Jawaharlal Nehru Essay In Urdu | پنڈت جواہرلال نہرو

پنڈت جواہرلال نہرو

پنڈت جواہرلال نہرو کشمیری برہمن تھے۔ ان کی پیدائش 14 نومبر 1889ء میں آلہ باد میں ہوئی تھی۔ وہ مشہور رہنما پنڈت موتی لال نہرو کے صاحبزادے تھے۔پنڈت موتی لال نہرو کو کون ہندوستانی نہیں جانتا۔ ان کی قربانی ہندوستان کی تاریخ فراموش نہیں کرسکتی۔

پنڈت جواہر لال نہرو نے انگلینڈ میں تعلیم حاصل کی اور ایک بیرسٹر کی حیثیت سے ہندوستان آئے۔ ہندوستان آتے ہی انہوں نے ہندوستان کی سیاست میں دلچسپی لی۔ غلام ہندوستان کو وہ بھی آزاد دیکھنا چاہتے تھے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے کانگریس میں شامل ہونا پسند کیا۔کانگریس میں شامل ہوتے ہی انہوں نے اپنی محنت اور مشقت سے وہاں ایک اعلی مقام حاصل کرلیا۔

ان کی صلاحیتوں کو ابھرنے کا خوب موقع ملا۔ گاندھی جی کی صحبت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا اور وہ ہندوستان کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ چالیس برس کی عمر میں 1929ء میں وہ کانگریس کے صدر چنے گئے۔مکمل آزادی کا اعلان اسی وقت ہوا جب وہ کانگریس کے صدر تھے۔ انہوں نے آزادی کے لئے بہت سی مصیبتیں اٹھائی تھیں۔

پنڈت جی کی زندگی اور ان کے کردار کا مطالعہ انسان میں نہ جانے کتنی قوتیں اور صلاحیتیں پیدا کرسکتا ہے ان کے کردار کی اہمیت کو ساری دنیا سمجھتی ہے۔ ان سے جن لوگوں کو اختلاف تھا یعنی ان کی سیاست اور ان کے خیالات سے جو لوگ متفق نہ تھے وہ بھی پنڈت جی کی قدر کرتے تھے اور ان سے محبت کرتے تھے۔ وہ ہندوستان کے ایک بے باک نڈر اور مخلص لیڈر تھے جن کے نقش قدم پر چل کر نہ جانے کتنے اور بڑے لیڈر پیدا ہو سکتے ہیں۔

پنڈت جواہرلالنہرو ایک بڑے مصنف بھی تھے۔ انہوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں جن کا تعلق دنیا کی تاریخ اور ہندوستان کی تاریخی، معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل سے ہے۔ ان کی کتابوں کے ترجمے دنیا کی بہت سی زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد وہ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم تھے اور آخر دم تک وزیر اعظم کے عہدہ پر ہی کام کرتے رہے۔ ہندوستان کی خارجی پالیسی وہ وضع کرتے تھے اور دنیا کی سیاست میں اپنا مقام رکھتے تھے۔ وہ ہندوستان میں ایک سوشلسٹ نظام کے حامی تھے پنڈت جی کا یہ خواب ضرور پورا ہوگا۔ہندوستان کی سیاست کا نصب العین یہی نظام ہے جو مساوات، انصاف اور صداقت پر مبنی ہے۔

آپ نے امن کے سلسلہ میں جس طرح جدوجہد کی اور ہندوستان کی عظمت بلندی کی اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ آپ نے اپنی غیر جانبداری خلوص،جدوجہد، قربانی اور انسان دوستی کی وجہ سے اپنا ایک بلند مقام پیدا کر لیا تھا۔ دنیا کے تمام لوگ آپ کی عزت کرتے تھے۔ آپ 27 مئی 1964ء کو اس جہاں فانی سے رحلت فرما گئے۔ آپ کی اچانک موت پر ہندوستانیوں نے ہی نہیں بلکہ دنیا کی تمام اقوام نے افسوس کا اظہار کیا اور سب ممالک کے جھنڈے نیچے ہوئے۔

پنڈت جواہر لال نہرو پورے ملک کے لیے تھے اور سارا ملک ان کے لیے تھا۔ ان کی ہر بات اور ہر آواز پر تاثیر تھی۔ان صفات کی بدولت تمام دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ بعض ممالک تو انہیں اپنا سیاسی گورو تسلیم کرتے تھے۔ افسوس ہے کہ وہ آج ہمارے درمیان میں نہیں ہیں۔ انکا پریم اور ان کے نیک اقوال ہمیشہ ہم کو ان کی یاد دلاتے رہیں گے اور مستقبل میں بھی انہیں بھول نہ سکیں گے۔

Close