Allama Iqbal Ki Shairana Azmat

اقبال کی شاعرانہ عظمت

اقبال کو شعرگوئی یعنی شعر و شاعری کا شوق بچپن ہی سے تھا۔وہ طالب علمی کے زمانے سے ہی طبع آزمائی کرتے تھے۔انہوں نے اپنی شاعری کے پہلے دور کا آغاز اپنی مشہور نظم "نالہ یتیم” سے کیا۔پھر یہ سلسلہ آخر تک برابر جاری رہا۔

ابتدامیں انہوں نے خط وکتابت کے ذریعے داغ سے اصلاح لینا شروع کیا جس کا اقبال کی زبان و شاعری پر بہت بڑا اثر پڑا۔اقبال کا شمار دنیا کے چند بلند پایہ شعراء میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے شاعرانہ کمالات کی بدولت عالمگیر شہرت و عظمت حاصل کی۔اقبال نہ صرف شاعر بلکہ بلند پایہ مفکر، فلسفی، حکیم الامت، مصلح قوم و ملک، عظیم مجتہد، اور روشن خیال و حساس انسان تھے۔ان کے کلام میں اخلاقی قدریں ہیں،۔قومی درد، خدمت، جوش، فلسفہ، تصوف، دعوت عمل، جذبۂ حب الوطنی، آریش تہذیب اور تعلیم اخلاق سب کچھ موجود ہے۔

اقبال کا کلام فلسفیانہ حقائق سے بھرا ہوا ہے۔ ان کا عام انداز بیان فلسفیانہ ہے۔اقبال کی غزلوں میں تغزل کے ساتھ جدید شاعری کی تمام اہم خصوصیات موجود ہیں۔سوزوگداز، سلاست، روانی، شوخی و رنگینی، ندرت ادا، تشبیہات و استعارات، جوش بیان اور شگفتگی ان کے کلام کی خصوصیات ہیں۔اقبال نے غزل کو ایک نیا رنگ دیا۔ وہ اپنے امتیازی رنگ میں ممتاز تھے۔ان کے فلسفے میں جہد و عمل کی بڑی اہمیت ہے۔انہوں نے اپنی بات کو زیادہ سے زیادہ پر اثر بنانے کی کوشش کی ہے۔اقبال نے اپنی شاعری میں صنعت تلمیح سے بہت کام لیا ہے۔استعارے اور تشبیہات تو ان کی شاعری کی جان ہیں۔صنعت  تلمیخ میں شاعر اپنے اشعار میں کسی تاریخی یا نیم تاریخی واقعہ کا ذکر کرتا ہے۔یہ صنعت اقبال کے کلام میں عام ہے۔

اقبال کی شاعری میں ایک خاص قسم کا ترنم پایا جاتا ہے۔ان کی دنیا حوصلہ و امید کی دنیا ہے۔بے عملی اور مایوسی سے انہیں زندگی بھر نفرت رہی۔ان کی شاعری غیر محدود نہیں ہے۔ان کے حسن و عشق کا تصور سطحی و مجازی نہیں بلکہ عشق حقیقی کی جھلک نظر آتی ہے۔مناظر قدرت کی کامیابی سے تصویر کشی کی ہے۔اقبال اردو کے ان شعراء میں سے تھے جنہوں نے مغربی خیالات سے متاثر ہوکر اردو میں کامیابی کے ساتھ نئے مضامین کو جگہ دی اور فلسفیانہ تخیل سے مضمون کو نہایت بلند اور شاندار بنایا۔اور اردو شاعری کو ایک نیا میدان عطا کیا۔اقبال کے کلام میں میر کا سوزوگداز، درد کی تاثیر، غالب کی جدت، مومن کی نازک خیالی،ذوق کی روانی،شیکسپیر کی فطرت نگاری اور شبلی کی شیریں کلامی پائی جاتی ہے۔اس میں شک نہیں کہ اقبال نے ابتدا میں مرزا داغ سے غائبانہ طور پر اصلاح لی لیکن ان کے کلام پر غالب کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔

اقبال دنیا کے پہلے شاعر تھے جنہوں نے ادب اور فلسفہ کو اصلاحی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ان کے فلسفہ کا خلاصہ خودشناشی و خود نگری ہے۔ان کے کلام سے علم و یقین کی مکمل توانائی ظاہر ہوتی ہے۔ان کے اعتقاد میں شگفتگی اور شاعری میں مذہبی شگفتگی پائی جاتی ہے۔ان کی شاعری میں فلسفہ اور فلسفے میں شعریت کا عنصر ملتا ہے۔ان کی غزل میں واقعیت اور نظم میں غزل کی نشتریت پائی جاتی ہے۔اقبال خالص انسانیت کے سچے ہمدرد تھے۔ ان کے دل میں ساری دنیا کا درد موجود تھا۔

اقبال نے شعر گوئی کا آغاز غزل سے کیا، ان کی غزلوں میں جدید خیالات ونظریات پائے جاتے ہیں۔لیکن ابتدائی غزلوں کے عکس دھندلے ہیں۔کثرت عشق اور امتداد عمر سے غزل گوئی میں برترین نکھار آتا گیا۔غزلیات کے ساتھ ساتھ اقبال نے جدید رنگ کی نیچرل، قومی اور وطنی نظمیں بھی لکھیں،جو دلکش اور روح پرور ہیں۔ان کی نظم نگاری کا سلسلہ آخر تک جاری رہا۔نظم گوئی کے سلسلے میں حالی نے جو کام شروع کیا تھا اسے انہوں نے مکمل کر دیا۔اقبال کی شاعری کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔پہلا دور ابتداء سے لے کر ١٩٠٥ء  تک رہا۔اس دور کے کلام میں حب الوطنی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔دوسرا دور ١٩٠٦ ءسے ١٩١١ء تک رہا۔اس دور کے کلام میں عشق حقیقی کی جھلک ہے۔تیسرا دور ١٩١١ء سے ١٩٤٣ء تک رہا۔اس دور کا کلام فلسفہ سے بھرپور ہے۔چوتھا دور ١٩٣٤ء سے آخر تک رہا اس دور کے کلام میں زندگی کی بہترین تنقید موجود ہے۔

اردو زبان و ادب پر اقبال کے بے شمار احسانات ہیں۔اقبال صرف شاعر مشرق نہیں بلکہ ہمہ گیر اور غیر منقسم انسانیت کے شاعر تھے۔علم الاقتصاد،فلسفہ ایران،بانگ درا،با ل جبر یل،ضرب کلیم،ارمغان حجاز،حرف اقبال،اقبال نامہ،اسرار خودی،پیام مشرق،زبور عجم، جاوید نامہ،کلیات اقبال۔اقبال کی اہم تصانیف ہیں۔

Close