دنیا دارالامتحان ہے۔ یہ ہمارا آئیڈیل ھوم نہیں ہے لیکن سائنسدانوں نے اسے آئیڈیل ھوم بنانے کی جدوجہد میں اور زیادہ مصیبتوں کا گھر بنا دیا ہے جس کا مشاہدہ ہم اپنے اردگرد کے ماحول سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ دنیا میں تمام تر سہولتیں میسر ہونے کے باوجود آج کا انسان پریشانیوں میں مبتلا ہے۔ حال ہی میں تمام لوگ کورونا وائرس جیسی بیماری کا نشانہ بن رہے ہیں اور ابھی تک اس کے کنٹرول کے لئے کوئی دوا وجود میں نہیں آئی۔

کورونا وائرس کی تعریف

کورونا وائرس ایک گروپ وائرس ہے جو کہ ایک انفکشن ہوتا ہے۔ جس انسان کو کرونا وائرس ہو اسے نزلہ، کھانسی، اور بخار کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔حرام جانوروں کا گوشت کھانے سے اس کا وجود ہوا۔

کرونا کے معنی "تاج یا ہالہ” کے ہیں، چونکہ یہ وائرس ظاہر شکل میں سورج کے ہالے کے مانند ہوتا ہے اس لیے اسے ‘ کرونا کہتے ہیں۔

کورونا وائرس کے آثار یا علامات

ناک سے پانی کا آنا، گلے میں درد ہونا، چھینکیں آنا، سانس لینے میں پریشانی ہونا، نزلہ کھانسی زکام یا بخار وغیرہ یہ سبھی کورونا وائرس کی علامات ہیں۔ان تمام علامات کے پیشِ نظر ہمیں چاہئے کہ ہم ایک دوسرے سے ایک میٹر کی دوری بنائے رکھیں۔ لیکن ہمارے نبی کا فرمان ہے کہ ” لا عدوا في الاسلام” یعنی اسلام میں کوئی چھواچھوت نہیں ہے اور زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے، بیماری سے کوئی نہیں مرتا لیکن اس کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ ہم احتیاط نہ برتیں۔ احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جہاں وبا پھیل جائے وہاں کوئی شخص نہ جائے اور جو وہاں موجود ہیں وہ باہر نہ آئیں۔

احتیاطی تدابیر

  • بھیڑ اور ہجوم والی جگہوں سے اجتناب کریں۔
  • صفائی ستھرائی کا خیال رکھیے بالخصوص اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح صابن اور پانی سے دھوئیں۔
  • مستقل بخار، کھانسی، نزلہ یا سانس لینے میں دشواری ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کیجئے۔
  • گندے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کیجئے۔
  • باوضو رہئیے اور نمازوں کی پابندی کیجئے۔
  • روزمرہ استعمال کے برتنوں کو اچھی طرح صاف کیجئے۔
  • بغیر دھلے پھل اور سبزیاں کھانے سے اجتناب کیجئے۔
  • کھانستے اور چھینکتے وقت اپنے منہ اور ناک کو ڈھانپ لیجیے۔
  • پانی ابال کر پیئیں اور سورج کی حرارت حاصل کریں۔
  • اس بیماری کا مذاق نہ بنائیں۔
  • اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ایسی قوموں کا تذکرہ فرمایا ہے جنہوں نے اس کے عذاب کا مذاق اڑایا اور بعد میں وہ تباہ و برباد ہوگئیں۔ اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ کورونا وائرس کے بارے میں مزاحیہ میسج مت پھیلائیں۔ ہم پر اللہ تعالی کا احسان ہے کہ ہمارے یہاں اتنی تباہی نہیں ہو رہی ورنہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تک بے بس اور لاچار ہیں اور روز درجنوں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ اب تک تقریباً ٧٠٠٠ لوگ راہ عدم کو کوچ کر چکے ہیں۔ ہم کو ایسے وقت میں استغفار کرنے کی ضرورت ہے بجائے اسکے ابوجہل(لعنت اللہ علیہ) کی طرح اللہ تعالی کے عذاب کا کھیل تماشہ کریں۔

فی الحال دنیاوی لحاظ سے اس کا علاج ناممکن ہے لیکن ہم قرآن سے اس کے علاج کو ممکن کر سکتے ہیں کیونکہ جب انسان بیماریوں سے عاجز آ جاتا ہے تو ڈاکٹر بھی اسے روحانی علاج کا مشورہ دیتے ہیں۔ فی الوقت ڈاکٹر بھی کرونا وائرس جیسی بیماری کا علاج کرنے سے قاصر ہیں تو اس صورتحال میں ہمارا تو یہی مشورہ ہے کہ ہم اپنا علاج قرآن کریم سے کریں۔

ہمارا تو یہی عقیدہ ہے کہ جو کام ادویات نہیں کرسکتیں اس کا حل اللہ کے کلام موجود ہے کیونکہ کلام ربانی میں میں شفائے کاملہ موجود ہے۔ ویسے تو ہم کسی بھی آیت یا سورت سے علاج کر سکتے ہیں لیکن حضورﷺ کے فرمان کے مطابق سورۃ فاتحہ میں بہت سی بیماریوں کی شفا ہے۔

کورونا وائرس کا علاج

آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سورۃ الفاتحہ ہر بیماری کے لئے شفا ہے۔اس کے علاوہ سورۃ الفاتحہ پڑھنے میں آسان ہونے کے ساتھ ساتھ مضمون میں جامع، ثواب میں پورے قرآن کے ختم کے برابر اور پورے قرآن کا خلاصہ بھی ہے۔ تو اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمام کھانے پینے کی اشیاء پر سورہ فاتحہ پڑھ کر کھائیں اور کثرت سے سورہ فاتحہ کا پڑھنا ثواب ہونے کے ساتھ ساتھ ہر مسئلے کا حل بھی ہے۔ روزانہ اول و آخر درود پاک کے ساتھ گیارہ مرتبہ پڑھنے والے روحانی طور پر مضبوط ہو جاتے ہیں اور بے شمار امراض سے بھی نجات پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں میں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر اللہ نے ہی کوئی تکلیف مقرر کر دی تو اس کے سوا اس سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ تو ہمیں کرونا وائرس سے ڈرنے کے بجائے اپنے رب سے ڈرنا چاہیے، اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اس کی نافرمانی چھوڑ دینا چاہیے، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھنا چاہیے، اسی میں ہماری نجات ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔آمین۔