Advertisement
آسماں مہکا ، زمینوں کا بَدَن مہکا دیا
آمـدِ سرکار نـے سـارا گـگن مہکا دیا
ہرطرف پھیلی ہیں میلاد النّبی کی برکتیں
روشنی مہـکی اندھیروں کا وطـن مہکا دیا
بارہںویں تاریـخ سے چَلنے لگی ٹھنـڈی نَسیـم
میرے آقا نـے ہںواؤں کا چَـلَن مہـکا دیا
شدتِ ظلم و ستم ، تبدیل کر کے عدل سے
ِرحمت عالم نے دستورِ زَمَن مہکا دیا
بیکس و مظلوم کے غم کی لکیریں مٹ گئیں
مصطفی نے آکے ہر زخمِ کُہَن مہکا دیا
ایسا خوشبودار ہے جلوہ نبی کے عشق کا
جِس میں آیا ، اسکی جاں کا پیرہن مہکا دیا
زُلفِ مہتابِ رِسالت کُھل گئ جب رات کو
چاندنی مہکی ، قمر کا بانکپن مہکا دیا
آیا ماہِ نور ، تو بادل کرم کے چھا گیے
موسمِ رحمت نے ایمانی چَمن مہکا دیا
روشنی بن کر ہے پھیلی ہر طرف بوے رسول
اُس مہک نے ہر چراغِ انجُمن مہکا دیا
نجد کے شیطان ، سب غمگین ہیں میلاد پر
ذکر آقا نـے ، دلِ اہلِ سُنـن مہـکا دیا
اعلٰی حضرت کے کمالِ عشق پر لاکھوں سلام
اُس گُلِ عرفان نے گلزارِ سخن مہکا دیا
سرورِ کونین کی مدحت میں جو مصروف ہے
نعت نے وہ خامہ و فکر و دہن مہکا دیا
آگئ ہںے قبر کی مِٹّی میں طیبہ کی مہک
عشق نے ، انکے غلاموں کا کفن مہکا دیا
جِنکی خوشبو سے ہںوئیں نسلوں کی نسلیں عطر بیز
اُنکی مِدحت نے فریدی ، میرا فن مہکا دیا

Advertisement

Advertisement

Advertisement