Advertisement

تعارفِ نظم 

یہ بند ہماری درسی کتاب کی نظم ”اسرارِ قدرت“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر 

نظیر اکبر آبادی کا نام ولی محمد اور تخلص نظیر تھا۔ اردو، فارسی زبان پر انھیں دست رس حاصل تھی۔ نظیر اردو کے پہلے شاعر ہیں جنھوں نے نظمیہ شاعری کو فروغ دیا۔ وہ ایک خالص عوامی شاعر تھے۔ ”برسات کی بہاریں، آدمی نامہ، ہنس نامہ، اور بنجارہ نامہ“ وغیرہ آپ کی معروف نظمیں ہیں۔

Advertisement
جہاں میں کیا کیا خِرَد کے اپنی ،ہر اِک بجاتا ہے شادیانے
کوئی حکیم اور کوئی مہندس، کوئی ہو پنڈت کتھا بکھانے
کوئی ہے عاقل، کوئی ہے فاضل، کوئی نجومی لگا کہانے
جو چاہو، کوئی یہ بھید کھولے، یہ سب ہیں حیلے، یہ سب بہانے
پڑے بھٹکتے ہیں لاکھوں دانا کروڑوں پنڈت ہزاروں سیانے
جو خوب دیکھا تو یار آخر خدا کی باتیں خدا ہی جانے

اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ دنیا میں ہر انسان اپنی عقلمندی اور اپنے سیانے پن پر فخر کرتا نظر آتا ہے۔ کوئی حکیم بن ہر مرض کا علاج بتاتا ہے، تو کوئی پنڈت بن کر کتھائیں سناتا ہے۔ کوئی نجومی بنا ماضی، حال اور مستقبل بتانے میں لگا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ان کی یہ سب باتیں صرف بہانے ہی ہیں، کیونکہ ہر درد کی دوا صرف اللہ کے پاس ہے، اور مستقبل کی خبر رب کی سوا کسی کو نہیں ہے۔ یہ سب باتیں صرف بہانے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ہر شخص خود کو عقل مند سمجھتا ہے اور قدرت کے پوشیدہ رازوں کو اپنی علم کی بنیاد ہر جاننا چاہتا ہے، لیکن کوئی بھی آج تک اس امر میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکا ہے، کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے مکمل رازوں کو نہیں جان سکتا ہے۔

Advertisement
ہوا کے لو پر یہ آسماں کا بیچو باخیمہ جوتن رہا ہے
نہ اس کی میخیں ،نہ ہیں طنابیں نہ اس کی چوبیں ادھر کھڑا ہے
ادھر ہے چاند اور ادھر ہے سورج ادھر ستارہ ادھر ہوا ہے
کسی کو مطلق خبر نہیں کہ کب بنا ہے اور کاہے کاہے
پڑے بھٹکتے ہیں لاکھوں دانا کروڑوں پنڈت ہزاروں سیانے
جو خوب دیکھا تو یار آخر خدا کی باتیں خدا ہی جانے

اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ اگر ہم آسمان کو دیکھیں تو ہمءں یہ ہوا کے زور پر کھڑا نظر آتا ہے اور اس کو باندھے رکھنے کو نا کوئی کیل ہے، نہ اس کی طنابیں ہیں۔ نہ اس آسمان کو کوئی تھامے کھڑا ہے، پھر بھی وہ اپنی جگہ سے ہلتا نہیں ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ یہ چاند اور ستارے اپنے وقت پر اپنے مقام پر آتے ہیں، ہم جتنی کوشش کر لیں اس راز سے پردہ نہیں اٹھا سکتے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ہر شخص خود کو عقل مند سمجھتا ہے اور قدرت کے پوشیدہ رازوں کو اپنی علم کی بنیاد ہر جاننا چاہتا ہے لیکن کوئی بھی آج تک اس امر میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکا ہے، کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے مکمل رازوں کو نہیں جان سکتا ہے۔

فلک تو کہنے کو دور ہے گا زمیں کا اب جو یہ بسترا ہے
کھڑے ہیں لاکھوں پہاڑ جس پر فلک سے سر جس کا جا لگا ہے
ہزاروں حکمت کا اک بچھونا یہ پانی اوپر جو بچھ رہا ہے
بہت حکیموں نے خاک چھانی کوئی نہ سمجھا یہ بھید کیا ہے
پڑے بھٹکتے ہیں لاکھوں دانا کروڑوں پنڈت ہزاروں سیانے
جو خوب دیکھا تو یار آخر خدا کی باتیں خدا ہی جانے

اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم جب دیکھتے ہیں تو ہمیں آسمان زمین سے دور بہت دور نظر آتا ہے، لیکن دوسری طرف اگر ہم زمین پر موجود بلند پہاڑ کا موازنہ کرتے ہیں تو ان کا سر ہمیں آسمان سے لگا ہوا نظر آتا ہے۔ آسمان کے اس راز سے کوئی کوئی واقف نہیں ہوسکا، ہزاروں لوگوں نے اپنا زور لگایا مگر کچھ نہ کر پائے، کیونکہ انسان خود کو عقل مند سمجھتا ہے اور قدرت کے پوشیدہ رازوں کو اپنی علم کی بنیاد ہر جاننا چاہتا ہے لیکن کوئی بھی آج تک اس امر میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکا ہے، کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے مکمل رازوں کو نہیں جان سکتا ہے۔

Advertisement
زمیں سے لے کر جو آسماں تک بھری ہے لاکھوں طرح کی خلقت
کہیں سے ہاتھی کہیں چیونٹی کہیں سے رائی کہیں سے پربت
یہ جتنے جلوے دکھارہی ہے خدا کی صنعت خدا کی حکمت
جو چاہے کھولے یہ بھید اس کے کسی کو اتنی نہیں ہے قدرت
پڑے بھٹکتے ہیں لاکھوں دانا کروڑوں پنڈت ہزاروں سیانے
جو خوب دیکھا تو یار آخر خدا کی باتیں خدا ہی جانے

اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ اللہ نے زمین سے آسمان تک لاکھوں کڑوروں مخلوقات پیدا کی ہیں۔ کہیں ہاتھی جیسے بھاری بھرکم جانور تو کہیں چیونٹی جیسی نرم و نازک اور چھوٹی مخلوق۔ کہیں اس نے رائی کا چھوٹا سا زرا بنایا ہے تو کہیں فلک کو چھوتے پہاڑ بنائے ہیں۔ اس کی بنائی گئی چیزوں سے چاروں طرف خدا کی قدرت نظر آتی ہے۔ یہ جو کائنات کے زرے زرے میں ہزاروں راز پنہاہ ہیں، انسان چاہ کر بھی ان کے راز نہیں پاسکتا کیونکہ انسان خود کو عقل مند سمجھتا ہے اور قدرت کے پوشیدہ رازوں کو اپنی علم کی بنیاد ہر جاننا چاہتا ہے لیکن کوئی بھی آج تک اس امر میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکا ہے، کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے مکمل رازوں کو نہیں جان سکتا ہے۔

کوئی ہے ہنستا کوئی ہے روتا کہیں ہے شادی غمی کہیں ہے
کہیں ترقی کہیں تنزل کہیں گماں اور کہیں یقیں ہے
کوئی گھٹستا زمیں کے اوپر کوئی خوش سے فلک نشیں ہے
یہ بھید اپنا وہ آپ جانے کسی کو ہرگز خبر نہیں ہے
پڑے بھٹکتے ہیں لاکھوں دانا کروڑوں پنڈت ہزاروں سیانے
جو خوب دیکھا تو یار آخر خدا کی باتیں خدا ہی جانے

اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ دنیا میں بہت سارے قسم کے لوگ موجود ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ خوشیوں میں مست ہیں، تو کئی غموں سے چور ہیں۔ کئی لوگ دن بدن ترقی کرتے اور اونچا مقام پاتے جاتے ہیں، تو کئی لوگوں کے حصے میں ناکامیاں آتی ہیں۔ بہت سے لوگوں کے پاس یقین کی پختہ دیوار ہے، تو وہیں کچھ لوگ گمان کا شکار ہیں۔ کوئی زندگی کو عیش و عشرت میں جی رہا ہے، مسرتوں کے سنگ اپنی زندگی گزار رکا ہے، تو وہیں ایسے لوگ بھی ہیں جا غموں کے ساتھ اپنی زندگی کو کاٹ رہے ہیں۔ زندگی اور اس دکھ سکھ کے راز کیا ہیں، کہیں خوشی تو کہیں غم کیوں ہے اس بات سے صرف اللہ ہی واقف ہے اور کوئی ان زاروں سے باخبر نہیں ہے۔ دراصل انسان خود کو عقل مند سمجھتا ہے اور قدرت کے پوشیدہ رازوں کو اپنی علم کی بنیاد ہر جاننا چاہتا ہے لیکن کوئی بھی آج تک اس امر میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکا ہے، کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے مکمل رازوں کو نہیں جان سکتا ہے۔

Advertisement

سوال نمبر ۱ : پہلے، دوسرے اور پانچویں بند کی تشریح کیجیے۔

جہاں میں کیا کیا خِرَد کے اپنی ،ہر اِک بجاتا ہے شادیانے
کوئی حکیم اور کوئی مہندس، کوئی ہو پنڈت کتھا بکھانے
کوئی ہے عاقل، کوئی ہے فاضل، کوئی نجومی لگا کہانے
جو چاہو، کوئی یہ بھید کھولے، یہ سب ہیں حیلے، یہ سب بہانے
پڑے بھٹکتے ہیں لاکھوں دانا کروڑوں پنڈت ہزاروں سیانے
جو خوب دیکھا تو یار آخر خدا کی باتیں خدا ہی جانے

اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ دنیا میں ہر انسان اپنی عقلمندی اور اپنے سیانے پن پر فخر کرتا نظر آتا ہے۔ کوئی حکیم بن ہر مرض کا علاج بتاتا ہے، تو کوئی پنڈت بن کر کتھائیں سناتا ہے۔ کوئی نجومی بنا ماضی، حال اور مستقبل بتانے میں لگا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ان کی یہ سب باتیں صرف بہانے ہی ہیں، کیونکہ ہر درد کی دوا صرف اللہ کے پاس ہے، اور مستقبل کی خبر رب کی سوا کسی کو نہیں ہے۔ یہ سب باتیں صرف بہانے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ہر شخص خود کو عقل مند سمجھتا ہے اور قدرت کے پوشیدہ رازوں کو اپنی علم کی بنیاد ہر جاننا چاہتا ہے، لیکن کوئی بھی آج تک اس امر میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکا ہے، کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے مکمل رازوں کو نہیں جان سکتا ہے۔

ہوا کے لو پر یہ آسماں کا بیچو باخیمہ جوتن رہا ہے
نہ اس کی میخیں ،نہ ہیں طنابیں نہ اس کی چوبیں ادھر کھڑا ہے
ادھر ہے چاند اور ادھر ہے سورج ادھر ستارہ ادھر ہوا ہے
کسی کو مطلق خبر نہیں کہ کب بنا ہے اور کاہے کاہے
پڑے بھٹکتے ہیں لاکھوں دانا کروڑوں پنڈت ہزاروں سیانے
جو خوب دیکھا تو یار آخر خدا کی باتیں خدا ہی جانے

اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ اگر ہم آسمان کو دیکھیں تو ہمءں یہ ہوا کے زور پر کھڑا نظر آتا ہے اور اس کو باندھے رکھنے کو نا کوئی کیل ہے، نہ اس کی طنابیں ہیں۔ نہ اس آسمان کو کوئی تھامے کھڑا ہے، پھر بھی وہ اپنی جگہ سے ہلتا نہیں ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ یہ چاند اور ستارے اپنے وقت پر اپنے مقام پر آتے ہیں، ہم جتنی کوشش کر لیں اس راز سے پردہ نہیں اٹھا سکتے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ہر شخص خود کو عقل مند سمجھتا ہے اور قدرت کے پوشیدہ رازوں کو اپنی علم کی بنیاد ہر جاننا چاہتا ہے لیکن کوئی بھی آج تک اس امر میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکا ہے، کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے مکمل رازوں کو نہیں جان سکتا ہے۔

Advertisement
کوئی ہے ہنستا کوئی ہے روتا کہیں ہے شادی غمی کہیں ہے
کہیں ترقی کہیں تنزل کہیں گماں اور کہیں یقیں ہے
کوئی گھٹستا زمیں کے اوپر کوئی خوش سے فلک نشیں ہے
یہ بھید اپنا وہ آپ جانے کسی کو ہرگز خبر نہیں ہے
پڑے بھٹکتے ہیں لاکھوں دانا کروڑوں پنڈت ہزاروں سیانے
جو خوب دیکھا تو یار آخر خدا کی باتیں خدا ہی جانے

اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ دنیا میں بہت سارے قسم کے لوگ موجود ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ خوشیوں میں مست ہیں، تو کئی غموں سے چور ہیں۔ کئی لوگ دن بدن ترقی کرتے اور اونچا مقام پاتے جاتے ہیں، تو کئی لوگوں کے حصے میں ناکامیاں آتی ہیں۔ بہت سے لوگوں کے پاس یقین کی پختہ دیوار ہے، تو وہیں کچھ لوگ گمان کا شکار ہیں۔ کوئی زندگی کو عیش و عشرت میں جی رہا ہے، مسرتوں کے سنگ اپنی زندگی گزار رکا ہے، تو وہیں ایسے لوگ بھی ہیں جا غموں کے ساتھ اپنی زندگی کو کاٹ رہے ہیں۔ زندگی اور اس دکھ سکھ کے راز کیا ہیں، کہیں خوشی تو کہیں غم کیوں ہے اس بات سے صرف اللہ ہی واقف ہے اور کوئی ان زاروں سے باخبر نہیں ہے۔ دراصل انسان خود کو عقل مند سمجھتا ہے اور قدرت کے پوشیدہ رازوں کو اپنی علم کی بنیاد ہر جاننا چاہتا ہے لیکن کوئی بھی آج تک اس امر میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکا ہے، کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے مکمل رازوں کو نہیں جان سکتا ہے۔

سوال نمبر ۲ : اس نظم کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

  • نظم : اسرارِ قدرت
  • شاعر : نظیر اکبر آبادی

اس نظم میں شاعر کہتے ہیں کہ دنیا میں موجود ہر شخص خود کو عقل مند سمجھتا ہے اور اس کو لگتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ اس سے کچھ مخفی نہیں ہے۔ کہیں پر حکیم اور پٹدت تو کہیں پر نجومی یہ کہتے نظر آتے ہیں کے ہم ماضی، حال اور مستقبل سب معلوم ہے۔ مگر درحقیقت یہ سب غیب کی باتیں ہیں اور صرف اللہ ﷻ ہی ان سے واقف ہے۔ آسمان کیسے بنا اور کیسے وہ ہوا میں کھڑا ہے۔ سورج، چاند اور ستارے کسے وقت پر آتے جاتے ہیں یہ تو بس خدا ہی جانتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ہر شخص خود کو عقل مند سمجھتا ہے اور قدرت کے پوشیدہ رازوں کو اپنے علم کی بنیاد پر جاننا چاہتا ہے، لیکن کوئی بھی آج تک اس امر میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکا ہے، کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے مکمل رازوں کو نہیں جان سکتا ہے۔ اور صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ کیسے اس نے یہ جہاں بنایا۔ مٹی، زمین، پانی اور آسمان بنایا، مٹی اور خون سے کڑوروں کی تعداد میں جاندار بنائے۔ کہیں بڑا، کہیں چھوٹا، کہیں کالا، کہیں گورا اور یہاں تک کہ ہر ایک جاندار کو دوسرے جاندار سے مخلتف بھی بنایا۔ انسان جتنا بھی عقل مند ہو جائے وہ قدرت کے اسرا نہیں پاسکتا ہے۔

Advertisement

سوال ۳ : اس نظم کا مرکزی خیال کیا ہے؟ بیان کیجیے۔

مرکزی خیال

اس نظم میں شاعر قدرت کے پوشیدہ راز کے بارے میں اپنی قیاس آرائی کررہے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ہر شخص خود کو عقل مند سمجھتا ہے اور قدرت کے پوشیدہ رازوں کو اپنی علم کی بنیاد ہر جاننا چاہتا ہے لیکن کوئی بھی آج تک اس امر میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکا ہے، کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے مکمل رازوں کو نہیں جان سکتا ہے۔

سوال ۴ :ن ظیر اکبر آبادی کی اس نظم سے ہمیں کیا سبق ملتاہے؟ لکھیے۔

جواب : نظیر اکبر آبادی کی اس نظم سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا میں موجود ہر چیز اللہ ﷻ کی قدرت کے اسرار رکھتی ہے اور ہر انسان خواہ وہ عاقل ہو یا دانا، مولوی ہو یا پنڈت، وہ یہ سمجھتا ہے کی اس زے زیادہ اللہ کے ان رازوں سے کوئی واقـف نہیں ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کی اللہ کی باتیں صرف اللہ ہی جانتا ہے، انسان میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ قدرت کے یہ اسرار پا سکے۔

Advertisement

سوال ۵ : بیئت کے لحاظ سے یہ نظم کس صنف میں شمار ہوتی ہے اور اس کی خصوصیات کیا ہیں؟

جواب : بیئت کے لحاظ سے یہ نظم صنف مسدس میں شمار ہوتی ہے اور اس نظم کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نظم کا ہر بند چھ شطور پر مشتمل ہوتا ہے۔

سوال ٦ : جزو "الف” کو جزو”ب” میں سے متضاد الفاظ چن کر ان کے جوڑے بنائیے۔

خردجنوں
عاقلجاہل
دانانادان
آسمانزمین
شادیغمی
ترقی تنزل
گمانیقین
Advertisement

Advertisement

Advertisement