Advertisement
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا

اتنا مایوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا

ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو واچھالا دے دوں
میں نہیں تو کویئ تو ساحل پر اتر جائے گا

زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا
تیری بخسش تیری دحلیز پر دھر جائے گا

ضبط لازم ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ رویے گا تو مر جاے گا
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement