اسے کہیو کہ میری جان پہ بنی ہوئی ہے
یہ ذندگی چند لمحات میں گنی ہوئی ہے

زرا ٹہرو تو سہی دیکھو تو سہی جان جاں
میرے ہونٹوں پہ میری آخری سانس رکی ہوئی ہے

سہاروں کو سہاروں سے سہارے کے غرض سے
شرم سے دب کر یہاں کی آنکھیں جکی ہوئی ہے

تم گر سنو تو میں سناونگا دل کی باتیں
کہ اسکے جانے سے دل کی نس دکھی ہوئی ہے

تیرے لبوں سے نکلا ہوا آخری لفظ محبت تھی
اسی کے بل پر انجمن میں اپنی شمع جلی ہوئی ہے