Advertisement
ادھر نا ہی ادھر اچھا لگے ہے
مجھے تو تیرا در اچھا لگے ہے

تری یادیں بسی ہیں اس میں ورنہ
مجھے یہ دل کدھر اچھا لگے ہے

کبھی اس پر عمل کر کے بھی دیکھو
مرا کہنا اگر اچھا لگے ہے

ہمارا حال کچھ ایسا ہوا ہے
کہ صحرا نا ہی گھر اچھا لگے ہے

پرندوں سے ہی رونق ہے وگرنہ
بن ان کے کب شجر اچھا لگے ہے

ہمیں معلوم ہے انجامِ الفت
مگر پھر بھی یہ ڈر اچھا لگے ہے

یہ اِندرؔ تو ہو سکتا ہے جسے دل
وفا، زلفیں، جگر اچھا لگے ہے
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement