Essay on Teacher’s Day in Urdu

استاد کا دن

ٹیچرس ڈے یعنی استاد کا دن۔ اس دن بچے جشن مناتے ہیں اور استاد کے سامنے اس عزت کو ظاہر کرتے ہیں جو وہ اپنے اندر محسوس کرتے ہیں۔ ٹیچرس ڈے کے دن کو ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کی پیدائش کے دن پر 5 ستمبر 1962ء سے منایا جاتا ہے۔

یہ اپنے آپ میں ایک مکمل اور بہت ہی قابل استاد تھے۔ اس لیے ٹیچرس ڈے کا جشن ان کی یاد میں منایا جاتا ہے اور سارے شاگردوں کو ان کی قابلیت کا احساس کرایا جاتا ہے۔ اس دن اسکولوں اور مدرسوں میں بچے اور نوجوان تہوار کی طرح ٹیچرس ڈے مناتے ہیں۔

استاد کا مرتبہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ ماں باپ کے بعد استاد کا درجہ دوسرے نمبر پر ہے۔ استاد وہ جوہری ہے جو ہم جیسے پتھر کو علم کے ذریعے تراش کر ہیرا بنا دیتا ہے۔

استاد اور شاگرد کا رشتہ برسوں سے چلا آ رہا ہے۔ برسوں سے استاد اپنے شاگرد کو علم و تعلیم دے کر قابل بنا رہا ہے اور پھر وہی شاگرد استاد بن کر دوسرے شاگرد کو علم سکھاتا ہے۔اور یہ سلسلہ اسی طرح ہمیشہ سے چلتا آ رہا ہے۔

استاد خدا کا دیا ہوا وہ نایاب تحفہ ہے جو بنا کسی لالچ کے اپنے سبھی شاگردوں کو صحیح اور غلط کی پہچان کراتا ہے۔ ماں باپ کے بعد استاد ہی ہوتا ہے جو بچوں کو ہر صحیح طریقہ سکھاتا ہے۔

ماں باپ اپنی اولاد کی ہر خوشی اور ان کی ہر ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ لیکن استاد اپنے شاگرد کے حوصلے کو بڑھاتا ہے اور اس کے آنے والے کل کو بہتر بنانے میں اس کی مدد کرتا ہے۔ایک بہت بڑا سچ یہ ہے کہ استاد کے بنا کوئی بھی انسان تعلیم نہیں حاصل کر سکتا۔

زندگی کے کسی بھی موڑ پر جب کبھی بھی ہم آکر پھنس جاتے ہیں تو اس وقت اپنے استاد کو یاد کرتے ہیں۔ کیونکہ ایک استاد کی صلاح زندگی بھر کام آتی ہے۔

ٹیچرس ڈے کا دن بہت ہی خوشی کا دن ہوتا ہے۔ اس خوشی کے دن میں اسکولوں اور مدرسوں کے سارے بچے مل کر ٹیچروں کا دل خوش کر ہیں اور اپنے اساتذہ کرام کو تحائف دیتے ہیں۔

سال بھر ایک طرح سے پڑھاتے پڑھاتے مدرسے اور اسکول کے سارے استاد اس دن کا انتظار کرتے ہیں۔ اپنے استاد کی سال بھر کی محنت کو جب شاگرد لفظوں میں بیان کرتے ہیں تو استاد کا دل بھر آتا ہے۔ اس دن بچے طرح طرح کے مزےدار پروگرام کرتے ہیں اور اپنے استاد کی نقل اتار کر سب کو لطف دلاتے ہیں۔

استاد بننا اور بچوں کو تعلیم دینا بہت ہی مشکل کام ہے۔ اس لئے ہم سب کو اپنے استاد کی عزت کرنی چاہئے اور ہمیشہ ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا چاہیے۔

Close