غزل

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لہو آتا ہے جب نہیں آتا
ہوش جاتا نہیں رہا، لیکن
جب وہ آتا ہے، تب نہیں آتا
صبر تھا ایک مونس ہجراں
سو وہ اب مُدت سے اب نہیں آتا
دل سے رُخصت ہوئی کوئی خواہش
رونا گر یہ کچھ بے سبب نہیں آتا
جی میں کیا کیا ہے اے ہم دم ساتھی
ہر سخن نالہ لب نہیں آتا
دور بیٹھا غبار مؔیر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا

تشریح

پہلا شعر

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لہو آتا ہے جب نہیں آتا

شاعر کہتا ہے کہ محبت میں اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ہر وقت آنکھوں سے اشک جاری رہتے ہیں اور جب آنکھوں سے آنسو بہنا بند ہو جاتے ہیں تو دل کی حالت اور بھی خراب ہو جاتی ہے اور آنکھوں سے لہو گویا خون کے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔

دوسرا شعر

ہوش جاتا نہیں رہا، لیکن
جب وہ آتا ہے، تب نہیں آتا

شاعر کہتا ہے کہ ویسے تو ہم ہوش میں رہتے ہیں لیکن جیسے ہی محبوب سے آنکھیں چار ہوجاتی ہیں یعنی وہ جب سامنے آتا ہے تو نہ جانے کون سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے کہ ہمارے ہوش اڑ جاتے ہیں۔

تیسرا شعر

صبر تھا ایک مونس ہجراں
سو وہ اب مُدت سے اب نہیں آتا

کہ محبوب کی جدائی میں ایک صبر ہی تھا جو ہمارے ساتھ تھا۔ گویا ہم میں صبر کا مادہ تھا اور ہم اس جدائی کو برداشت کر پاتے تھے۔مگر اب ہماری حالت یہ ہو گئی ہے کہ صبر بھی ساتھ چھوڑ گیا ہے۔

Advertisements