احترام انسانیت پر مضمون

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمیت اور انسانیت کا احترام سکھایا۔ مسلمان کا احترام سکھایا۔ حضور اکرم ﷺ نے مسلمان کا احترام سکھانے کے لیے مثال دی کہ مسلمان آپس میں اس طرح سے شیر و شکر اور بہمی محبت سے رہیں جس طرح سے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ہوتی ہیں تو وہ مضبوط ہوتی ہیں۔ اور اگر انہیں جدا کر دو گے تو وہ طاقت نہیں رہے گی۔ بالکل اسی طرح سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی معاشرے کو قرار دیا ہے۔ اسلامی معاشرہ آپس میں مربوط ہے ہر فرد دوسرے سے ربط میں ہے۔ اس میں رشتے داری یا خاندانی مسائل ساری چیزیں بعد میں ہیں، پہلے اسلام ہے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔

حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے ، ایمان لے آئے، یہ ایک غلام تھے۔ ان کے باپ کا نام بلال بن ربح تھا، ان کا خاندان زیادہ پڑھا نہیں تھا لیکن جب انہوں نے اسلام کو اپنایا تو سینے سے لگائے گئے۔ انہیں ایسی عزت ملی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خود سینے سے لگایا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت بلال کو آزاد کرنے کے لیے پہلے انہیں خریدا اور پھر آزاد کردیا۔ ایسا رتبہ انہیں ملا کہ مکہ فتح ہونے کے بعد حضور نے حضرت بلال کو حکم دیا کے بیت اللہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دو۔ جب حضرت بلال نے بیت اللہ کی چھت پر چڑھکر اذان دی تو سارے مشرکین حیران رہ گئے اور اعتراض کرنے لگے کہ جس کا کوئی خاندان نہیں، جو بےحد رنگ کا کالا ہے، وہ نہ خوبصورتی میں ہے اور نہ ہی نسل کے اعتبار سے کچھ ہے، اس کو اتنی عزت مل گئی کہ وہ بیت اللہ پر چڑھا ہوا ہے۔ یہ تو ان مشرکین کے لئے ڈوب مرنے کا مقام تھا۔

اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں انسانیت کی کتنی زیادہ قدر ہے۔ پھر چاہے اس کا مقام اونچا ہو یا نیچا ، اس سے اسلام کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسلام میں ہر شخص کو عزت دی گئی ہے۔

ایک چرواہا حضور اکرم کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ کیا میں آپ جیسا بن سکتا ہوں؟ حضور نے فرمایا بالکل بن سکتے ہو! تو اس نے پوچھا کہ میں آپ کے جیسا کیسے بن سکتا ہوں؟ حضور نے فرمایا تم اسلام میں داخل ہوکر یعنی کلمہ طیبہ پڑھ کر ہم جیسے بن سکتے ہو! اس چرواہے نے کہا کہ اگر وہ اسلام میں داخل ہوگیا تو اسے کیا ملے گا؟ حضور نے فرمایا کہ ہم تمہیں گلے لگائیں گے! تو وہ بڑا حیران ہوا اور کہنے لگا کہ اس چرواہے یعنی ایک غلام کی اتنی عزت کہ آپ مجھے گلے سے لگا ئیں گے؟ تو حضور نے کہا ہاں ہم تمہیں گلے سے لگا ئیں گے۔ یہ سن کر وہ شخص ایمان لے آیا اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔

اس چرواہے نے پوچھا کہ اب مجھے کیا کرنا ہے؟ تو حضور نے فرمایا کہ ہمارے ساتھ غزوہ میں چلو! اس نے دریافت کیا پھر میری بکریوں کا کیا ہوگا؟ تو حضور نے کہا یہ قوم کی امانت ہے اسے واپس کر کے آؤ۔ چنانچہ بکریاں واپس کر کے آئے اور حضور کے ساتھ غزوہ میں شریک ہوئے اور شہید ہوگئے۔ جب وہ شہید ہوگئے تو حضور اکرم نے انہیں اپنے مبارک ہاتھوں سے دفن کیا۔ حضور نے ان کے لئے دعا کی اور کہا یہ جنتی ہے۔ اس نے ابھی تک کوئی نماز نہیں پڑھی کیونکہ نماز کا وقت آنے سے پہلے ہی یہ شہید ہوگئے۔ البتہ یہ انسان جنتی ہے۔

تو اس طرح اسلام انسان کو انسان کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔ آدمیت کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔ تو اس قدر انسان کا احترام بہت بڑی چیز ہے اور یہ بہت ضروری بھی ہے کیونکہ جب انسان کے دل سے انسان کا احترام نکل جاتا ہے تو وہ ایک جانور کا دل اختیار کرلیتا ہے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ جب انسان آدمیت سے یعنی انسانیت سے باہر نکلتا ہے تو حیوانوں کے تین درجوں پر آجاتا ہے۔

لیکن جب انسان اپنی اصلاح کرتا ہے، گناہوں سے توبہ کرتا ہے، اللہ تعالی سے لو لگاتا ہے تو پھر یہ انسان پھر سے انسان بنتا ہے اور جب یہ پھر سے انسان بنتا ہے تو اندر سے اس کا ایمان درخت کی طرح ہرابھرا ہوجاتا ہے۔ تو یہ اپنے مسلمان بھائیوں کی ایسی خیر چاہتا ہے کہ خود بھوکا رہ کر انہیں کھانا کھلاتا ہے۔

Close