Kneeling During National Anthem History

پاک سر زمین شاد باد
کشور حسین شاد باد

تو نشان عزمِ عالی شان
ارض پاکستان

مرکز یقین شاد باد

پاک سر زمین کا نظام
قوت اخوت عوام

قوم، ملک، سلطنت
پائندہ تابندہ باد

شاد باد منزل مراد

پرچمِ ستارہ و ہلال
رہبر ترقی و عوام

ترجمان ماضی شان حال
جان استقبال!

سایۂ خدائے ذوالجلال۔۔۔

National Anthem lyrics in English

Pak Sar zameen shad bad
Kishwar e haseen shad bad

Tu nisany azmay aalishaan
Erzy Pakistan

Markazy yakeen shad bad

Pak sar zameen ka nizaam
Quwat e Akhwoty Awam

Qoum, Mulk, Saltanat
painda Tabinda Bad

Shad bad Manzaly Muraad

Purcham e Sitara o Hilal
Rehbar e Taraki o Kamal

Tarjumany Mazi Shan e Hal
Jany Istaqbal!

Say e Khuday Zul Jalal.

قومی ترانے کی تاریخ

قیامِ پاکستان کے بعد سات برس تک پاکستان کا کوئی قومی ترانہ نہ تھا۔بس ترانے تھے جو مختلف سرکاری تقریبات پر گائے جاتے تھے۔پاکستانی قیادت کو آئین بنانے میں جتنی دشواریوں کا سامنا تھا اتنا ہی قومی ترانہ کے بنانے میں بھی تھا۔اس کی ایک وجہ ہے غالبا یہ رہی ہوگی کہ ترانہ کس زبان میں لکھا جائے۔ کیونکہ مشرقی پاکستان میں بنگلہ زبان بولی جاتی تھی، جبکہ مغربی پاکستان میں چار زبانیں یعنی سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو بولی جاتی تھی جبکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی زبانوں سے ہٹ کر اردو کو قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کی جانب سے قومی زبان کا درجہ دیا گیا تھا۔اس بات پر مشرقی پاکستان میں بسنے والے بنگالی خاصے معترض تھے۔

عقیل عباس جعفری اپنی کتاب "پاکستان کا قومی ترانہ:کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ؟” میں لکھتے ہیں کہ 14 اگست 1954ء کو کابینہ کا ایک اور اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں حفیظ جالندھری کے لکھے گئے ترانے کو بغیر کسی ردوبدل کے منظور کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔اس اجلاس میں کابینہ نے یہ فیصلہ بھی دیا کہ اس ترانے کی موجودگی میں اردو اور بنگالی کے دو قومی نغمات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی”

پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کے خالق کا انتقال 5 فروری 1953ء کو ہوا، جبکہ قومی ترانے کی دھن اور ترانے کی منظوری 4 اگست 1954ء کو ہوئی۔انہیں اپنی زندگی میں یہ دن دیکھنے کا موقع نہ ملا۔ ان کی اس خدمت کا اعتراف بھی ایک بڑے عرصے کے بعد کیا گیا۔جمیل زبیری اپنی کتاب "یاد خزانہ ریڈیو پاکستان میں 25 سال” کے صفحہ نمبر 21 پر قومی ترانہ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ” پاکستان کے قومی ترانے کی دھن محمد علی چھاگلہ نے بنائی۔اس کے بعد اس دھن پر ترانے لکھنے کے لیے ملک کے تمام شعراء کو مدعو کیا گیا اور سب سے بہتر ترانے کا فیصلہ کرنے کے لئے حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔ جب چھاگلہ کی بنائی ہوئی دھن ریڈیو پاکستان میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری نے سنی تو انہوں نے سب سے پہلے نہال عبداللہ کمپوزر وغیرہ کو بٹھا کر اس دھن کو موسیقی کی زبان میں بانٹا اور پھر اس پر سب سے پہلے ترانے کے بول لکھے۔اسی دوران میں حفیظ جالندھری اور دیگر شعراء کے لکھے ہوئے ترانے موصول ہوگے۔سارے ترانے کمیٹی کے سامنے رکھے گئے اور کمیٹی نے حفیظ جالندھری کے ترانے کو منظور کر لیا۔کہتے ہیں کہ بخاری اس پر کافی ناراض ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے انہوں نے ترانہ لکھا۔ بہرحال کمیٹی کا فیصلہ ختمی تھا۔ اس کے بعد ریڈیو پاکستان کے انگریزی پروگراموں کی سپروائزر مسز فلیڈ برگ(Feld Berg) نے اس کی Orchestration کرنے اور Notation تیار کرنے کے لیے لندن بھیج دیا۔جب یہ چیزیں تیار ہو کر ترانہ واپس آیا تو ریڈیو پاکستان میں اس کی ریکارڈنگ ڈائریکٹر جنرل بخاری اور حمید نسیم نے مل کر کی۔گانے والوں میں نہال عبداللہ، دائم حسین، نذیر بیگم، رشیدہ بیگم، تنویر جہاں، کوکب جہاں اور چند دیگر فنکار شامل تھے۔اس طرح ریڈیو پاکستان نے ملک کا قومی ترانہ تیار کیا”

قومی ترانے کی دھن کی خالق اور قومی ترانے کے خالق جناب محمد علی چھاگلہ اور جناب حفیظ جالندھری ہیں۔اور اس کا دورانیہ ایک منٹ اور بیس سیکنڈ کا ہے۔

A Quiz About Pakistan

Close