Advertisement

جہیز (dowry) بیٹی کی شادی میں والدین کی طرف سے دیا جانے والا سامان مطالبہ پر ہو یا بلا مطالبہ کے جہیز کہلاتا ہے۔ مثلاً: اوڑھنا، بچھونا، برتن، کرسی و دیگر ساز و سامان وغیرہ۔

جہیز کی تعریفترميم

جہیز عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اسباب یا سامان ۔ یہ اس سامان کو کہتے ہیں جو لڑکی کو نکاح میں اس کے ماں باپ کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ جہیز دینے کی رسم پرانے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ ہر ملک اور ہر علاقے میں جہیز مختلف صورتوں میں دیا جاتا ہے۔ لیکن عام طور پر زیورات، کپڑوں، نقدی اور روزانہ استعمال کے برتنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ 

Advertisement

جہیز کا لفظ کہاں سے لیا گیا

 قرآن میں بھی اور احادیث میں جهیز ،دلہن سنوارنا، یعنی دلہن کو عروسی لباس اور آرائش وزیبائش سے آراستہ کرنے کے معنی میں ہے

Advertisement

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِم        

Advertisement

جب (یوسف علیہ السلام کے کارندوں نے) برادرانِ  یوسف علیہ السلام کا (واپسی کا) سامان (سفر) تیار کر دیا۔

جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنْ اللَّيْلَِ اُمّ سلیم نے صفیہ کو تیار کیا اور اُن کو شب باشی کی لیے نبی ﷺ  کی خدمت میں پیش کردی

Advertisement

اثراتترميم

کتنی ہی عورتیں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ کم جہیز کی وجہ سے بہت سی عورتوں کی زندگی عذاب ہو جاتی ہے؛ مار پیٹ کے علاوہ بعض دفعہ ان کو جلا دیا جاتا ہے یا ان پر تیزاب پھینکا جاتا ہے۔ دوسری طرف آج کل کا معاشرہ انسانی رشتوں سے زیادہ دولت کو اہمیت دیتا ہے جس کی وجہ سے یہ لعنت اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسلام میں جہیز کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام سادگی کا دین ہے اور اسلام کی نظر میں عورت کا بہترین جہیز اس کی بہترین تعلیم و تربیت ہے۔ جہیز سے ملتا لفظ تلک بھی استعمال ہوتا ۔

Advertisement

جہیز اور اس کے احکام

مروّجہ جہیز کی دو قسمیں ہیں ، پہلی یہ ہے کہ والدین اپنی بیٹی کو کچھ ساز و سامان یا نقد روپیہ پیسہ وغیرہ خود اپنی رضا سے بلا مطالبہ دیتے ہیں۔

دوسری یہ کہ لڑکے والے لڑکی والوں سے حسب خواہش نقد روپیہ اور ساز و سامان کی فرمائش کرتے ہیں اور لڑکی والوں کو خواہی نخواہی مجبوراً اسے پورا کرنا پڑتا ہے۔ جسے آج کے معاشرہ میں جہیز کا خوبصورت نام دیا جاتا ہے۔

اسلام میں جہیز کا مطالبہ کرنا سخت حرام اور گناہ ہے، خواہ اس کی مقدار متعین کی گئی ہو یا نہیں، شادی سے پہلے ہو یا شادی کے بعد، اس لیے کہ جہیز لینا رشوت کے مترادف ہے اور رشوت اسلام میں ناجائز و حرام ہے۔ اگر ہم جہیز اور رشوت کے مقاصد پر نظر کرتے ہیں تو یہ معما خودبخود حل ہوتا نظر آتا ہے کہ جہیز رشوت کی ہی دوسری شکل ہے۔

Advertisement

تلک اور جہیز میں فرق

جہیز کی تعریف کی روشنی میں اگر ہم غور کریں تو جہیز اور تلک کے مابین کوئی زیادہ فرق نظر نہیں آتا ہے۔ ہاں کتب تاریخ سے اتنا ضرور واضح ہوتا ہے کہ تلک کا رواج سماج میں جہیز سے بہت بعد میں ہوا ہے، جس کو معاشرہ کے دولت مند افراد کے ذریعہ فروغ ملا ہے۔ لہٰذا ہم اسے جہیز ہی کی ایک دوسری شکل کہہ سکتے ہیں

جہیز اور تلک

خالد سیف اللہ رحمانی اپنی کتاب میں جہیز و تلک کی رسم کے متعلق رقم طراز ہیں :
”اسلام میں نکاح کی حیثیت ایک معاہدہ کی ہے جس میں مرد و عورت قریب قریب مساویانہ حیثیت کے مالک ہیں یعنی نکاح کی وجہ سے شوہر بیوی کا یا بیوی شوہر کی مالک نہیں ہوتی اور عورت اپنے خاندان سے مربوط رہتی ہے۔ والدین کے متروکہ میں تو اس کو لازمًا حصہ میراث ملتا ہے۔ بعض اوقات وہ بھائی بہنوں سے بھی حصہ پاتی ہے۔ ہندو مذہب میں نکاح کے بعد عورت کا رابطہ اپنے خاندان سے ختم ہوجاتا ہے۔ شاستر قانون کی رو سے وہ اپنے خاندان سے میراث کی حقدار نہیں رہتی۔ اسی لیے جب لڑکی کو گھر سے رخصت کیا جاتا تھا تو اسے کچھ دان دیکر رخصت کیا جاتا تھا۔

Advertisement

بد قسمتی سے مسلمانوں نے بھی بتدریج اس ہندووانہ رسم کو اپنا لیا اب مسلمانوں میں بھی جہیز کے لین دین اور پھر لین دین سے بڑھ کر جہیز کا مطالبہ اور اس سے بھی آگے گزر کر جہیز کے علاوہ تلک سرانی اور جوڑے کے نام سے لڑکوں کی طرف سے رقم کا مزید مطالبات کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات اور شریعت کے مزاج کے بالکل ہی برعکس ہے۔ اسلام نے تو اسکے برخلاف مہر اور دعوت ولیمہ کی ذمہداری شوہر پر رکھی یھی اور عورت کو نکاح میں ہر طرح کی مالی ذمہ داری سے دور رکھا تھا۔ فقہا کے یہاں اس بات کا کوئی تصور ہی نہیں تھا کہ مرد بھی عورت سے روپئے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اسلیے اس مسئلہ کا عام طور پر کتب فقہ میں تذکرہ نہیں ملتا۔ البتہ اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ لڑکی کا ولی اگر مہر کے علاوہ داماد سے مزید رقم کا طلبگار ہو تو یہ رشوت ہے اور یہ مطالبہ جائز نہیں۔ تاہم بعض فقہا کے یہاں لڑکے اور اسکے اولیاء کی طرف سے مطالبہ کی صورت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اسلیے تلک اور جہیز کا مطالبہ رشوت ہے اسکا لینا تو حرام ہے ہی۔ شدید ضرورت کے بغیر دینا بھی جائز نہیں اور لے چکا ہو تو واپس کرنا واجب ہے”۔

Advertisement

Advertisement