Essay On Television In Urdu | ٹیلی وژن پر مضمون

موجودہ دور سائنس کا دور کہلاتا ہے۔ آج کل سائنس نے کافی ترقی کی ہے۔ سائنسی ایجادات سے بنی نوح انسان کو کافی فائدہ پہنچا ہے۔ ٹیلی ویژن سائنس کی ایک جدید ایجاد ہے۔ یہ ایجاد سائنسدانوں کی محنت و مشقت سے وجود میں آئی ہے۔ سب سے پہلےایک نوجوان سائنسدان مسٹر جان بیئرڈ نے اپنی تجربہ گاہ میں ٹیلی ویژن کا تجربہ دکھایا تھا اور ساری دنیا کو حیران کر دیا تھا۔

ٹیلی ویژن بھی ایک قسم کا ریڈیو ہی ہے۔ مگر ریڈیو سے زیادہ اس میں یہ صفت ہے کہ تقریر کرنے والے یا گانے والے یا پروگرام پیش کرنے والے کی حرکت دیکھ سکتے ہیں اور ہر ایک بات بھی سن سکتے ہیں۔ یہ ایک سینما ہے جو گھر بیٹھے آرام سے دیکھا جا سکتا ہے۔اس کے ذریعے ہم ہزاروں میل دور سے تصویریں دیکھ سکتے ہیں۔ لندن، ٹوکیو، نیویارک، کراچی، لاہور، قاہرہ، دہلی، بمبئی، بنگلور وغیرہ کی گلیاں اور بازار ہم گھر بیٹھے بیٹھے دیکھ سکتے ہیں۔

تعلیم و تربیت کے لیے ٹیلی ویژن بہت ہی مفید ہے۔ اس کے ذریعہ جو تعلیمی لیکچر، فیچر یا ڈرامے نشر کئے جاتے ہیں وہ کافی شاندار اور متاثر کن ہوتے ہیں۔ اس پر ادبی، تعلیمی، ثقافتی اور اقتصادی پروگرام نشر ہوتے ہیں جن سے دیکھنے والوں کو کافی واقفیت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے ذریعہ ہر قسم کے لوگوں کے لئے عمدہ عمدہ پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔صحت و صفائی کے اصول اور کھیتی باڑی کے نئے نئے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں ترقی کا واحد ذریعہ ٹیلی ویژن ہی ہے۔

ملک کے ہر بڑے شہر میں ایک ٹیلی ویژن سٹیشن کام کررہا ہے۔ سرینگرمیں بھی ٹی-وی اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔ ہمارے ملک میں اس کا نام دوردرشن رکھا گیا ہے۔ اس کی اہمیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ رنگین قسم کے ٹیلی ویژن بنائے گئے ہیں۔ اگر اس ایجاد کو صحیح معنوں میں استعمال کیا جائے تو یقیناً یہ ایک فائدہ مند چیز ہے۔ اس سے زندگی کے ہر شعبے میں مدد ملتی ہے اور علم و ادب میں ترقی حاصل ہو سکتی ہے۔

Close