Advertisement

اسے کہیو کہ میری جان پہ بنی ہوئی ہے
یہ ذندگی چند لمحات میں گنی ہوئی ہے

زرا ٹہرو تو سہی دیکھو تو سہی جان جاں
میرے ہونٹوں پہ میری آخری سانس رکی ہوئی ہے

سہاروں کو سہاروں سے سہارے کے غرض سے
شرم سے دب کر یہاں کی آنکھیں جکی ہوئی ہے

تم گر سنو تو میں سناونگا دل کی باتیں
کہ اسکے جانے سے دل کی نس دکھی ہوئی ہے

تیرے لبوں سے نکلا ہوا آخری لفظ محبت تھی
اسی کے بل پر انجمن میں اپنی شمع جلی ہوئی ہے
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement