"حرکت میں برکت ہے” مضمون

"آرام حرام ہے” کا نعرہ ہندوستان کے مرحوم وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے لگایا تھا۔ یہ نعرہ نیا نہیں ہے بلکہ ہمارے بزرگ شروع سے ہی ہمیں تلقین کرتے چلے آئے ہیں کہ ہمیں ہر وقت جدوجہد کرنی چاہیے۔ کل کا کام آج اور آج کا کام ابھی کر لینا چاہیے۔ حرام خوری اور سستی کے خلاف ہمارے بزرگوں نے ہمیں بارہا وارننگ دی ہے۔

پنڈت جی نے ہمیں وہ بات یاد کرائی تھی جو ہماری قوم بول گئی تھی۔ پنڈت جی سمجھتے تھے اور ٹھیک ہی سمجھتے تھے کہ جو قوم کام کرتی ہے وہ ترقی کر جاتی ہے اور جو قوم کام سے جی چرا تی ہے، عیش طلب ہو جاتی ہے، زیادہ عرصہ اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتی۔

فرانس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہ قوم عیش طلب اور آرام طلب بن گئی تھی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ آرام طلب ہونے کے بعد فرانس والے عیش و عشرت میں پھنس گئے تھے اور عیاشی کی وجہ سے ان کا یہ حال ہوگیا تھا کہ جرمن والوں نے دوسری جنگ عظیم کے وقت جب فرانس پر حملہ کیا تو فرانس والے ان کا ایک دن بھی مقابلہ نہ کرسکے اور ہتھیار پھینک دیے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے وقت وقت یہ دیش تباہ ہوگیا تھا۔ اسے بہت بری طرح سے شکست ہوئی تھی۔ مگر اس دیش کے نوجوانوں نے دن رات کام کیا۔ ان کے لئے کام خدا کی عبادت تھی اور آرام حرام تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چند ہی سالوں میں جاپان دوبارہ اپنے پاؤں پر ہی کھڑا نہیں ہوا بلکہ اس نے پہلے سے بھی کئی گنا زیادہ ترقی کر لی ہے۔ آج ہر جاپانی امیر ہے، وہاں غربت کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ ہر جاپانی کو صحت مند خوراک ملتی ہے اور باعزت زندگی گزار رہا ہے۔

ہر جاپانی لگاتار آٹھ دس گھنٹے روز کام کرتا ہے۔ کام کے وقت وہ پوری ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی دیتا ہے۔ وہ اپنا کام کرتا ہو یا کسی کا کارخانہ میں ملازم ہو یا سرکاری نوکر ہو و ہمیشہ دل لگا کر کام کرتا ہے۔یہی وجہ کے محنت سے ان لوگوں نے اپنی حالت بدل لی ہے اور جاپانی لوگ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو خدا ہماری قسمت بھی ساتھ ہی لکھ دیتا ہے۔ ہم محنت زیادہ کریں یا کم ہماری قسمت میں جو لکھا ہے وہ تو ہمیں مل ہی جانا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ خدا ہماری قسمت بناتا ہے مگر خدا نے کسی بھی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ ہم کام نہ کریں۔

خدا نے تو ہمیں کام کرنے کی تلقین کی ہے۔ اس کا ثبوت ہمارا دماغ اور ہمارے بازو اور ٹانگیں وغیرہ ہیں۔ خدا نے ہمیں ہاتھ کام کرنے کے لیے دیے ہیں۔ اگر خدا کی ایسی خواہش نہ ہوتی تو پھر ہاتھوں کی بجائے ہمیں بھی پرندوں کی طرح خدا نے چونچیں عطا فرمائی ہوتیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ پرندے بھی کام کرتے ہیں۔ وہ اپنی ضرورت کے مطابق اپنے گھر بناتے ہیں۔ برسات کے دنوں کے لیے چونٹیاں اپنے سے دس گنا وزن والی اشیاء اٹھا کر اپنے اسٹور میں لے جاتی ہیں۔ چیونٹی کی زندگی ہمیں سبق دیتی ہے کہ ہم لگاتار کام کریں اور پوری ایمانداری کے ساتھ کام کریں تاکہ آنے والی زندگی کو آرام سے بسر کر سکیں۔ خدا کے روزی غیرہ دینے کے بارے ایک کہانی یوں ہے۔

کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک بار یار سوچا کہ اگر خدا ہماری پیدائش کے وقت ہی ہماری قسمت کا فیصلہ کر دیتا ہے اور دانہ دانہ پر مہر ہوتی ہے تو پھر اس کی صداقت کی آزمائش کیوں نہ کی جائے۔ اگر خدا نے مجھے آج کھانا دینا ہے تو دیکھتا ہوں کہ وہ بغیر ہاتھ ہلائے بھی دیتا ہے یا نہیں۔ یہ سوچ کر وہ جنگل میں گیا اور ایک درخت تلے لپٹ گیا۔

تین چار گھنٹوں بعد وہاں سے ایک قافلہ گزرا۔ جب قافلہ کے تاجروں نے اسے یوں نیم بے ہوش حالت میں دیکھا تو سوچا کہ شاید بھوک کی وجہ سے اس مسافر کا یہ حال ہوا ہے۔ انہوں نے اس کا منہ کھول کر اس کے منہ میں دودھ ڈالنے کی کوشش کی مگر اس آدمی نے خدا کی آزمائش کے خیال سے اپنا منہ بند کر لیا اور آنکھیں موند لیں۔اب تاجروں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس شخص کو موت سے بچانا ہے اس لیے انہوں نے دودھ پلانے کے لئے ایک پتھر اٹھا کر اس کے دو تین دانت توڑ دیے اور اس کے منہ میں دودھ ڈال دیا۔اب درد سے کراہتے ہوئے اس شخص نے اپنے آپ سے کہا کہ خدا رزق تو پھر بھی دے دیتا ہے مگر دانت توڑ کر۔ اگر انسان اپنے ہاتھ سے کام لے اور محنت کرے تو اس کے دانت نہیں ٹوٹیں گے۔

یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خدا نے اگرچہ ہماری قسمت کا فیصلہ کردیا ہے مگر ساتھ ہی اس نے ہمیں کام کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں بھی دیے ہیں۔ اور ہماری یہ ڈیوٹی لگائی ہے کہ محنت کر کے اپنا رزق کمائیں اور زندگی میں کام کے وقت کام کریں اور آرام کے وقت آرام کریں۔

طلباء کو بھی چاہیے کہ وہ اسکول میں پڑھائی کرکے جب واپس آتے ہیں تو اپنے کام کا وقت اور کھیل کود کا وقت مقرر کر لیں۔ اور اس کے بعد کام کے وقت کام کریں اور آرام کے وقت آرام کریں۔ اس طرح وہ پڑھائی میں بھی لائق ہو جائیں گے اور اچھی صحت کے مالک بھی ہوں گے۔ کام کرنے کے بعد انہیں خوشی بھی محسوس ہوگی کیونکہ جو شخص اپنی ڈیوٹی ایمانداری کے ساتھ دیتا ہے اسے ایک روحانی خوشی محسوس ہوتی ہے۔

Close