Advertisement
  • شاعر : جگر مراد آبادی
  • ماخوذاز : کلیاتِ جگر

تعارفِ غزل :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام جگر مراد آبادی ہے۔ یہ غزل کلیاتِ جگر سے ماخوذ کی گئی ہے۔

تعارفِ شاعر :

جگر کا اصل نام علی سکندر اور تخلص جگر تھا۔ بنارس میں پیدا ہوئے لیکن ان کا خاندان بوجوہ بنارس سے ہجرت کر کے مراد آباد میں آبسا تھا، چنانچہ جگر مراد آبادی کہلائے اور اس قلمی نام سے مشہور ہوئے۔ جگر کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی جس میں فارسی کی چند ابتدائی کتابیں شامل تھیں۔ شاعری کا ذوق ورثے میں پایا تھا۔ جگر کے والد علی نظر صاحب دیوان شاعر تھے۔ انھوں نے حج بھی کیا اور مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں بہت سی نعتیں بھی کہیں۔ جگر مشاعروں میں بہت مقبول تھے۔ ان کی آواز بہت اچھی تھی۔ ابتدائی دور میں وہ داغ دہلوی سے متاثر تھے لیکن پھر غزل گوئی میں اپنا ایک خاص رنگ پیدا کیا ، تاہم غزل کی کلاسیکی روایت کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان کا کلام پختہ ہے اور اس میں ایک والہانہ پن اور نغمی کا احساس ہوتا ہے۔ ان کے متعدد شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جن میں آتش گل، داغ جگر اور شعلۂ طور زیادہ مقبول ہوئے۔

Advertisement
آدمی آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے

تشریح : پہلے شعر میں شاعر دنیا کی خود غرضی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم بظاہر تو ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں لیکن دل کسی کے ساتھ لگنا نہیں چاہتا ہے۔ ہمارے دل میں کینہ بھرا ہوا ہے۔ یہاں جگر لوگوں کے قول و فعل میں تضاد کو بیان کر رہے ہیں۔ ہم ہاتھ سے ہاتھ تو ملاتے ہیں مگر ہمارا دل دوسروں کے دل سے نہیں ملتا ہے۔
شاعر کہتے ہیں کہ ہم سب سے سلام دعا تو کرتے ہیں لیکن دل میں یہی سوچ رہے ہوتے ہیں کہ کاش یہ جلدی ہی یہاں سے چلا جائے تاکہ ہم اپنے دوسرے کام دیکھیں۔ انسانوں میں سے خلوص ختم ہوتا جا رہا هے اور اس کی جگہ اب ظاہر داری نے لے لی ہے۔

Advertisement
بھول جاتا ہوں میں ستم اس کے
وہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے

تشریح: اردو شاعری کا روایتی محبوب جفاکار ، ستم شعار اور بے مروت ہوتا ہے ، سو اسی روایتی انداز کو لے کر چلتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ میرا محبوب بھی بہت بڑا ستم گر ہے اور وہ مجھ پر ستم ڈھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ، مگر میں بھی مشرقی لوگوں کی مانند محبت کی ہوس میں اندھا ہو چکا ہوں ، میرے نزدیک اس کے ستم بھی اس کی مہربانیاں ہیں ، اور یہ سب کرنے کے بعد بھی وہ جب مجھ سے ملاقات کرنے آتا ہے تو میں سب کچھ بھول کر اس کی آؤ بھگت کرتا ہوں ، کیونکہ میرا محبوب زخم دینے کے ساتھ ساتھ ان پر مرہم لگانے کا فن بھی جانتا ہے۔

Advertisement
آج کیا بات ہے کہ پھولوں کا
رنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے

