خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہٰ الا اللہ

کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا
فریب سود و زیاں لا الہ اللہ

یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں لا الہ الا اللہ

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہ

یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ

اگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہٰ الاللہ

Close