چاروں طرف شور و غوغا کا عالم ،فضا گرد و غبار اور دھواں سے اٹی ھوئی اور چہار سو ہاہا کار مچی ہوئی تھی،یوں لگتا تھا کہ ان سارے عوامل کی وجہ سے آسمان پر ایک طرح کی دھند کی حکمرانی ھوگئی تھی،ھرطرف لوگوں کی چیخ و پکار مچی ھوئی تھی،مائیں اپنے بچوں کو کھوج رہی تھیں ،تو بچے روتی بسورتی شکلوں کے ساتھ اپنے اماں ابا کو اور بھائی بہن کو تو منکوحات اپنے خاوندوں کو ڈھونڈ رہیں تھںں۔الغرض ایک عجیب افراتفری کا عالم تھالیکن بیشتر ناکامی سے دوچار تھے،کیونکہ ھرکوئی اپنی اپنی پریشانی اور بھاگ دوڈ میں مصروف تھا۔لگتا یوں تھا کہ حشر کا سا سماں ہے اور اس معاملے میں اگر خواتین کو دیکھیں ،جو اپنی صنف نازک ہونے کی وجہ سے ویسے بھی ناتواں اور کمزور ہیں ،تو اس افراتفری کے ماحول نے ان کی رہی سہی توانائی ایک تو چھوٹے بچوں کی پکڑ دھکڑ نے کم کردی تھی،اور اب اس نئی صورتحال نے پوری طرح انہیں ناتوان کردیا تھا۔کیونکہ ان کےشریک حیات انہی کوکسی بہتر جگہ کی منتقلی کے لئے کوششوں میں لگے رہنے کی وجہ سے ان سے تھوڈی دوری رکھے ہوئے تھے،تاکہ ایک تو بچوں کے شورشرابے اور دوسرا ان کی چھک چھک اور بے جا پوچھ تاچھ سے پرے ھوکر انہیں جلد از جلد کہیں مناسب جگہ پر لے جا سکیں ،کیونکہ یہ قیامت جو ان کے شہر پر ٹوٹی تھی،کسی ظرح بھی ورلڈ ٹریڈ سینٹر سانحہ سے زیادہ نہیں توکم بھی نہیں تھی،کیونکہ وہاں بھی لوگوں کے اپارٹمنٹس و آفس زمین بوس ھوگئے تھے ،تو یہاں بھی کچھ کم نہیں تھا ،یہاں بھی لوگوں کے گھر،چاردیواری،باتھ رومز،کچن ، اور مہمان خانے بلڈوزر چلاکر صفحہ ہستی سے مٹا دئیے گئے تھے یا مٹائے جانے والے تھے۔
جی تو بات ھورہی ھے اسی ساحل کی کہ جہاں لوگ سالوں سے زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم چلے آرہے تھے،کہ ناں تو وہاں اجھی سڑکیں تھیں،ناہی تعلیمی ادارے،نا صاف سھترا حیات بخش پانی اور نا ہی شہری زندگی کو بہتر طور پر گزارنے کے لئے برق و بجلی ۔
اگر کوئی ایک اچھی اور بہتر چیز تھی تو وہ تھی صرف اور صرف دنیا کے دوسرے شہروں کی نسبت امن وامان کی بہتر صورتحال۔ یعنی خون خرابے و گولی اور بندوق سے یہ لوگ کافی دور تھے اور انہی خوبیوں کی بنا ء پر وہ دنیا والوں کی نظروں میں پرامن شہری بھی تھے لیکن دراصل اپنی شرافت ہی کی وجہ سے ایک بہترین ساحل و قدرتی ڈیپ سی (گہری بندرگاہ) علاقہ ہونے کے باوجود زندگی کی سہولتوں سے محروم تھے۔
وہ اور ان کے آباو اجداد کی بھی صدیوں سےیہی خواہش تھی کہ وہ جب ایک جزیرہ نما ساحلی پٹی کے باسی ہیں تو انہیں بھی دنیا کے دوسرے ممالک کے ساحلی علاقوں کی طرح نہ صرف زندگی کی تمام بنیادی سہولیات میسر ھوں بلکہ جس طرح دنیا کے دوسرے ممالک کے ساحلی شہر ترقی یافتہ اور خوشحال ھیں ۔وہ بھی انہی کی طرح خوشحال و آسودہ زندگی گزار سکیں ،لیکن یہ صرف ایک‌ خواب تھا۔ایک خواھش تھی اور اسے ایک سپنے کی صورت ان کے آباو اجداد کئی سالوں سے جی رھے تھے۔
ایک وہ بھی وقت تھا کہ وہ بیرونی آقاوں کی خوشنودی کے لئے ایک غیر زبان کے غلام تھے اور جب انہوں نے ان سے آزادی حاصل کرنے کے لئے کئی سالوں تک جدوجہد کی تو بالاآخر آزادی کی روشن صبح کا بھی دیدار ھوا،لیکن جن کے ساتھ شامل ھونے کے لئے انہوں نے پچھلے آقاوں سے نجات حاصل کی تھی،ان کا انہیں یہ یقین دہانی کہ تمہاری زبان بولنے والے دوسرے لوگ ان کے ساتھ ہیں ،تو تم ایک غیر زبان کے ساتھ کیوں ھو، کافی تو تھا کہ جس کی بنیاد پر وہ ان کے ساتھ الحاق کے لئے تیار ھوگئے تھے،لیکن اصل معاہدہ تو ان کی خوشحالی و ترقی تھا ،جو الحاق کے وقت دونوں کے آقاوں نے ایک تحریری معاہدے کی صورت ان کے مابین کرایا تھا،لیکن اس کے بعد اس معاہدے نے اپنی مقررہ بھی پوری کرلی،لیکن نہ تو انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات پانی،بجلی،صحت اور سڑکیں فراہم ھوسکیں، اور نہ ہی ان کا شہر خوشحال اور ترقی یافتہ ساحلی شہر بن سکا ۔
ہاں اگر کچھ ہوا تو یہ کہ ان کے نئے آقا نے ساحل و وسائل کی لوٹ کھسوٹ کا ابتداء سے جو آغاز کیا تھا،وہ عمل آج بھی جاری و ساری ھے۔وہ نہ ترقی یافتہ بن سکے اور نہ ھی ان کی زندگی میں خوشحالی آسکی اور بقول علاقہ کے بزرگوں کا ،ان کی ماضی کی زندگی آج کی زندگی کے نسبت زیادہ خوشحال تھی،کیونکہ ان کا ساحلی علاقہ نہ صرف قدرتی طور پر گہرے پانی کی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے ایک بہترین اور منافع بخش ساحلی پٹی تھا ،بلکہ اردگرد کے بہت سے ممالک اپنی تجارت و ٹرانسپورٹ کے لئے بھی اسے استعمال کرتے تھے ،لیکن نہ تو پچھلے آقاوں نے اور نہ ان کے بعد آنے والے نئے آقانے ان کی حالت زار پر توجہ دی تھی اور اب کچھ عرصے سے خوشحالی و ترقی کی نوید پھر سے سننے میں آرہی تھی ،لیکن اب اس ترقی و خوشحالی کے ساتھ ان کی وہاں سے بے دخلی کا ماسٹر پلان بھی آچکا تھا ،کہ جنہوں نے کئی صدیوں سے ترقی و خوشحالی کے سپنے اکھیوں میں سجا رکھے تھے،وہ ان کی وہاں سے بے دخلی کاسن کر ٹوٹ کر کر چی کرچی ھونے والے تھے۔
یہ نئی خوشحالی وہ نہیں تھی کہ جس کا انتظار کئی سالوں تک ایک سپنے کی طرح ان کی انکھوں میں سمندری سرمہ (مٹی)کی صورت رہا تھا بلکہ بقول علاقہ کے زیرک بزرگوں کے انہیں ان کی نہیں صرف ان کے ساحل و وسائل یعنی دھرتی ماں کی ضرورت تھی ۔
اب وہ اس وقت کو یاد کرتے ہیں کہ جب انہوں نے زندگی کی بنیادی سہولیات کی یعنی ترقی اور خوشحالی کی مانگ کی تھی تو ان حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی تھی اور جب انہیں خود اس ساحلی علاقے کی جغرافیائی ضرورت و بین الاقوامی اہمیت کا اندازہ ھوا تو اب چہارسو ان کی ترقی و خوشحالی اور چائنا کے ساتھ مل کر ,,ÇPec،،پراجیکٹ کا ڈھول پیٹنے لگے ۔ ،جسے بہت پہلے ھوجانا چائیے تھا۔
دیر آید درست،لیکن یہ کیا کہ اس ترقی اور ڈیپ سی پورٹ کے بدلے اب وہاں سے ان کی بیدخلی کے منصوبے بھی بننے شروع ھوگئے تھے جس کا آغاز دو پرانے محلوں ،ایک جنوبی سمت سے اور دوسری شمالی جانب سے منتقلی سے ھوچکا تھا ،اور اب شہر کو سیکورٹی اور فینسنگ کے نام پر چاروں طرف سے باڈ میں کئے جانے اور ان کی وہاں سے بیدخلی کی تیاریاں بھی شروع کردی گئی تھیں
وہ‌ پرانا شہر جو صدیوں سے پدی زر اور دیمی زر کے کنارے آباد تھا،اسے پورٹ سٹی قرار دیا گیا تھا ،جس کی وجہ سے وہاں پر صدیوں سے بودو باش اور ماہیگیری کرنے والے نہ صرف اپنے روزگار سے محروم ھورہے تھے بلکہ جو ترقی و خوشحالی کا ایک سپنا ،وہ اور ان کے آباو اجداد جاگتی آنکھوں سے دیکھتے آرہے تھے،وہ سپنا بھی ان کی آنکھوں سے نوچا جارہا تھا۔
جبھی کیا بزرگ ،عمر رسیدہ یا نوجوان مچھیرے سھبی آنسووں سے لبریز آنکھوں سے اس ناانصافی و جبر کے تماشے کے آگے حسرت و یا س کی تصویر بنے کھڑے تھے اور ان گھروں کی طرف دکھ اور پریشانی کی تصویر بنے ،ڈبڈبائی آنکھوں سے اس طرح دیکھنے میں مگن تھے کہ جیسے کسی نے یکدم ان کے جسم سے سارا لہو نچوڑ لیا ھو،کہ کاٹو تو لہو نہیں کیونکہ۔یہ وہی گھر تھے کہ جن کی ایک ایک اینٹ کو سینچتے سینچتے ان کی ھڈیاں تک ریزہ ریزہ ھوگئیں تھیں ،اب وہی گھر ان سے چھین کر ان کی جگہ وہاں پر ریلوے یارڈ،ٹرین کی پٹڑی ،ایکسپورٹ امپورٹ کی بلڈنگنز،فیکٹریز اود پتہ نہیں کیا کیا چیزیں بننے جارہی تھیں اور پھر یہ سب کچھ ان کے لئے بھی نہیں تھا ،کیونکہ انہیں تو یہاں سے دور بہت ہی دور کھلے میدانوں اور جنگلوں میں منتقل کیا جانا تھا،کہ جہاں کالونی اور کوارٹر تو دور کی بات ،وہاں ان کے لئے کپڑے سے بنے ھوئے ٹینٹ تک دستیاب نہیں تھے اور اگر ھوتے بھی تو وہ کیسے اپنے بھرے پھرے گھر وں کو چھوڑکر وہاں جاتے،جھبی وہ احتجاج کررہے تھے ،چیخ رہے تھے،چلارھے تھے،لیکن کون تھا جو اس نقارخانے میں توتی کی آواز سنتا اور جب ان کے گھروں کو مسمار کرنے کا فیصلہ ھوا تو شہر کو چاروں طرف سے سیکورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا اور دیو ھیکل بلڈوزر سے ان کے آشیانوں کو مسمار کرنے کا کام شروع کردیا گیا جس کے ردعمل کے طور پر کچھ جی دار قسم کے لوگ ان بلڈوزر کے سامنے لیٹ بھی گئے،لیکن کتنے اور کب تک ۔کئی لوگ زخمی ھوئے اور کچھ لوگوں کی جانیں بھی گئیں،لیکن کتنی اور کب تک