تشریح : اردو شاعری کا روایتی محبوب جفاکار ، ستم شعار اور بے مروت ہوتا ہے ، سو اسی روایتی انداز کو لے کر چلتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ میرا محبوب بھی بہت بڑا ستم گر ہے اور وہ مجھ پر ستم ڈھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ، مگر میں بھی مشرقی لوگوں کی مانند محبت کی ہوس میں اندھا ہو چکا ہوں ، میرے نزدیک اس کے ستم بھی اس کی مہربانیاں ہیں ، اور یہ سب کرنے کے بعد بھی وہ جب مجھ سے ملاقات کرنے آتا ہے تو میں سب کچھ بھول کر اس کی آؤ بھگت کرتا ہوں ، کیونکہ میرا محبوب زخم دینے کے ساتھ ساتھ ان پر مرہم لگانے کا فن بھی جانتا ہے۔
بقول ساغر صدیقی :

ہائے آدابِ محبت کے تقاضے ساغر
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑ دیا

شعر :

Advertisement
سلسلہ فتنۂ قیامت کا
تیری خوش قامتی سے ملتا ہے

تشریح : شاعر اس شعر میں اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ تیری خوش قامی میرے دل غضب ڈھاتی ہے۔ مختلف شعرا نے اپنے محبوب کے مختلف اجزائے جسمانی کی تعریف میں شعر لکھے ہیں۔ کسی نے اپنے محبوب کے ہونٹوں کی تعریف کی ۔ تو کوئی اپنے محبوب کی زلفوں پر نثار ہے۔ کسی نے اپنے محبوب کی آنکھوں ۔ تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاۓ ہیں تو کوئی اپنے محبوب کے دانتوں کو موتی سمجھتا ہے۔ اس طرح جگر مراد آبادی اپنے محبوب کی خوش قامتی کی تعریف کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ میرے محبوب کا دراز قد میرے دل پر قیامت ڈھاتا ہے۔ مجھے اپنے محبوب کا خوش قامت ہونا بہت بھاتا ہے۔ اسے دیکھ کر میرا دل اقل ستقل ہو جاتا ہے۔ جب میں اپنے محبوب کو دیکھتا ہوں تو میرا اپنے دل پر قاب نہیں رہتا۔ اس پر ایک قیامت کی گزر جاتی ہے۔

مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا
ٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے

تشریح : یہ معرفت کا شعر ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اللہ تعالی کا جلوہ ہر طرف ہے۔ جس چیز کو بھی دیکھیں اس میں اللہ تعالی کا جلوہ نمایاں ہوتا ہے۔ وہ ذرے ذرے میں موجود ہے پھر بھی وہ کسی کو نظر نہیں آتا۔ انسان دنیا میں آ کر بے شمار کام کرتا ہے۔ وہ دوسرے لوگوں سے بہت سی امیدیں وابستہ کر لیتا ہے لیکن بسا اوقات اس کی یہ امید میں پوری نہیں ہوتیں۔ ایسے میں وہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور پھر مایوسی کے اس عالم میں وہ اللہ تعالی سے لو لگا لیتا ہے۔ یہ شعر سہل ممتنع کی عمدہ مثال ہے۔ شاعر نے ’’ٹوٹ کر‘‘ کو دہرے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ ٹوٹ کر ملنا محاورہ ہے جس کا مطلب ہے کسی ایک سے قطع تعلق کر کے کسی دوسرے سے جا ملنا۔ یعنی جب انسان کا ناتا اس دنیا سے ٹوٹ جاتا ہے اور وہ اس دنیا سے قطع تعلق کر لیتا ہے تو پھر وہ اللہ تعالی سے جا ملتا ہے۔ ٹوٹ کر ملنا کا ایک اور مطلب ہے بڑی کوشش سے ملنا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اس دنیا میں آ کر اس کی رنگینوں میں کھو جاتا ہے ۔ وہ اپنا دنیا میں آنے کا مقصد بھول جاتا ہے۔ جب اس کے دل میں اللہ تعالی کا خیال آتا ہے تو وہ بڑی شدت اور گرم جوشی اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتا ہے۔

Advertisement
کاروبار جہاں سنورتے ہیں
ہوش جب بے خودی سے ملتا ہے

تشریح :اس شعر میں شاعر انسان دنیا میں آ کر مختلف قسم کے کام سرانجام دیتا ہے۔ کچھ کام تو پایہ تکمیل تک پہنچ جاتے ہیں اور کچھ کام ادھورے رہ جاتے ہیں۔ جو کام مکمل نہیں ہوتے ان کے پیچھے جذبے کا فقدان ہوتا ہے ۔ اگر چہ انسان ہوش و حواس سے کام لے کر ہی کسی کام کی منصوبہ بندی کرتا ہے مگر جب تک انسان میں جذ بہ عمل نہ ہو کام یا یہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ دنیا کے کاموں میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جوش و خروش کے ساتھ ساتھ جذ بہ عمل بے حد ضروری سے عمل کے بغیر کوئی بھی کام مکمل نہیں ہوتا۔
انسانی زندگی کا دارومدار ہی جد پر عمل پر ہے۔ جو لوگ بیٹھ کر منصوبہ بندی کرتے ہیں لیکن عملی طور پر صفر ہوتے ہیں وہ زندگی کے کسی میدان میں بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔

روح کو بھی مزا محبت کا
دل کی ہم سائیگی سے ملتا ہے

تشریح : شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی اصل دو طرح سے ہے۔ ایک اس کا جسم کثیف اور دوسرا جسم لطیف ۔ جسم کثیف سے مراد انسان کا مادی جسم ہے جسے فنا ہو جاتا ہے۔ اس میں انسان کے اعضائے جسمانی شامل ہیں۔ جسم لطیف سے مراد انسان کی روح ہے۔ روح اور جسم کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ روح کے بغیر جسم بے کار ہے اور جسم کے بغیر روح بر روح کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انسانی دل مختلف قسم کے خیالات کی آماجگاہ ہوتا ہے۔ اس میں اچھے اور برے ہر طرح کے خیالات پرورش پاتے ہیں لیکن روح ایک پاکیزہ جذبے کا نام ہے ۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر دل میں اچھے خیالات ہوں تو انسانی روح خوش رہتی ہے۔ پھر اسے دل کے قریب رہنے میں مزا ملتا ہے۔ دل میں اللہ تعالی کی یاد بھی ہو تو روح مطمئن اور شاداب رہتی ہے۔

Advertisement

سوال۱: مندرجہ ذیل سوالوں کے مختصر جواب لکھیے:

(الف) اس عزل کے مطلع کی نشان دہی کیجئے اور اپنی کاپی میں اسے الگ لکھیے۔

جواب : آدمی آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے

(ب) پھولوں کا رنگ ہنسی سے ملنے کا مفہوم واضح کیجئے۔

جواب : دراصل شاعر کہہ رہے ہیں کہ ان کے محبوب کی ہنسی اتنی خوبصورت ہے کہ انھیں پھولوں کا رنگ بھی اپنے محبوب کی ہنسی جیسا ہی لگتا ہے۔

Advertisement

(ج) ہوش اور بے خودی کے ملنے سے دنیا کے کاروبار کیسے سنورتے ہیں؟

جواب : یہاں شاعر کی مراد یہ ہے کہ جب انسان ہوش گنوا کر بےخود ہوجاتا ہے اور اللہ سے لو لگاتا ہے تو اس دنیا کے اس کے کاروبار سنور جاتے ہیں۔

(د) مطلع میں کس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؟

جواب : مطلع میں اس حقیقت کی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ آج کل انسان تو ایک دوسرے سے ملتے ہیں لیکن ان کے دل ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔

Advertisement

(ہ) پانچویں شعر میں مل کر نہ ملنے سے کیا مراد ہے؟

جواب : پانچویں شعر میں مل کر نہ ملنے سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو ہر جگہ موجود ہو کر بھی سب کی نظروں سے اوجھل ہے۔

سوال۲: مندرجہ ذیل الفاظ کو جملوں میں اس طرح استعمال کیجئے کہ ان کی تذکیر و تانیث واضح ہو جائے:

