Advertisement

اعتدال اسلام کا مزاج

خالق کائنات نے انسانیت کے لیے جو دین چنا ہے وہ عین انسانی فطرت اور اس کی سکت زندگی کے مطابق چنا گیا ہے۔ایک ایسا دین، ایسا طرزِ زندگی جو انسانیت کو قطعاً مجبوری اور زبردستی کی راہیں دراز نہیں کرتا ہے۔ بلکہ انسان کی اپنی سکت اور توانائی پر چھوڑ دیا ہے۔ انسان کی اپنی استطاعت اور قدرت کے حساب سے چسپاں کیا گیا ہے۔انسان کی قابلیت،اس کی قوت اور استعداد کو ملحوظ نظر رکھ کر اس کے خالق نے اس سے دین کے حوالے سے جائز مطالبات اس کے سامنے رکھ دئے ہیں۔اس پر کسی قسم کا کوئی ایسا بوجھ اس کے کندھوں پر نہیں لادھا کہ وہ اٹھا نہ پائے۔ خود خالق کائنات نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے؛
لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ‌ؕ
ترجمہ۔ اللہ کسی بھی نفس پر اس کی قدرت سے بڑھ کر زمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ہے۔

اس فرمان سے ہم بآسانی اس تصور سے آگہی حاصل کرسکتے ہیں کہ دین کے تقاضے انسانیت پر بوجھ نہیں ہیں اور نا ہی انسان کی جبلت کے برعکس ہے،بلکہ سہل اور آسان پر مبنی ہے جو انسانوں کو صحیح اور اعتدال کے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

انسان سے اپنے خالق کی طرف سے ہرگز ایسے مطالبات نہیں ہیں جس سے اس کا وجود مشکل اور مصیبت میں مبتلا ہوجاۓ۔ دین کے تقاضوں کو پورا کرنے کے دوران اسلام کٹھن ذرائع استعمال کرنے سے روکتا ہے اور ان ذرائع کو استعمال کرنے کی ہدایات دیتا ہے جس سے اس کی زندگی تشدد اور جارحیت سے پاک ہو۔

Advertisement

عبادات کے دوران وہ ایسے اقدامات نہ کرے جس کے باعث اس کی زندگی کا سفر ہمیشہ کے لیے رک ہی جاۓ۔عبادات میں میانہ روی اپنانا اللہ کا حکم ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہمیں دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ – يُرِيۡدُ اللّٰهُ بِکُمُ الۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ۔ "اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے اور سختی نہیں کرنا چاہتا ہے.”

خالق کائنات اپنی مخلوق سے ہمدردی اور شفقت کا اظہار اس شدید انداز سے کرتا ہے کہ والدین کی شفقت اور الفت مغلوب سے مغلوب تر ہوجاتی ہے۔ اللہ ہی نے ہم سب کو پیدا کیا ہے تو اس سے بڑھ کر کون ہستی اور ذات ہوگی جو اپنی مخلوق کی نفسیات کو جانتا ہو؟ وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی کمزوری اور بے بسی سے کامل واقف ہے۔وہی صرف جانتا ہے کہ کس قسم کا بوجھ میرے بندے اٹھا سکتے ہیں؟ اسی لئے اس خالق نے اسلام پر چلنے والوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ ” لوگوں کو حکمت اورعمدہ نصیحت کے ذریعے دعوت دی:
اُدۡعُ اِلٰى سَبِيۡلِ رَبِّكَ بِالۡحِكۡمَةِ وَالۡمَوۡعِظَةِ الحَسَنَةِ‌۔(125)
یعنی شدت پسندی اور کٹرپنتی سے گریز کرنا ہے۔

اس طریقہ سے نہ بلانا جس سے لوگ دشواری اور پیچیدگی محسوس کریں۔جس سے یہ دین انسانیت پر بوجھ بنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسلمانوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ "يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلاَ تنفرو” لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور مشکلات نہ پیدا کرو اور ان کو تسلیاں دو اور نفرت نہ دلاؤ”۔

