Khwaja Mir Dard Poetry

درد کی حالات زندگی اورخصوصیات کلام

حالات زندگی:-سید خواجہ میر نام اور درد تخلص کرتے تھے۔ 1721ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔آپ کا تعلق دہلی کے ایک صوفی خاندان سے تھا۔ والد کی نگرانی میں اعلی تعلیم حاصل کی۔چنانچہ پندرہ برس کی عمر میں رسالہ "احکام الصلاۃ” اور "واردات درد” 29 برس کی عمر میں تحریر فرمایا۔موسیقی میں بھی خوب مہارت پیدا کی، شاہی ملازمت بھی اختیار کی مگر تھوڑے ہی عرصے کے بعد اسے چھوڑ دیا اور اپنے والد کی خانقاہ میں آ بیٹھے۔اور پھر زندگی بھر وہیں رہے۔دہلی کی تباہی کے وقت تمام لوگ اور بڑے بڑے اہل کمال شہر چھوڑ کر لکھنؤ اور فیض آباد چلے گئے مگر درد خدا پر بھروسہ کرکے دہلی میں ہی بیٹھے رہے اور یہاں ہی 1784ء میں وفات پائی۔

درد کے ماں باپ دونوں سادات سے تھے۔والد کا نام خواجہ ناصر تھا عندلیب تخلص کرتے تھے۔درد کے اساتذہ مفتی دولت اور سراج الدین علی خان آرزو تھے۔ مذہبی تعلیم درد نے اپنے والد سے حاصل کی تھی۔ابتدا میں درد نے شاہ عالم بادشاہ کی فوج میں نوکری کی اور سپاہی پیشہ اختیار کیا۔بعد میں اس ملازمت سے بددل ہوکر سبکدوش ہو گئے۔والد کے انتقال کے بعد سجادہ نشین ہوئے۔اخلاق اور انکسار درد کی طبیعت میں ابھر کر آگیا تھا۔کبھی انھوں نے اپنی خود ستائی نہیں کی۔خوداری، درویشی، خدا پر بھروسہ اور ثابت قدمی ان کی سیرت اور شخصیت میں رچ بس گئی تھی۔درد کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی مذہبیت اور خدا سناشی تھی۔

خصوصیات کلام:-
خواجہ میر درد اپنے زمانے کے مشہور صوفی، شاعر اور ماہر موسیقی تھے۔شاعری اور تصوف انہیں ورثہ میں ملا تھا۔ شاعری کی ابتدا فارسی سے کی بعد میں اردو سے لگاؤ ہو گیا۔درد کے کلام میں سنجیدگی اور متانت پائی جاتی ہے۔انہوں نے درویشانہ زندگی گزاری جن چیزوں پر ان کا ایمان اور یقین تھا وہی خیالات ہمیں ان کی شاعری میں بھی ملتے ہیں۔ان کی زندگی اور شاعری میں کوئی فرق نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ آج ان کا درجہ اردو شاعری میں بہت اونچا مانا جاتا ہے۔ان کو اردو شاعری کی عمارت کے چار ستونوں میں سے ایک ستون کہا جاتا ہے یعنی وہ لوگ جنوں نے شاعری کو ترقی دی اس کو بہت سی خامیوں اور برائیوں سے پاک کیا، اس کے اصول اور قاعدے مقرر کیے۔باقی تین ستون مرزا مظہر جان جاناں، مرزا محمد رفیع سودا اور میر تقی میر ہیں۔

درد کے کلام کو اگرغور سے پڑھا جائے تو یہ خصوصیت بھی نظر آئے گی کہ ان میں کوئی خلاف تہذیب یا معیار اخلاق سے گری ہوئی بات نہیں ملے گی ۔ان کی محبت کا معیار اونچا اور پاکیزہ ہے، وہ ایک صوفی بزرگ تھے، ان کے پاکیزہ خیالات کا ان کی شاعری میں جابجا اظہار ملتا ہے۔دنیا سے بے تعلقی کا اظہار ان کے یہاں واضح طور پر نظر آتا ہے۔دنیاوی شان و شوکت سے وہ نفرت کرتے تھے اس کا اظہار ان کی شاعری میں ملتا ہے۔سادگی، زبان و بیان کی دلکشی ان کے کلام میں جگہ جگہ نظر آتی ہے۔

خواجہ میر درد کی شاعری واردات و کیفیات کی شاعری ہے۔ان کی نگاہ ظاہر سے کم الجھتی ہے وہ خارجیت پسندی کے بجائے داخلیت پسندی کے دلدادہ ہیں۔ان کی پوری شاعری اسی داخلیت پسندی کی تشریح ہے۔

درد کے یہاں مجازی محبت بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ان کے یہاں بھی حسن یاد کی بے ساختہ اداؤں اور محبوب کے ہزار رنگ جلوؤں کی جھلک اسی طرح ملتی ہے جس طرح ان کے ہم عصر شعراء کے یہاں ملتی ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ درد صوفی ہونے کے باوجود زندگی سے بیزار نہیں تھے،انہوں نے اپنی غزلوں میں محبت کے ہزاروں روپ پیش کیے جن میں بڑی رعنائی، دلکشی اور رنگینی ہے۔

درد کے عہد میں غزلیہ شاعری کے ساتھ عشق و عاشقی کے مضامین مخصوص تھے۔درد نے بھی اپنے مخصوص رنگ میں ان مضامین کو اپنی غزلوں میں بیان کیا ہے۔درد نے حسن کو ہر انداز میں دیکھا اور برتا ہے اور اس کی بڑی دلکش تصویریں پیش کی ہیں۔وہ محبوب کے رخ روشن کے سامنے سورج کو ماند پڑھتا ہوا دیکھتے ہیں۔