،کیونکہ پہلے لوگوں کی یہی سوچ تھی کہ شاید کچھ لوگوں کی جانی قربانی کو دیکھتے ھوئے ان کے ,,اپنوں،،کو جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں کچھ نہ کچھ حیا آئے اور ان بلڈوزروں کو وہ‌روک دیں، لیکن جب ان کے اپنے ووٹوں سے منتخب شدہ میونسپل کمیٹی کے چئیر مین تک نے انہیں جھاڑ پلادی۔
,,اندھے اورنا بینا ھو تم لوگ کیا دکھائی نہیں دیتا کہ بلڈوزر چل رہے ہیں ،ان کے ٹائر تلے آسکتے ھو،لیکن پتہ نہیں تم لوگ کیوں نہیں سمجھتے۔ارے بابا یہ شہر تمہارا ھے،اسے کوئی چھین کے تم سے نہیں لے جارہا،اور تم جو ترقی اور خوشحالی چاھتے ھو،اسی کی راہ ہموار کرنے کے لئے تو یہ سب کچھ ھورہا ھے۔،،پھر کچھ توقف کے بعد۔,,تم لوگوں کو اچھے اسکول، اسپتال اور سڑکیں نہیں چائیے کیا،تو اس کے لئے یہ چھوٹی سی گھر کی قربانی تو تم لوگوں کو دینی ہی ھوگی ،لیکن بے فکر رھو تم لوگوں کے لئے وہاں سب انتظامات کردئیے گئے ہیں۔،،تو یہ آخری بات اس نے اس طرح کہی،جیسے ان کے لئے وہاں بڑی بڑی شاندار بلڑنگز بنائی گئی ھوں،لیکن اس بات سے وہ جم غفیر کی قہر آلود ‌‌نگاہوں کا سامنا نہ کرسکا اور کھسیانی ھنسی کو دباتا ھوا،سیکورٹی فورسز کے پیچھے چھپ گیا۔
اب وہ اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ یہ بھی اب ہمارانہیں رہا، یہ بھی دوسروں کی طرح اپنی بولی لگاکر اپنے پیسے کھرے کرچکا،اس لئے اب یہ ہماری بولی نہیں بولتا اور نہ ہی ہماری بات موءثر انداز میں ایوانوں تک پہنچاسکتا ہے جبھی شور و غوغا اور احتجاج میں مزید اضافہ ھونے لگا،اور اب اس احتجاج میں سب سے زیادہ موءثر آواز ماہیگیروں کی ھوگئی تھی ، جو سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ تھا،کیونکہ ان کاروزگار ،رزق اور نیلگوں سمندر ان سے چھینا جارہا تھا اور اگر سچی بات کریں تو ایک طرح سے ان کی ماں ان سے چھینی جا رہی تھی،جس کی گودمیں سررکھ کر وہ اطمینان سے سوجاتے تھے اور وہ انہیں نرم اور شوریدہ لہروں کی لوریاں دے کر قسم قسم کی مچھلیوں سے ان کی غزائی و مالی ضروریات پوری کرتا تھا،لیکن اب یہ جو ان سے چھینا جارہا تھا،تو وہ کون کمبخت ھوگاکہ جسے اس کی ماں سے جداکیا جارہا ھو اور وہ خاموش تماشائی بنا رھے۔
,,تمام لوگ یہیں پر دھرنا دے کر بیٹھ جائیں،،تھک جائیں تو لیٹ جائیں اور اس وقت تک نہیں اٹھنا جب تک ھمارے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے،دیکھتے ھیں کہ کس طرح ھمارے گھروں کی جگہ فیکٹری اور روڈ بنیں گے۔،،
معلوم نہیں کہاں سے ایک گرجدار صدا ائی ،یوں لگا کہ آسمان سے کسی فرشتے صفت انسان کی ندا تھی ،جبھی وہ تمام لوگ اس ندا پر لبیک کہتے ھوئے وہیں پر لیٹ گئے۔
اس نئی صورتحال سے حکام بالاگھمبیر پریشانی سے دوچارھوگئے کہ وہ اب کریں تو کیا کریں ،کیسے اس جم غفیر بلکہ پوری آبادی کو وہاں سے ہٹادیں ،کیونکہ انہیں ہٹانے کے لئے بلڈوزر بھی کم پڑ رہے تھے ،اور اگر آنسو گیس اور ھوائی فائر سے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کریں تو وہ بھی ناکافی تھے۔
انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز کے بڑے نئے تعمیر شدہ پورٹ پر بیٹھ کر آپس میں صلاح مشورہ کرنے لگے تو مختلف رائے سامنے آنے لگیں۔
,,ارمی کو آنے دیتے ہیں وہ خود انہیں سیدھا کردیں گے۔۔۔۔
,,گولہ باری کرکے انہیں ختم کردیتے ہیں۔۔۔
,,ائر فورس سے کہہ کر ان پر شیلنگ اور میزائل گراکر ختم کردیں گے ۔۔
غرض جتنے منہ اتنی باتیں ،لیکن ان سب کوایک گرجدار آواز نے خاموش کرادیا ،اور وہ آواز تھی ،ڈسٹرکٹ کونسل کے چئیرمین کی۔
,,آپ حکام اور کچھ نہیں کریں گے ۔۔پھر کچھ توقف کے بعد۔,,ہمیں ہمارے حال پر چھوڈدیں،بہت بہت شکریہ کہ آپ لوگوں نے ہمیں ترقی اور خوشحالی دے دی،ڈیپ سی پورٹ بن گیا،اب ھم جانیں اور ھمارا کام ،لیکن اس نام نہاد ترقی کے آگے اپنا روزگار اور اپنے گھروں کی قربانی نہیں دے سکتے۔۔۔،,,ابھی اسکی بات مکمل بھی نہیں ھوئی تھی کہ اسے گرفتار کرنے کا حکم ھوا،
,,گرفتار کرلو اس غدار وطن کو ،جانے نہ پائے۔۔۔۔
اسی وقت سیکورٹی فورسز نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا،لیکن عوام نے اس سے پہلے ہی اس کے گرد انسانی ھاتھوں کا ایسا حصار بنالیا اور اتنی زیادہ نعرہ بازی کی کہ انہیں کئی قدم پیچھے ھٹنا پڑا۔
اور جب تھوڈا بہت شور و غوغا تھما تو پہلی دفعہ حلقے کے ممبر ایم‌پی اے اور سینیٹر نمودار ھوئے۔اور مقامی بولی میں ان سے مخاظب ھوئے
,,آپ سب کو مبارک ہو کہ آپ کے جائز مطالبوں کو تسلیم کرلیا گیا ھے ،اب تمہیں کوئی یہاں سے بیدچل نہیں کرسکے گا ،ماسٹر پلان میں بھی تبدیلی کردی گئی ھے،اب نہ تمہارے گھر مسمار ھوں گے اور نہ ھی تم سے تمہارا روزگار تمہارا سمندر چھینا جائے گا اور جو گھر مسمار ھوچکے ہیں انہیں بھی اذ سر نو تعمیر کیا جائے گا۔،،
مارے خوشی اور انبساط کے لوگ تالیاں پیٹنے لگے ،زندہ و پائندہ باد کے نعرے لگانے لگے،لیکن ان میں سے کچھ لوگوں کو اب بھی یہ ایک نئی چال اور مکر و فریب لگ رہا تھا کیونکہ وہ ماضی میں بھی اس طرح کے دھوکے اور فریب کا شکار ھوچکے تھے۔

بقلم رفیق زاہد گوادر