Advertisement
  • سبق نمبر20: جاپانی لوک کہانی
  • سبق کا نام: اونتی

خلاصہ سبق: اونتی

سبق “اونتی” ایک جاپانی لوک کہانی کا ترجمہ ہے جس کا کردار اپنے مزاح کے انداز سے اردو کے ملا نصرالدین سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔ اونتی ایک خوش مزاج اور ہنس مکھ انسان تھا۔جس سے بہت سے لوگ محبت کرتے تھے جبکہ کچھ حاسد اسے نیچا دکھانے کی کوشش بھی کرتے تھے لیکن اونتی اپنی سوجھ بوجھ سے انھیں قائل کر لیتا تھا۔

Advertisement

ایک بار ا س کا مذاق اڑانے کی غرض سے کسی دوست نے کہا کہ رات سوتے میں میرا منھ کھلا رہ گیا اور اس میں چوہا چلا گیا تو اب میں کیا کروں تو اونتی نے اسے صلاح دی کہ ایک زندہ بلی پکڑ کر کھا جاؤ۔ اسی طرح اونتی نے ایک دوست کی بارات میں ایک شخص کو کھانا کھاتے اور مٹھائیاں جیب میں بھرتے دیکھا تو اونتی نے اس کے کوٹ میں چائے انڈیلنی شروع کر دی۔ مہمان کے ناراض ہونے پر اس نے بڑے بھولپن میں جواب دیا کہ تمھارے جیب میں مٹھائیاں ہیں اور میں ان کی پیاس بجھانے کی کوشش کر رہا ہوں اور انھیں چائئے پلا رہا ہوں۔

Advertisement

اسی طرح ایک بار اونتی کے ملک میں تین غیر ملکی تاجر آئے اور انھوں نے بادشاہ کے دربار میں کچھ سوالوں کے جواب طلب کیے۔ کوئی بھی ان کے سوالوں کے جواب نہ دے پایا۔ کسی نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ اونتی کو بلایا جائے وہ ان سوالوں کے جواب دے سکتا ہے۔اونتی اپنے گدھے کے ساتھ دربار میں آیا۔ پہلے تاجر نے سوال کیا کہ زمین کا مرکز کہاں ہے تو اونتی نے جواب دیا کہ ٹھیک وہاں جہاں میرے گدھے کا اگلا قدم ہے۔

تاجر نے حیران ہو کر کہا کہ تم اتنے وثوق سے یہ کیسے کہہ سکتے ہو۔ اونتی نے جواب دیا کہ آپ جا کر ناپ لیں اگر ذرا برابر بھی مرکز ادھر ادھر نکلے تو میں مان جاؤں گا کہ میرا جواب غلط تھا جس پہ یہ تاجر لاجواب ہو گیا۔ اگلے تاجر نے سوال کیا کہ آسمان میں کتںے تارے ہیں جس پہ اونتی نے جواب دیا کہ جتںے میرے گدھے کے بدن پہ بال ہیں ٹھیک اتنے آسمان میں تارے ہیں نہ ایک زیادہ نہ ایک کم۔تاجر نے بولا کہ تم یہ کیسے ثابت کر سکتے ہو۔اونتی نے کہنے لگا کہ یقین نہ آئے تو گن کر دیکھ لو۔

Advertisement

تاجر نے کہا کہ گدھے کے بال کیسے گںے جا سکتے ہیں جس پہ اونتی نے کہا کہ کیا آسمان کے تارے گںے جا سکتے ہیں یہ جواب سن کر تاجر لاجواب ہو گیا۔ تیسرے تاجر نے سوال کیا کہ بتاؤ میرے سر پر کتںے بال ہیں؟ اونتی نے جواب میں کہا کہ میرے گدھے کی دم کے بال گن کربتا دو میں تمھارے سر کے بالوں کی تعداد بتا دوں گا۔یہ سن کر تیسرا تاجر بھی لا جواب ہو گیا اور بادشاہ نے اونتی کو اس کی حاضر جوابی اور ہو شیاری پر انعام سے نوازا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک غریب مزدور نے سرائے والے سے مرغی کے کباب لے کر کھائے فوری قیمت ادا نہ کر سکا اور اگلے دن دینے کا وعدہ کر کے چلا گیا۔

اگلے دن قیمت ادا کرنے آیا تو سرائے کے مالک نے ایک ہزار روپے طلب کیے۔ مزدور کا منھ حیرت سے کھلا رہ گیا کہ مرغی کے کباب کی قیمت ایک ہزار روپے۔ جس پر سرائے کا مالک کہنے لگا کہ اگر تم مرغی نہ کھاتے تو انڈے دیتی جس سے بچے ہوتے اور جتںے بچے نکلتے ان کی یہی قیمت ہوتی۔مزدود نے اتنی قیمت ادا کرنے سے انکار کیا تو دونوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا اور بات منصف تک جا پہنچی۔

Advertisement

منصف نے اگلے روز دونوں کو اپنے وکیل کے ساتھ آنے کا کہا۔سرائے کا مالک وکیل کو لے آیا جبکہ مزدور اونتی کے پاس گیا اور اسے تمام ماجرا کہہ سنایا۔ اونتی نے اسے اگلے روز وقت پر عدالت پہنچنے کا کہا اور خود وہاں دیر سے پہنچا۔ دیر سے پہنچنے پر معافی مانگی اور کہا کہ مجھے اپنے کھیت میں گھہیوں بونا ہے جس کیلئے میں انھیں بھنوانے چلا گیا۔ اس بات پر سب ہنسے اور منصف نے کہا کہ کیا بھنے گہیوں سے بھی پودے اگتے ہیں؟ جس پر اونتی نے کہا کہ بے شک ایسا ہونا ممکن نہیں بالکل اسی طرح جیسے بھنی مرغی انڈے نہیں دے سکتی ہے۔ منصف کو اونتی کی بات بالکل ٹھیک لگی اور اس نے فیصلہ مزدور کے حق اور سرائے کے مالک کے خلاف سنا دیا کہ مزدور صرف ایک مرغی کی قیمت ہی سرائے کے مالک کو ادا کرے گا۔

⭕️مندرجہ ذیل اقتباس کی تشریح کریں:

اقتباس: اونتی ایک خوش مزاج اور ہنس مکھ شخص تھا۔ غریبوں کا تو وہ بہت ہی عزیز دوست تھا۔ اس لیے لوگ اس سے بڑی محبت کرتے تھے۔ بعض لوگ اس سے حسد کرتے تھے۔ اور اس کو چڑھانے اور نیچا دکھانے کی تاک میں لگے رہتے تھے۔ لیکن اونتی اپنی سوجھ بوجھ سے الٹا انہیں قائل کر دیتا تھا۔

Advertisement

حوالہ: یہ اقتباس ہماری کتاب جان پہچان میں شامل ہے۔ اور سبق اسپینی کہانی “اونتی” سے لیا گیا ہے۔

تشریح: اونتی بہت ہی سمجھ دار ہے، سب کے ساتھ اس کے اخلاق اچھے ہیں، وہ بہت ہنس مکھ اور حاضر آدمی ہیں۔ غریب لوگوں سے اسے بہت لگاؤ تھا۔ وہ سب لوگ بھی اونتی سے بہت پیار و محبت کرتے تھے۔ مگر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اونتی سے جلتے اور حسد کرتے تھے، اور جب بھی موقع ملتا تھا وہ ا2نتی کو چڑھانے کی کوشش کرتے تھے، اور نیچا دکھانے کی بھی کوشش کرتے تھے۔ لیکن اونتی اپنی سمجھ داری اور ہوشیاری سے ان ہی لوگوں کو شرمندہ کر دیتا تھا۔

Advertisement

⭕️غور کریں:

▪️آپ نے دیکھا ہوگا کہ عام ماحول میں اس شخص کو بہت پسند کیا جاتا ہے، اور اس شخص کو بہت عزت حاصل ہوتی ہے جواپنی عقلمندی سے کسی بات کا فوراً دلچسپ انداز میں جواب دیتا ہے۔

⭕️سوالات و جوابات:

سوال1: اونتی نے زمین کا مرکز کہاں بتایا؟

جواب: اونتی نے لاٹھی سے اپنے گدھے کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ ٹھیک وہاں جہاں میرے گدھے کا اگلا دایاں قدم رکھا ہوا ہے وہی زمین کا مرکز ہیں۔

Advertisement

سوال2: آسمان میں کتنے تارے ہیں؟ اونتی نے اس سوال کا کیا جواب دیا؟

جواب:اونتی نے جواب دیا کہ میرے گدھے کے بدن پر جتنے بال ہیں، آسمان میں ٹھیک اتنے ہی تارے ہیں

سوال3: سرائے والے اور مزدور میں کیا جھگڑا تھا؟

جو اب: سرائے والے سے مزدور نے ایک مرغی کا کباب کھایا تھا، سرائے والے نے اس کے ایک ہزار روپے مانگے، مزدور نے کہا میں اتنے پیسے نہیں دوں گا، اس بات پر جھگڑا ہوا تھا۔

Advertisement

سوال4: اونتی نے سرائے والے اور مزدور کے جھگڑے کو حل کرنے کے لئے کیا دلیل دیں؟

جواب: اونتی نے یہ دلیل دی کہ جس طرح بھنے ہوئے گیہوں سے پودے نہیں اگ سکتے اسی طرح بھنی ہوئی مرغی بھی انڈے نہیں دے سکتی، اس دلیل سے سرائے والے اور مزدور کا جھگڑا حل ہوگیا۔

⭕️مندرجہ ذیل محاوروں کو جملوں میں استعمال کریں:

نیچا دکھانا :اپنے دشمن کو ہرا کر میں نے نیچا دکھا دیا ہے۔
منہ لٹکانا :شاہد فیل ہوا تو اس کا منہ لٹک گیا۔
بغلیں جھانکنا: استاد کے سوال پوچھنے پر شاگرد بغلیں جھانکنے لگا۔

⭕️لفظوں سے خالی جگہ بھریں:
﴿الجھن، بلی، ناپ، بالکل﴾

  • 1۔ تم ایک زندہ….. بلی….. کو پکڑ کر اسے نگل جاؤ۔
  • 2۔ بادشاہ پھر….. الجھن….. میں مبتلا ہو گیا۔
  • 3۔ اگر آپ یقین نہیں کرتے ہیں تو جاکر خود….. ناپ….. لیں۔
  • 4۔ مصنف کو اونتی کی بات…..بالکل….. ٹھیک معلوم ہوئی۔

⭕️عملی کام:

▪️ اونتی ہر شخص کی بات کا فوراً اور صحیح جواب دیتا تھا۔
▪️ ااونتی جیسے حاضر جواب لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔
▪️حاضر جواب ہونے کی وجہ سے لوگ اونتی کو پسند کرتے تھے،مگر کچھ لوگ اونتی سے جلتے بھی تھے۔
▪️ سچ تو یہ ہے کہ قدرت نے اونتی کو غیر معمولی عقل عطا کی تھی اور اونتی اپنی عقل کا موقع پر مناسب طریقے سے استعمال کرتا تھا۔

Advertisement
تحریر ارمش علی خان محمودی بنت طیب عزیز خان محمودی⭕️