درد محبوب کی آنکھوں کی کیفیت کو اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ کس طرح وہ آنکھیں لوگوں کے دلوں کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیتی ہیں۔درد محبوب کے خرام ناز کا بھی نقشہ پیش کرتے ہیں کہ ان کا محبوب کس طرح خوشبو بکھیرتا ہوا چلتا ہے۔

کرے ہے مست نگاہوں میں ایک عالم کو
لئے پھرے ہے یہ ساقی شراب آنکھوں میں

گزرا ہے بتا کون صبا آج ادھر سے
گلشن میں تیرے پھولوں کی یہ باس نہیں ہے

اس طرح درد کی غزلیں ایک نگارخانہ کی طرح سجی ہوئی ہیں۔مزاق زمانہ کے مطابق ان میں شوخی اور معاملہ بندی کے مضامین بھی ہیں لیکن درد کہیں بھی حدود سے باہر نہیں نکلے اور کسی بھی توازن کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔اس طرح ہمیں درد کی غزلوں میں ایک نشاطیہ رنگ نظر آتا ہے لیکن کہیں کہیں ان غزلوں میں درد کی لہر سی محسوس ہوتی ہے۔لیکن درد غموں سے نباہ کرنے کا سلیقہ جانتے ہیں اس لئے ان کے خزنیہ اشعار میں بھی ایک درد آمیز لذت محسوس ہوتی ہے۔

جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا

ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا

درد کی شاعری کا محور محبت ہے، انہوں نے جتنی باتیں کہی ہیں سب دنیای محبت سے متعلق ہیں۔وہ محبت حقیقی بھی ہے، مجازی بھی۔ذات خداوندی، وحدت الوجود،انسانی عظمت اور فنا و بقا کے مضامین سب محبت حقیقی کے مظاہر ہیں۔یہ مضامین ان کے اشعار میں کثرت سے بیان ہوئے ہیں۔لیکن درد کی شاعری کا دائرہ ماورائی محبت ہی تک محدود نہیں۔محبت نے ان کے دل میں جو گداز اور نرمی پیدا کر دی تھی اس کے نتیجے میں ان کے یہاں درد انسانیت کے چراغ روشن ھوگئے تھے اور ان کا سماجی شعور بیدار ہوگیا تھا اور وہ اپنے زمانے کے سماجی اور سیاسی انتشار اور آشوب روزگار کو اپنا بنانے پر مجبور ہو گئے۔جن اشعار میں درد نے اپنے زمانے کے درد و کرب کو پیش کیا ہے ان میں بہت تاثیر اور دل کو چھو لینے والی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

شب خون کے لئے فلک پھرے ہے
کھینچے ہوئے تیغ کہکشاں کی

دل زمانے کے ہاتھ سے سالم
کوئی ہوگا کہ رہ گیا ہوگا

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

جلتا ہے اب پڑا خس و خاشاک میں ملا
وہ گل کہ ایک عمر چمن کا چراغ تھا

خواجہ میر درد کے کلام میں تخیل اور فکر جمیل کی وجہ سے دلکشی پیدا ہوئی ہی ہے،ان کے فن کو اعتبار بخشنے میں ان کے مخصوص انداز بیان، نرم لب و لہجہ اور رمزیت و اشاریت کو بھی بڑا دخل ہے۔درد نے اردو غزل کو نئی علامتیں اور نئے استعارے دیے ہیں۔تشبیہات و استعارات کے استعمال کے سلسلے میں ان کا جمالیاتی ذوق کافی نکھرا ہوا ہے۔ان کی شخصیت کی طرح ان کا لب و لہجہ بھی بہت معصوم اور پرتاثیر ہے۔ان کے یہاں ایسے نشتر کثرت سے ملتے ہیں جو جذبے کی شدت کی وجہ سے میر کے نشتروں کے قریب پہنچ گئے ہیں۔یہی نشتریت اور اثرانگیزی ان کی غزلوں کو روایتی سطح سے ہٹاکر تغزل کے بلند مقام تک لاتی ہے۔

بے وفائی پہ اس کی دل مت جا
ایسی باتیں ہزار ہوتی ہیں

شمع کی مانند ہم اس بزم میں
چشم نم آئے تھے دامن تر چلے

ایجاز کو غزلیہ شاعری میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔کم لفظوں میں زیادہ باتیں کہنا ایک فن سمجھا جاتا ہے۔رمزیت و اشاریت اس لحاظ سے غزل کی جان ہے۔میر درد کی شاعری میں رمزیت و اشاریت کا حسن اپنے شباب پر ہے،جس کی وجہ سے غزل کی مجموعی فضا میں ایک خاص کیفیت پیدا ہو گئی ہے اور معنویت میں اضافہ ہوگیا ہے۔میر درد نے چھوٹی بحروں اور مترنم الفاظ کے استعمال سے آرٹ کی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔

غرض درد نے زیادہ سے زیادہ شعری وسائل کا استعمال کرکے اپنی غزل کو ایسی آب وتاب بخشی کہ ان کا ہر شعر انتخاب معلوم ہوتا ہے۔ان کے مشہور کارناموں میں "اسرار الصلاۃ” "واردات درد” "علم الکتاب” "نالۂ درد” "آہ سرد” اور "شمع محفل” وغیرہ مشہور ہیں۔اس کے علاوہ درد کے پورے دیوان میں نہ کوئی قصیدہ ہے نہ مرثیہ اور نہ ہی کوئی مثنوی۔ خواجہ میر درد اردو دنیا میں صوفی شاعر کے اعتبار سے بہت مشہور ہیں۔

Close