چوہا اور مینڈک کی کہانی

ایک تالاب میں ایک چوہا رہتا تھا اور ایک مینڈک بھی ٹرّاتا رہتا تھا۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ چوہے کو شکایت تھی کہ مینڈک ہر وقت ٹرٹر کرتا رہتا ہے نہ وقت دیکھتا ہے نہ موسم۔ خود بھی جاگتا ہے اور سب کو جگاتا ہے۔ اسکی ہر وقت کی ٹرٹر سے سر میں درد ہو جاتا ہے۔

مینڈک کہتا تھا کہ یہ چوہا چین سے نہیں بیٹھتا۔ اسکا تو کام بس گھومتے رہنا ہے۔ جب دیکھو سر ہلاتا گھومتا رہتا ہے اور پانی میں ہر وقت چھپ چھپ کر کے شور مچاتا ہے۔

پہلے تو یہ دونوں آگے پیچھے یہ باتیں کرتے رہتے تھے۔ پھر دونوں جب آمنے سامنے ہوتے تو ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے اور آپس میں اتنی لڑائی کرتے کہ سارے جانور جمع ہوجاتے مگر ان کی لڑائی جاری رہتی۔

ایک دن جب دونوں میں لڑائی شروع ہوئی تو چوہے نے میڈک سے کہا کہ وہ تالاب چھوڑ کر چلا جائے۔ کیونکہ تالاب کا مالک وہ نہیں ہے بلکہ چوہا ہے اور اس سے پہلے یہ جگہ چوہے کے باپ دادا کی تھی۔

مینڈک نے کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے اس جگہ کے مالک اس کے باپ دادا تھے۔ اور چوہے کو چاہیے کہ وہ کسی اور جگہ جا کر رہے۔

اس بات پر تو لڑائی اور بڑھ گئی۔ پہلے دونوں دور دور سے ایک دوسرے کو آنکھیں دکھاتے تھے اب یہ ہوا کہ گھتم گھتا ہوگئے۔

یہ سب ایک چیل بھی دیکھ رہی تھی۔ وہ بہت دنوں سے ان دونوں کی تاک میں تھی مگر یہ دونوں چھپ جایا کرتے تھے اور چیل کے ہاتھ نہ آتے تھے۔ اب یہ لڑنے میں چیل کو بھول گئے تھے، ایک دوسرے کی دشمنی میں اپنی دشمن چیل کو بھلا بیٹھے تھے۔

چیل موقع مناسب دیکھا اور تیزی سے جھپٹ کر ان دونوں کو جنگل میں لے کر اڑ گئی۔

اس کہانی سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوا کہ آپس کے جھگڑے میں دشمن کامیاب ہوجاتا ہے۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم چوہے اور مینڈک کی طرح آپس میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر لڑائی جھگڑا نہ کریں بلکہ خوشی خوشحالی اپنے آس پاس پڑوس میں سب کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور جھگڑا فساد سے اپنے آپ کو ہمیشہ بچائے رکھیں تاکہ کوئی دشمن ہم پر سبقت نہ لے جاسکے۔

Moral

جھگڑا کرنا بری بات ہے

Close