Advertisement

غزل کی تشریح:

آلام روزگار کو آساں بنا دیا
جو غم ہوا اسے غم جاناں بنا دیا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ آج کے دور میں ہم نے کام کے غم کو بھی بہت آسان بنا دیا ہے۔ چاہے ہمیں جو بھی پریشانی ہو یا کسی بھی بات کا غم ستا رہا ہو ہم اسے غم جاناں یعنی محبت کا غم کہہ دیتے ہیں۔

میں کامیاب دید بھی محروم دید بھی
جلووں کے اژدہام نے حیراں بنا دیا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں دیکھ پاتا کہ اتنا کچھ سامنے ہوتے ہوئے بھی ایک طرح سے میں دیکھنے کی قوت سے محروم ہوں کہ اتنے زیادہ جلوؤں کی بھیڑ بھاڑ اور موجودگی نے مجھے حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔

یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی
یوں لب کشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس کی مسکراہٹ ایسی ہے کہ جب وہ مسکرائے تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے ادھ کھلی کلیوں میں جان سی پڑ گئی ہو۔ اس کی مسکراہٹ اور کھلے لب کسی گلستاں یعنی باغ کا منظر پیش کر رہے تھے۔

Advertisement
اے شیخ وہ بسیط حقیقت ہے کفر کی
کچھ قید رسم نے جسے ایماں بنا دیا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کفر کی حقیقت ایک وسیع و عریض اور کھلی حقیقت ہے۔مگر محبوب کی محبت میں کچھ رسمی قیدیں موجود ہیں جو اسے ایمان بنائے ہوئے ہیں۔

وہ شورشیں نظام جہاں جن کے دم سے ہے
جب مختصر کیا انہیں انساں بنا دیا

شاعر اس شعر میں یوں گویا ہے کہ جن کی وجہ ایک ہنگامہ پرور اور بدامنی کا ماحول بنا ہوا تھا۔جب اس دور کا خاتمہ ہوا تو اس نے انھیں لوگوں کو انسان بنا دیا جو ماحول کی بد امنی کی وجہ تھے۔

ہم اس نگاہ ناز کو سمجھے تھے نیشتر
تم نے تو مسکرا کے رگ جاں بنا دیا

اس شعر میں شاعر نے محبوب کی نگاہ کی بات کی ہے کہ جس نگاہ کو میں نیشتر یعنی تیر سمجھتا تھا اسی نگاہ سے جب توں نے میری جانب مسکرا کر دیکھا تو یوں لگا کہ گویا یہ نگاہ دل و جان میں سماں گئی ہو۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:”آلام روزگار” کو شاعر نے اپنے لیے کس طرح آسان بنایا ہے؟ واضح کیجیے۔

شاعر نے "آلام روزگار” یعنی روزگار کے غم کو بھی غم جاناں یعنی محبوب کا غم کہہ کر آسان بنا لیا۔

سوال نمبر02: کامیاب دید اور محروم دید کی وضاحت کیجیے۔

کامیاب دید وہ نظر جو کسی چیز کو دیکھنے کی تمنا پا لے جبکہ محروم دید وہ نظر ہے جو چاہ کر بھی دیکھنے کی تمنا کو نہ پا سکے۔

سوال نمبر03:’جلوؤں کے ازدحام’ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

جلوؤں کے ازدحام(اژدہام) سے شاعر کی مراد بہت زیادہ چہروں کی موجودگی یا بھیڑ بھاڑ ہے۔

سوال نمبر04:شاعر نے محبوب کی مسکراہٹ کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟

شاعر نے محبوب کی مسکراہٹ کو پھولوں کے کھلنے سے تشبیہ دی ہے۔

عملی کام:

نیچے دیے گئے الفاظ کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

بسیطہندوستان کا رقبہ انتہائی وسیع و بسیط ہے۔
شورشآج کل روس میں شورش کی فضا ہے۔
مختصرمختصر الفاظ میں اپنی آمد کا مدعا بیان کریں۔
گلستاںگلستاں کی خوبصورتی نے اس کی آنکھیں خیرہ کر دیں۔

اپنے استاد سے دریافت کرکے چند ایسے اشعار لکھیے جن میں انسان کی عظمت کو بیان کیا گیا ہو۔

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
الطاف حسین حالی۔

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے
ظفر اقبال

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
اقبال۔

ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں ، کار کشا ، کار ساز

خاکی و نوری نہاد بندہ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی ، اس کا دل ِ بے نیاز
اقبال۔

سنا ہے خاک سے تیری نمود ہے ، لیکن
تری سرشت میں ہے کوکبی و مہتابی!

جمال اپنا اگر خواب میں بھی تو دیکھے
ہزار ہوش سے خوشتر تری شکر خوابی
اقبال۔