اس تصور اعتدال کو سمجھنے کے لیے ہمارے پاس وافر مقدار میں ذرائع موجود ہے۔قرآن ہمارے پاس ہے اس کو ہم سامنے رکھ کر تصور اعتدال سے آگہی حاصل کرسکتے ہیں۔ایک اور جگہ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے۔
وَاقۡصِدۡ فِىۡ مَشۡيِكَ وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ‌ؕ۔ "اپنی چال میں اعتدال رکھ اور اپنی آواز ذرا پست رکھ۔-"
یعنی ہماری چال ڈھال،ہمارا وضع قطع اور ہمارا بودو باش اس سب میں اعتدال اور درمیانی صورت کرنا لازمی ہے۔اسلام شدت پسندی کو بالکل ناپسند اور اس سے گریز کرنے پر ابھارتا ہے۔

ایک مسلمان اگر اس طریقے سے عبادات کرتا ہے جس سے وہ باقی ضروری افعال سے بے رغبت ہوجاتا ہے تو وہ اس شدت پسندی کے باعث اپنے اوپر وبال کھڑا کرتا ہے جو اللہ کو نا پسند ہے۔ یہاں پر حقیقت سے پردہ اٹھانا بے جا نہ ہوگا کہ امت مسلمہ میں عبادات میں شدت پسندی کا رجحان غالب ہے۔ جس سے باقی لوگ آسان دین کو مشکل اور بوجھ سمجھ کر اس سے متنفر ہوجاتے ہیں۔ مختلف طریقوں سے یہ شدت پسندی کا پہلو عیاں ہوتا ہے۔ ایک تو ہمارا ذمہدار طبقہ جو عوام الناس کے سامنے اس دین فطرت کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ سامنے والا تشویش میں پڑ کر دین سے دوری کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے اندر کشش اور تجسس کی حس ختم ہو جاتی ہے۔وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اگر میں فلاں فلاں کام کروں گا تو میرے ساتھ ایسا ویسا ہوگا۔ اور آخرکار دین بیزار بن جاتا ہے۔

لوگوں کے اندر اس آسان دین کا صحیح روح پھونکا نہیں جاتا ہے۔جب یہی لوگ ایسا سن کر دین سے بے رغبت ہوجاتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں منفی سوچ گر کر لیتی ہے۔ ہم داعی لوگ داعیانہ اوصاف سے بہت کمزور ہیں۔۔ ہم قرآن کے اس داعیانہ اصول کو یا تو جانتے ہی نہیں ہیں یا اس کو نظر انداز کرتے ہیں۔ وہ اصول جو قرآن نے دیا ہے ” لوگوں کو بلاؤ اپنے رب کی طرف حکمت اورعمدہ نصیحت سے ” ہم دعوت دیتے وقت فروعی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔ مثلآ، اسلام میں اگر آنا ہے تو پھر آپ کو کرتہ پاجامہ ہی پہننا پڑے گا۔ اسلام میں اگر داخل ہونا ہے تو اسکول وردی کو بھی کرتہ پاجامہ ہی سلوانا ہوگا۔ آپ کو پھر فلاں مقدار تک داڈھی رکھنی پڑےگی۔ آپ کو پھر ٹوپی پہننی ہی پہننی ہے۔

اس طرح سے بہت سارے ایسے زائل اور فروعی مسائل ہیں جن کو ہم لوگوں کے سامنے اجاگر کرکے ان کو دین سے متنفر کرتے ہیں۔ ان چھوٹے چھوٹے مسائل کو ہم اسلام میں اول درجے پہ رکھتے ہیں۔ ایسا بلکل بھی نہیں ہے کہ میں کرتہ پاجامہ،داڈھی اورٹوپی کے خلاف ہوں۔ یہ بھی پھر ایک آزادانہ شدت پسندی ہے اگر میں ان کو کوئی درجہ ہی نہ دوں۔ الحمدللہ میں نے داڈھی بھی رکھی ہے،کرتہ پاجامہ بھی پہن لیتا ہوں اور ٹوپی کا اہتمام بھی کرتا ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے بغیر مسلمان اسلام سے خارج نہیں ہوتا ہے۔ اور یہ فروعی معاملات بعد میں بھی حل کیے جاسکتے ہیں۔

اسلام کے نقطۂ نظر سے اگر دیکھا جائے تو اسلام کوئی خاص لباس اور کوئی خاص طرزِ زندگی انسان کے لیے مقرر نہیں کرتا ہے،بلکہ فطری طور پر جس جس طرزِ زندگی اور وضع لباس نے نشوونما پایا ہے،اس کو جوں کا توں تسلیم کرلیتا ہے۔ البتہ خاص اصول مقرر کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہر قوم اپنے قومی لباس اور طرزِ معاشرت میں ان اصولوں کے مطابق اصلاح کرلے۔

✓ ان میں سب سے پہلے ستر کے حدود ہیں۔ اخلاق کے نقطۂ نظر سے اسلام اس کو ضروری سمجھتا ہے کہ تمام مرد لازمی طور پر اپنے جسم کے ان حصوں کو چھپائیں جو ناف اور گھٹنے کے درمیان ہیں۔ اور تمام عورتیں،چہرے اور ہاتھ پاؤں کے سوا اپنے پورے جسم کو مستور رکھیں۔

✓ دوسری ضروری اصلاح جو اسلام نے تجویز کی ہے وہ یہ ہے کہ مرد ریشم کا لباس اور سونے چاندی کے زیورات پہننا چھوڑدیں۔ اور مرد اور عورتیں سب ایسے لباس پہننے سے احتراز کریں جن سے فخر و غرور،بے جا نمائش اور عیش پسندی کا اظہار ہو۔ وہ تکبر کے لباس جنھیں پہن کر ایک انسان دوسرے انسانوں کے مقابلے میں اپنی بڑائی جتاتا ہے،اسلام کی نظر میں لعنت کے قابل ہیں۔

✓ تیسری چیز جس کا مطالبہ اسلام کرتا ہے وہ یہ ہے کہ شرک اور بت پرستی کو وہ مخصوص علامتیں جنھیں کسی مذہبی فرقے نے اپنے لئے خاص کر رکھا ہو،آپ کے لباس سے خارج ہونی چاہیے۔

یہ تھیں چند باتیں لباس کے حوالے سے جنکا یہاں قلمبند کرنا اہم تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی ہمارے سامنے ہے۔ان کی پوری زندگی کے روشن پہلو روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔وہ ہر معاملے میں میانہ روی کے حامل تھے۔ وہ فرماتے ہیں بہترین کام وہ ہیں جو میانہ روی کے ساتھ کیے جائیں۔اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ "اعمال میں میانہ روی اختیار کرو اور اللہ کا قرب حاصل کرو”۔

ہمیں خالق نے اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے اور اس عبادت پر ملنے والے اجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے لیکن عبادات میں فرائض کے علاوہ نفلی عبادات کی ایسی کثرت جو ہمیں فرائض سے غافل کردے اور جو ہمیں باقی ذمہداریوں سے غافل کردے گناہ ہیں۔ مثلاً نماز کی ادائیگی ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔اب اگر کوئی مرد مسجد جاکر نماز مکمل کرکے پھر مسجد میں دیر تک نوافل یا باقی تسبیح پڑھنے لگتا ہے اور معاش جیس اہم ذمہداریوں سے غافل ہوا تو رب کے کٹہرے میں وہ بندہ مجرم ٹھہرایا جائے گا۔ کیونکہ وہ جو معاش والی ذمہ داری تھی وہ بھی اس پر ایک اہم فرائض میں سے تھا۔ اس کے اوپر اللہ نے دو قسم کی ذمہداریاں سونپ دیں ہیں جو یکساں طور پر انجام دینا لازمی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جو ذمہداریاں ہم پر عائد کی ہیں ان کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ تبھی ہم ان ذمہداریوں کو بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔ دو طرح کی ذمہداریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں۔اور ان ہی دو ذمہداریوں میں بندگی کے کامل تقاضے پورے ہوتے ہیں۔

حقوق اللہ:

یہ وہ حقوق کہلاتے ہیں جو ہم اللہ کی ذات کے لیے انجام دیتے ہیں۔ حقیقت میں تو یہ کام ہم اپنی ذات کے لیے کرتے ہیں کیونکہ اس سے ہماری ہی ذات کا بھلا ہوتا ہے لیکن چونکہ اوپر بتایا گیا ہے کہ ہمیں اس نے اپنی بندگی کے لیے پیدا فرمایا ہے تو فوائد ہمارے ہی تو ہیں۔ مثلاً ،نماز کو قائم کرنا،رمضان کے روزے رکھنا،اپنے مال میں سے زکوٰۃ ادا کرنا،اگر صاحب استطاعت ہے تو بیت اللہ کی زیارت کرنا، دین کی سربلندی اور اس کے قیام کے لیے تن من دھن جدوجہد کرنا اورامربالمعروف اور نہیعن المنکر کا کام کرنا یہ سب حقوق اللہ کے زمرے میں شامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور اہم دوسری ذمہداری بھی ہے جو حقوق العباد کہلاتا ہے۔

حقوق العباد:

ایسے حقوق جو خالق کائنات کی مخلوق کی خاطر ہم انجام دیتے ہیں۔جس میں ہمیں انسانیت کی بقا اور اس کی فلاح و بہبودی کے لئے کام کرنے کا حکم ہے۔اگر کوئی انسان ضرورت مند ہے تو اسکی ان ضرورتوں کو پورا کرنا ہم پر لازم ہے۔ کوئی بے بس اور مفلس ہے تو اس کی بے بسی اور مفلسی اس سے دور کرنے کی کوشش کرنا ہم پر لازم ہے۔ کوئی ضعیف اور ناتواں ہے تو اس کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانا ہم پر لازم ہے۔

مظلوم کے حق میں صدائے احتجاج بلند کرنا اور ان کے حقوق کی تحفظ ہماری ذمہداری ہے۔ لوگوں کے لیے آسانیاں ڈھونڈنا اور مشکلات سے چھٹکارا دینا ہم داعیوں کی مجموعی ذمہداری ہے۔

اب مسئلہ ہم لوگوں نے خود کھڑا کر رکھا ہے وہ یہ کہ ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد کے درمیان توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ دو طرح کے گروہ ہیں،ان میں سے ایک گروہ حقوق اللہ کو اس طریقے سے انجام دیتا ہے کہ وہ حقوق العباد کو نظر انداز کرجاتا ہے۔ وہ حقوق العباد سے تغافل برتتا ہے۔

دوسرا گروہ ایسا ہے کہ وہ حقوق العباد کو اس انداز سے انجام دیتا ہے کہ وہ حقوق اللہ سے غافل ہوجاتا ہے۔ دونوں گروہ ایک (Extremism) کے شکار ہوکر بندگئی خالق میں اعتدال کی روش سے ہٹ کر شدت پسندی اور صعوبتوں والا راستہ اختیار کر لیتے ہیں جو اسلام کے برخلاف اور نقصان رساں افعال ہیں جن سے ہمیں اجتناب کرنا لازمی ہے۔

اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ان دونوں قسم کی ذمہداریوں کو یکساں طور پر انجام دینا ہے۔ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ یہ بات مظبوطی کے ساتھ ہمارے ذہنوں میں بیٹھنی چاہیے کہ ہم پر اسی خالق کی مخلوق پر بھی حقوق ہیں۔ اپنے اہل و عیال کے حقوق،پڑوسیوں کے حقوق، قرابت داروں کے حقوق، دوستوں کے حقوق، اساتذہ کے حقوق وغیرہ۔ ان میں سے ایک بھی اگر جان بوجھ کر نظر انداز ہوتا ہے تو ہم گناہ کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اگر اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں کوئی کمی بیشی رہ جائے تو معافی اور توبہ سے گناہ ٹل جائے گا۔ لیکن حقوق العباد کے سلسلے میں کوتاہی ہونا ایک نازک مسلہ ہے۔ اس میں تب تک معافی ممکن نہیں ہے جب تک کہ بندے معاف نہ کریں۔ گویا کہ یہاں پھر بندوں کے ساتھ سامنا رہ جاتا ہے جن کو منانے میں وقت لگتا ہے۔اس لیے ہر فعل اور ہر عبادت میں توازن تب ہی ممکن ہے جب ہم اعتدال کے دامن کو ہر وقت تھامے رکھیں۔

راقم الحروفغازی نصیب الدین