آدمی ہمیں کسی آدمی کا دل نہیں دکھانا چاہیے۔
دلانسان کے دل میں اللہ بستا ہے۔
ہنسی محبوب کی ہنسی کو شاعر پھولوں کے رنگ سے تشبیہ دیتے ہیں۔
قیامت روزِ قیامت سب کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
ہوشہمیں ہر کام ہوش و حواس میں رہ کر کرنا چاہیے۔
روح :روح کی غذا نماز ہے۔

Advertisement

سوال : ۳۔ مندرجہ ذیل شعر کی تشریح کیجئے:

مل کر بھی جو کبھی نہیں ملتا
ٹوٹ کر دل، اسی سے ملتا ہے

تشریح : پہلے شعر میں شاعر دنیا کی خود غرضی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم بظاہر تو ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں لیکن دل کسی کے ساتھ لگنا نہیں چاہتا ہے۔ ہمارے دل میں کینہ بھرا ہوا ہے۔ یہاں جگر لوگوں کے قول و فعل میں تضاد کو بیان کر رہے ہیں۔ ہم ہاتھ سے ہاتھ تو ملاتے ہیں مگر ہمارا دل دوسروں کے دل سے نہیں ملتا ہے۔
شاعر کہتے ہیں کہ ہم سب سے سلام دعا تو کرتے ہیں لیکن دل میں یہی سوچ رہے ہوتے ہیں کہ کاش یہ جلدی ہی یہاں سے چلا جائے تاکہ ہم اپنے دوسرے کام دیکھیں۔ انسانوں میں سے خلوص ختم ہوتا جا رہا هے اور اس کی جگہ اب ظاہر داری نے لے لی ہے۔

سوال : ۴۔ جگر مراد آبادی کی غزل کا متن ذہن میں رکھ کر درست جواب پر نشان (✓) لگائیں:

(الف) محبوب کےسادگی سے ملنے کا شاعر پر کیا اثر ہوتا ہے؟
(۱)خوشی سے پھولا نہیں سماتا
(۲) محبوب کے ستم بھول جاتا ہے (✓)
(۳) نشہ سا چھا جاتا ہے
(۴) ہر غم بھول جاتا ہے

Advertisement

(ب) پھولوں کا رنگ محبوب کی کس بات سے ملتا ہے؟
(۱) ہنسی سے (✓)
(۲) شکل وصورت سے
(۳) تازکی اور نزاکت سے
(۴) خوشی پوشی سے

(ج) فتنہ قیامت کا سلسلہ کس سے ملتا ہے؟
(۱) محبوب کی خوشی قامتی سے (✓)
(۲) خوش ادائی سے
(۳) انگڑائی سے
(۴) محفل آرائی سے

Advertisement

(د) دل ٹوٹ کر کس سے ملتا ہے؟
(۱) کج ادا سے
(۲) دلرباسے
(۳) خوش ادا سے
(۴)مل کے بھی جو نہیں ملتا (✓)

(ہ) بے خودی سے ہوش آنے پر کیا ہوتا ہے؟
(۱)افسوس
(۲) کاروبار جہاں سنور جاتے ہیں (✓)
(۳) بے خودی کو جی چاہتا ہے
(۴) اداسی بڑھ جاتی ہے

Advertisement

(و) روح کو محبت کا مزہ کب ملتا ہے؟
(۱) دل کی ہمسایگی میں (✓)
(۲) ہجرو فراق میں
(۳) وصال میں
(۴) سکون میں

سوال ۵: قوسین میں دیے گئے الفاظ سے درست جواب کا انتخاب کرکے خالی جگہ پر کیجئے:

(الف) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر کم سے ملتا۔ (محبوب، دل(✓) ، آدمی)
(ج) کاروبار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سنورتے ہیں۔(عاشقاں، جہاں(✓) ، دنیا)
(د) ساتواں شعر غزل کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔(مطلع، مقطع(✓)، آخری شعر)

Advertisement

سوال۶: اس غزل میں ردیف اور قوافی کی نشان دہی کیجئے۔

قافیہ: آدمی – کسی – سادگی – ہنسی – قامتی – اسی – خودی – ہمسایگی
ردیف : سے ملتا ہے

Advertisement

Advertisement