Advertisement

داستان ایک نثری صنف ہے۔ اردو کی تمام نثری اصناف میں داستان کو کافی اہمیت حاصل ہے۔ ہمارے اردو ادب میں ناولوں سے پہلے داستانوں کا ہی رواج تھا۔ درباروں میں داستان کو ملازم رکھے جاتے تھے جو باقاعدہ مجلسوں میں داستانیں سنایا کرتے تھے۔ ان داستانوں کا مقصد سامعین کو کچھ دیر کے لئے فرحت و مسرت کا سامان مہیا کرنا ہوتا تھا۔ یہ داستانیں قصہ در قصہ ہوا کرتی تھی اور داستان گو انہیں قسط وار مہینوں تک سنایا کرتے تھے۔ ان میں زیادہ تر خیالی قصے ہوتے تھے اور مافوق الفطرت عناصر یعنی جنوں دیوؤں اور پریوں کے محیر العقول کارنامے بڑے حیرت انگیز اسلوب میں بیان کئے جاتے تھے۔ بظاہر ان قصوں کا حقیقی زندگی سے دور تک بھی واسطہ نہیں ہوتا تھا تاہم ان میں اپنے زمانے کی معاشرت کی عکاسی بھی ہوتی تھی۔

Advertisement

اردو میں داستانوں کا رواج ہمیں اس زمانے سے ملتا ہے جب اس میں تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع ہوا۔ جنوبی ہند میں لکھی گئی ملا وجہی کی اور اردو ادب کی پہلی نثری تصنیف ”سب رس“ اردو کی قدیم ترین داستان ہے جس میں عشق و عقل کی کشمکش کو بڑے دلچسپ اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ شمالی ہندوستان میں لکھی گئی اردو کی پہلی داستان ”قصہ مہر افروز و دلبر“ ہے۔ تحسین کی ”نو طرز مرصع“ ایک عمدہ داستان ہے لیکن اس کی عبارت مسجع اور مقفٰی ہونے کی وجہ سے خاصی مشکل ہے۔انشاء کی ”رانی کیتکی کی کہانی“ اور رجب علی بیگ سرور کی داستان ”فسانہ عجائب“ بھی عمدہ کارنامے ہیں۔

Advertisement

فورٹ ولیم کالج کے قیام کے بعد اردو میں بہت ساری داستانیں لکھی گئیں۔ اس ادارے کا سب سے اہم کارنامہ میر امن کی ”باغ و بہار“ ہے۔ اصل میں یہ تحسین کی ”نوطرزمرصع“ کی مشکل زبان کا سلیس اور آسان زبان میں ترجمہ ہے جو زبان کی خوبی کی وجہ سے ترجمہ ہونے کے بجائے طبع زاد قصہ معلوم ہوتا ہے اور اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ میر شیر علی افسوس کی ”آرائش محفل“ اور حیدر بخش حیدری کی ”طوطا کہانی“ بھی فورٹ ولیم کالج ہی کی دین ہیں۔

Advertisement

انیسویں صدی کے آخر میں جب نئی تہذیب کی چکاچوند نے اردو زبان و ادب کو نئی منزلوں کی طرف متوجہ کیا تو اس کا اثر داستان پر بھی پڑا۔ نئی تہذیبی تقاضوں نے انسان کو خیالوں کی دنیا سے نکال کر حقیقی زمین پر چلنے پر مجبور کیا جس سے اردو ادب کی یہ صنف زوال کا شکار ہوگئی۔ تاہم یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کہانی کی دنیا میں آج ہمیں جتنی پیش رفت نظر آتی ہے وہ ہرگز ممکن نہ ہوتی اگر داستان کا بے پناہ سرمایہ ہمیں ورثے میں نہ ملا ہوتا۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement