اندازہ لگائیے کہ اگر بلب نہ ہوتا تو کیا پھر بھی یہ دنیا راتوں میں اتنی حسین ہوتی؟ میرے خیال سے نہیں۔۔۔ آج ہم اپنے گھروں میں مٹی کے تیل (kerosene) یا سرسوں کے تیل کے چراغ یا موم بتی جلا کر رہ رہے ہوتے۔ ہم جانتے ہیں کہ شادی کی رسموں و تہواروں اور گھروں میں بلبوں کی مدد سے ہی روشنی کر پاتے ہیں۔ بجلی کے بلبوں کا استعمال گھروں، دکانوں اور بازاروں، گلیوں، راستوں کو روشن رکھنے کے لئے کیا جاتا ہے اور انہیں سے ان کی رونق بڑھ جاتی ہے۔ تو بلب کی ایجاد کے بغیر کیسی روشنی اور کیسی رونق ہو پاتی؟ اسی وجہ سے بلب کی ایجاد ہماری زندگی میں سائنس کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔

یہ سچ ہے کہ بجلی کے بلب کی ایجاد سے پہلے لوگ اپنے گھروں میں اجالا کرنے کے لیے دیے یا چراغ جلایا کرتے تھے۔ جن سے کچھ خاص روشنی نہیں ہوتی تھی بس کام چل جاتا تھا۔ ایسا کوئی بلب یا لیمپ نہیں تھا جو کسی چیز کو جلانے کے بجائے اسے تاپ کر روشنی کرسکتا۔ آج سے تقریباً 150 سال پہلے فلامنٹس ("filaments”) کو تپا کر روشنی کرنے کا خیال سب سے پہلے ایڈیسن (Addison ) کے ذہن میں آیا اس طرح تھامس ایلوا اڈیسن (Thomas Alwa Addison) نے بجلی کا بلب بنایا اور وہ سب سے پہلے بجلی کا بلب بنانے والے دانشمندوں میں شمار ہو گے۔

سن 1879ء میں بہت سے دانشمندوں نے ایک ایسا ہی لیمپ ایجاد کرنے کی کوشش کی لیکن ایڈیسن نے ایک خاص قسم کے بانس (بیمبو) کے ریشے کو جلاکر کاربن (Corbin) کا فلامنٹ بنایا اور 21 اکتوبر 1879 عیسوی کو وہ بجلی کا بلب بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کا وہ بلب چمکا اور روشنی دینے لگا۔ ایڈیسن دو دن اور دو رات لیب (lab) میں جاگتے رہے اور روشنی کو دیکھتے رہے۔ ان کی اس ایجاد کے بعد بہت سے دوسرے دانشمندوں نے ان کے بلب میں کئی کمیاں پوری کیں۔

سب کو پتہ ہے کہ بلب میں ایک چھوٹا سا اور بہت پتلا سا تار ہوتا ہے جسے فلامنٹ کہتے ہیں۔ جب بجلی اس میں داخل ہوتی ہے تو وہ جلنے لگتا ہے اور ہر طرف روشنی دینے لگتا ہے۔ تھا مس الوا ایڈیسن کو دنیا کا سب سے مشہور دانشمند کہا جاتا ہے۔وہ "مینلو پارک کے جادوگر” کے نام سے بھی مشہور تھے۔ انہوں نے بلب کے علاوہ اور بھی بجلی کے کئی سامانوں کو ایجاد کیا۔ ان کا یہ بلب کی ایجاد سب سے خاص اور بہتر ایجاد ہے جو انسان کی زندگی کو ہمیشہ روشن رکھے گا۔

بلب کی مختلف اقسام

ہم سب نے اسٹورز میں توانائی سے بچنے والے بلب دیکھے ہیں ، اور ان میں سے کچھ ہمارے گھروں میں بھی موجود ہیں۔ لیکن یہ ہمیشہ واضح نہیں ہوتا ہے کہ وہ دوسری اقسام سے کس طرح مختلف ہیں۔ اور جو اس کے لئے بہترین بلب ہیں۔

  • بازار میں تین بنیادی قسم کے لائٹ بلب موجود ہیں:
  • ( 1) تاپدیپت (2) ہالوجن (3) اور سی ایف ایل (کومپیکٹ فلورسنٹ لائٹ)

(1) تاپدیپت بلب

تاپدیپت لائٹ بلب وہ روایتی بلب ہیں جن سے ہم سب واقف ہیں۔ یہ عام طور پر قیمت میں سسستے ہوتے ہیں اور گاؤں میں لوگ عام طور پر انہیں کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے شروع شروع میں ایک گرم چمک ڈالی لیکن یہ کم سے کم موثر ہیں۔ یہ عام طور پر ١٠٠ واٹ کے بلب ہوتے ہیں۔ جب آپ کوزیئر اثر چاہتے ہو یا سایہ کے اصل رنگ کو اجاگر کرنا چاہتے ہو تو تاپدیپت کا استعمال کیا جاتا ہے۔

Essay On Bulb In Urdu 1
تاپدیپت بلب

(2) ہیلوجن بلب

ہیلوجن بلب تاپدیپت بلبوں سے کہیں زیادہ موثر ہیں۔ وہ اسی مقدار میں بجلی کا استعمال کرتے ہوئے 25 سے 30 فیصد زیادہ روشنی فراہم کرتے ہیں۔ تاہم وہ ایک سفید روشنی کو خارج کرتے ہیں لہذا وہ دفتروں ، کچن یا گرم رنگ کے سایہ دار لیمپوں کے لیے بہتر موزوں ہیں۔ نیز یہ بہت زیادہ درجہ حرارت پر جلتے ہیں ، لہذا ان بلبوں کو ایسی جگہ پر استعمال نہ کریں جہاں آپ غلطی سے خود کو جلا سکیں۔

Essay On Bulb In Urdu 2
ہیلوجن بلب

(3) سی ایف ایل (کومپیکٹ فلورسنٹ لائٹ) بلب

سی ایف ایل سب سے زیادہ موثر اور فائدہ مند بلب ہوتے ہیں۔ یہ سرپل یا روایتی شکلوں میں ہمارے بیچ دستیاب ہیں۔ یہ بلب روایتی تاپدیپت سے کہیں زیادہ طویل رہتے ہیں ، اور وہ بجلی بھی کم استعمال کرتے ہیں۔ اس وجہ سے زیادہ تر لوگ سی ۔ایف۔ ایل کا ہی استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ان کی روشنی ٹھنڈی ہوتی ہے ، لہذا وہ رنگوں کے پیچھے انتہائی مناسبت لگتے ہیں جو ان کی سختی کو منسوخ کرتی ہیں۔ ان میں پارا بھی ہوتا ہے ، لہذا جب آپ ان کو سنبھال کر رکھیں تو اس کا خیال رکھیں کہ اس کی وجہ سے آپ کو نقصان نہ پہنچے۔

Essay On Bulb In Urdu 3
سی ایف ایل (کومپیکٹ فلورسنٹ لائٹ) بلب


Close