Advertisement
  • سبق نمبر09: مضمون
  • مصنف کا نام:آل احمد سرور
  • سبق کا نام:چکبست لکھنوی

سبق کا خلاصہ:

آل احمد سرور کا مضمون ’چکبست لکھنوی‘ شاعر چکبست کی شاعری اور ان کے کلام کی خصوصیات کو بیان کرتا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ چکبست 1882ء میں لکھنو میں پیدا ہوئے۔وہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوئی اور وہیں سے شعر و ادب کا ذوق ان کی گھٹی میں پڑا۔

چکبست نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ تیزی سے بدلتا ہوا وقت تھا۔ایک جانب ابھی تک سماج پر قدامت کا رنگ چھایا ہوا تھا تو دوسری جانب نئی تہذیب تیزی سے پروان چڑھتے ہوئے اپنا اثر جما رہی تھی۔اس ماحول میں طبائع زیادہ مشتعل جبکہ معیار سخت تھے۔ کچھ لوگ قدامت پسندی کو اپنائے ہوئے جبکہ کچھ نئی دنیا کے خواب دیکھ رہے، اقبال کی زبان میں ان کا دل مومن اور دماغ کافر تھا۔

Advertisement

چکبست لکھنوی تہذیب کے دلدادہ تھے۔ان کے دل میں قوم کی بہبود کے خیالات تھے۔جدید شعراء میں ان کا ایک ممتاز درجہ ہے۔ ان کا مجموعہ کلام “صبح وطن ” کے نام سے شائع ہوا۔چکبست کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی “وطن کی محبت” ہے۔ ان کے کلام میں جو نظمیں ہیں وہ زیادہ تر وطن اور حب وطن سے متعلق ہیں۔

Advertisement

آل احمد سرور نے بتایا ہے کہ چکبستؔ کا شعری مجموعہ “صبحِ وطن” اپنی خوبیوں کی وجہ سےبہت مشہور ہے۔ انہوں نے “صبحِ وطن” کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ صبح وطن کے پہلے حصّے میں جو نظمیں ہیں وہ وطن اور وطن کی محبت سے متعلق ہیں۔ جس کو نہایت پر اثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ کچھ نظمیں اس طرح ہیں ۔” ہمارا وطن، دل سے پیارا وطن” ، ” وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک” ، ” خاکِ ہند” وغیرہ۔

Advertisement

جبکہ دوسرے حصے میں زیادہ تر اصلاحی و مذہبی نظمیں ہیں۔ جن کو مسدس کے انداز میں لکھا گیا ہے۔ اسی حصّے میں” گائے” ، ” لڑکیوں سے خطاب” جیسی مشہور نظمیں شامل ہیں۔ نظم لڑکیوں سے خطاب میں لڑکیوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ معاشرے کے سدھارنے والی بنیں۔ ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے ان کی پرورش، عزت اور تعلیم پر کوئی انگلی اٹھائے۔

ان کے مجموعے کا تیسرا حصہ مرثیوں پر مشتمل ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں رامائن کے مناظر کی لفظی تصویر کو بھی پیش کیا ہے۔ان کی غزلوں میں ان کا پیامی رنگ جھلکتا ہے۔ چکبست اپنی جوانی میں ہی دنیا سے رخصت ہوئے مگر ان میں شاعری کا فطری ذوق موجود تھا۔ان کے انداز بیان میں رعنائی و رنگینی موجود تھی۔

Advertisement

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:چکبست نے جس ماحول میں آنکھ کھولی تھی وہ ماحول کیا تھا؟

چکبست نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ تیزی سے بدلتا ہوا وقت تھا۔ایک جانب ابھی تک سماج پر قدامت کا رنگ چھایا ہوا تھا تو دوسری جانب نئی تہذیب تیزی سے پروان چڑھتے ہوئے اپنا اثر جما رہی تھی۔اس ماحول میں طبائع زیادہ مشتعل جبکہ معیار سخت تھے۔ کچھ لوگ قدامت پسندی کو اپنائے ہوئے جبکہ کچھ نئی دنیا کے خواب دیکھ رہے تھے۔

سوال نمبر02:چکبست کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیت کیا ہے؟

چکبست کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی “وطن کی محبت” ہے۔ ان کے کلام میں جو نظمیں ہیں وہ زیادہ تر وطن اور حب وطن سے متعلق ہیں۔

Advertisement

سوال نمبر03:اس مضمون میں شامل اشعار میں چکبست،اقبال اور اصغر تینوں نے کس خیال کو پیش کیا ہے؟ تحریر کیجیے۔

چکبست،اقبال اور اصغر تینوں نے اپنے اشعار کے ذریعے معاملہ بندی کے خیال کو پیش کیا ہے۔

سوال نمبر04:مسدس کسے کہتے ہیں؟

مسدس چھ مصرعوں کے ایک بند پر مشتمل شاعری کو کہتے ہیں۔ اس کے پہلے چار مصرعے، ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں۔ پانچواں اور چھٹا مصرع ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں۔ طویل اور مسلسل منظومات کے لیے اس کا استعمال بہت ہوا ہے۔ سب سے مشہور مولانا حالی کی مسدس مسدس حالی ہے۔

Advertisement

عملی کام:

مندرجہ ذیل کے واحد لکھیے۔

جمعواحد
دواوین۔دیوان
طبائع۔طبیعتیں
مشاہیر۔مشہور
مراثی۔مرثیہ

Advertisement

Advertisement