Essay on Seerat-e-Nabvi in Urdu

سیرت نبوی پر ایک مضمون

پیارے نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی عظیم ہستی ہیں۔ حضور کا کسی بھی عام انسان کے ساتھ شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ کے محبوب اور ہمارے سب سے آخری پیغمبر پیارے نبی ہی ہیں۔ ان سے ہی ساری دنیا میں مکمل اسلام پھیلا۔ ان کے اخلاق کی جتنی تعریف کی جائے اتنی کم ہے۔ ان کے خوش اخلاقی نے ہی سب کے دلوں کو جیت لیا اور کافر بھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے۔

پیارے نبی کے آنے سے عرب بلکل جگمگا اٹھا۔ اندھیرا دور ہوگیا اور جہالت ختم ہوگئی اور سارے عرب میں چین و سکون ہوگیا۔آپ کی سیرت صرف عرب کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے مثال ہے۔آپ بےحد رحم دل تھے۔ اللہ نے آپ کو دنیا کے ظلم ختم کرنے اور ساری دنیا میں اسلام قائم کرنے کے لیے بھیجا۔ آپ دنیا میں ہر بوڑھے، بچے، جانور سبھی سے محبت کرتے تھے۔ اپنی قوم ہو یا دوسری قوم٬ اپنا ملک ہو یا کوئی اور ملک٬ یہاں تک کہ جو لوگ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں ان کی بھی محبت حضور کے دل میں رہتی تھی۔

قرآن پاک میں اللہ تعالی اپنے نبی کے سب سے اعلٰی درجہ کے اخلاق ہونے کے لئے قسم کھا رہا ہے۔ ان کا یہ مقام و رتبہ ہے کہ خدا خود ان کی تعریف کر رہا ہے۔ان کی سیرت، ان کی خوش مزاجی ان کی روزمرہ کی زندگی سے پتہ چلتی ہے۔ ہمارے نبی کریم سچ کے راستے پر چلنے والے تھے۔ جھوٹ زبان پر کبھی آیا ہی نہیں۔ میٹھی زبان بولنے والے تھے جن کا ہر لفظ دشمن کے دل کو بھی پگھلا دے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے عرب میں ہونے والے ظلم مٹنے لگے اور عورتوں کو اعلیٰ مقام دیا گیا۔

اس کے پہلے جب حضور اس دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے تو اس دور میں بیٹیوں کو زندہ دفنایا جاتا تھا۔ ان کے آنے سے ہی یہ دور ختم ہوا جس کی وجہ ان کا اخلاق تھا۔آپﷺ بچوں سے بہت زیادہ محبت کیا کرتے تھے اور یتیم بچوں سے تو اور بھی زیادہ۔

حضور اکرمﷺ نے ساری دنیا کو اسلام کے بارے میں محبت سے سمجھایا۔ بلکہ بہت ہی نرم مزاجی سے بتایا کہ اللہ ایک ہے اور اللہ کو مانو۔ وہی دنیا کا مالک ہے۔ وہی زندہ کرنے والا اور وہی مارنے والا ہے۔

شروع میں تو حضور کی باتیں لوگوں کو سمجھ نہیں آئیں اور سارے لوگ حضور پر ظلم کرنے لگے لیکن اللہ کے نبی نے امید نہیں چھوڑی اور ہر ایک شخص کے ساتھ نرمی سے پیش آتے رہے۔ اسی طرح دھیرے دھیرے اسلام مکمل طور سے پھیل گیا۔

پیارے نبی ﷺ کی خاص باتیں

  • • پیارے نبی فرض نماز سب کے سامنے پڑھتے اور نفل نماز چھپ کر پڑھتے تھے۔
  • • پیارے نبی کبھی غصہ نہیں کرتے تھے۔
  • • زیادہ سے زیادہ عبادت کرتے تھے اور اپنی امت کے لئے رو رو کر دعائیں مانگا کرتے تھے۔
  • • نبی کریم رجب کی ستائیسویں شب کو معراج پر گئے تھے۔
  • • حضور کبھی دو سالن نہیں پسند کرتے تھے (دو سالن کا مطلب اوپر سے گھی وغیرہ ڈالنا)
  • • حضور فاکے کی زندگی زیادہ بسر کرتے تھے۔
  • • پیارے نبی ہمیشہ چہرے پر ہلکی مسکراہٹ رکھتے تھے اور قہقہ لگانا انہیں سخت ناپسند تھا۔
  • • حضور کریم کے جسم کا سایہ نہیں تھا۔
  • • اللہ نے کلام پاک پیارے نبی پر نازل کیا۔

اللہ نے اپنے محبوب کو مظلوموں کا مسیحا بناکر بھیجا۔ ان کے آنے سے جتنی بھی باطل حکومتیں تھیں وہ ڈر سے کانپنے لگیں۔ آپ دنیا میں حق کی طرف داری کرنے آئے اور ساری دنیا کو اسلام سے روشن کر دیا۔

Close