٹرول بھر لیا اور اوپر ہی اوپر گزرتے گئے۔

ہوائی جہاز سے فطرت کے حسین نظاروں کے عکس اتارے جاتے ہیں۔ وسیع سیروسیاحت کے دروازے کھل گئے ہیں۔ زماں و مکان کی دوری ختم ہوگئی۔طغیانی قحط یا بھونچال کے مصیبت زدوں کو فوری مدد ہوائی جہازوں سے پہنچ جاتی ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ ہوائی جہاز کی اڑان خطرے سے خالی نہیں۔ کبھی کبھی کسی چٹان کے ساتھ ٹکرانے سے یا انجن کی ناگہانی خرابی سے حادثے رونما ہوجاتے ہیں اور جانیں تلف ہو جاتی ہیں۔ لیکن یہ خطرہ اور تباہی تو سمندری جہازوں اور ریل گاڑیوں، بسوں، ٹرکوں اور کاروں کو بھی پیش آتا ہے۔ ریل گاڑیوں کے تصادم اکثر ہوتے ہی رہتے ہیں اور کبھی کبھی پٹری سے بھی انجن اتر جاتا ہے۔بسںیں، کاریں بعض اوقات کھڈوں میں گر جاتی ہیں اور جان و مال کے نقصان کا موجب بنتی ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی چیز عیب یا نقص سے پاک نہیں۔ ہر چیز سے فائدے بھی ہوتے ہیں اور نقصان بھی۔ اس لیے ہوائی جہاز ایک غضب کی ایجاد بے۔ حد فائدہ مند ہے اس کے موجد کو جس قدر خراج تحسین ادا کیا جائے کم ہے۔

Close