Advertisement

شاعر : علامہ اقبال

Advertisement

تعارفِ غزل 

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام علامہ اقبال ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر


شیخ محمد اقبال سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا ، ضربِ کلیم ، بالِ جبریل اور ارمغان حجاز ان کے اردو کلام پر مشتمل کتابیں ہیں۔ پہلے وطن دوستی پھر ملت دوستی اور پھر انسان دوستی ان کی شاعری کے اہم موضوعات ہیں۔ آپ نے مسلمانوں کے سیاسی شعور کو صحیح سمت عطا کی۔

Advertisement

(غزل نمبر ۱)

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
کرتے ہیں خطاب آخر، اُٹھتے ہیں حجاب آخر

تشریح :
اس شعر میں شاعر کہتے ہے کہ اگر عاجزی و نکساری سے اللہ ﷻ سے مانگا جائے تو ضرور عطا کرتا ہے۔ اگر صدا دل سے دی جائے تو عرش ہلانے کی طاقت رکھتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اللہ سے گڑگڑا کر مانگو۔ اسے مخاطب کرو، وہ ضرور تمہاری پکار سنے گا اور اس کا جواب دے گا۔
_______

احوالِ محبّت میں کچھ فرق نہیں ایسا
سوز و تب و تاب اوّل، سوز و تب و تاب آخر

تشریح :
اس شعر میں شاعر اس مجازی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محبت اگر مجازی ہو تو اس کے احوال بدلتے نہیں ہے، وہ وہی رہتا ہے۔ جو تکلیفیں آغاز میں آپ کو ملتی ہیں وہی تکالیف آپ کو اختتام میں بھی نصیب ہوتی ہیں۔ ہم تو بس اچھے کی امید پر رہتے ہیں۔ جبکہ عشق حقیقی میں اگر آغاز مشکلوں سے بھی ہو تو انجام جزا ہی جزا ہے۔
_______

Advertisement
مَیں تجھ کو بتاتا ہُوں، تقدیرِ اُمَم کیا ہے
شمشیر و سناں اوّل، طاؤس و رباب آخر

تشریح :
اس شعر میں شاعر مسلمانوں سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ میں تم بتاتا ہوں کے تمہارا نصب العین کیا ہے تم نے زندگی جس مقصد کے لیے جینی ہے وہ جذبہ شہادت ہے مسلمان دنیا کی تمام رعنائیوں سے اور مسرتوں کو چھوڑ کر دین کی افلاح کی جہد میں گزارتا ہے اور یہی اس کی آخرت کی زندگی منحصر ہے۔
_______

میخانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیں
لاتے ہیں سرُور اوّل، دیتے ہیں شراب آخر

تشریح :
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کے انگریزوں کے رنگ ڈھنگ بھی نرالے ہیں وہ لوگوں کو پہلے اپنی دنیا کے رنگینوں میں الجھاتے ہیں۔ اس آسائشوں کے خواب دیکھاتے ہیں اور جب انسان ان کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ تو اپنا اصل دیکھاتے ہیں۔ اور اپنے مقصد کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں اس کے اندر صرف مادیت پرستی ہی ہے۔
_______

Advertisement
کیا دبدبۂ نادر، کیا شوکتِ تیموری
ہو جاتے ہیں سب دفتر غرقِ مئے ناب آخر

تشریح :
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کیا اس کی رنگیاں کہاں یہ شان و شوکت قوت طاقت اور مرتبہ سب ہی فنا ہوجانے والے ہیں۔ دنیا کی ہر شے فانی ہے اور اس کو ایک نا ایک دن ختم ہو ہی جانا ہے۔ تاریح گواہ ہے کے بڑے بڑے طاقتور بھی منوں مٹی تلے جا سوۓ۔ موت کو دولت ٹال سکتی کے نہ طاقت وہ تو اٹل حقیقت ہے۔
_______

(غزل نمبر ۲)

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ
وہ ادب گہہ محبّت، وہ نِگہ کا تازیانہ

تشریح :
اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ کیا تمھیں میرے دل کا وہ زمانہ یاد نہیں ہے جب ہمارے دل میں ادب کے لیے محبت ہوتی تھی۔ جب ہمارے لیے ادب ہر جوہر سے بڑھ کر قیمتی تھا۔ کیا تمھیں وہ وقت یاد نہیں جب ہم ادیب ہوا کرتے تھے اور ادب کی عزت کرتے تھے۔
_______

Advertisement
نہیں اس کھُلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغت
یہ جہاں عجب جہاں ہے، نہ قفَس نہ آشیانہ

تشریح :
اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کے کچھ لوگ دنیا کو قید خانہ اور اذیت کا مقام سمجھتے ہیں اور زندگی کو عذاب تصور کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے تفریح گاہ سمجھتے ہیں اور زندگی کو عیش سے گزارتے ہیں۔ مگر میں ان دونوں نظریات سے اختلاف کرتا ہوں زندگی تو امتحان ہے جس تیاری کر کے ہی ہم آخرت کا انعام پا سکتے ہیں۔
_______

مرے ہم صفیر اسے بھی اثَرِ بہار سمجھے
انھیں کیا خبر کہ کیا ہے یہ نوائے عاشقانہ

تشریح :
اس شعر میں علامہ اقبال اپنے ہی کلام کے بارے میں کہتے ہیں کے میرے کلام کو میرے ہم عصر رونقِ بہار اور دل لگی کا سامان سمجھتے ہیں ان کو کیا خبر میرا کلام تو عشق ہے اور عشق بھی حقیقی۔ ان کو میری شاعر کی گہرائی کی سمجھ ہی نہیں ہے میں قوم کی اصلاح کے لیا لکھتا ہوں ان کی بکھری زندگی کو سنوارنے کے لیے لکھتا ہوں۔ شاعر کہتا ہے کہ میری شاعری مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ہے۔
_______

Advertisement
مرے خاک و خُوں سے تُونے یہ جہاں کِیا ہے پیدا
صِلۂ شہید کیا ہے، تب و تابِ جاودانہ

تشریح :
اس شعر میں شاعر کہتا ہے ہے کہ اللہ نے انسان کو مٹی اور خون سے پیدا کیا اس میں جان بخشی۔اللہ رحمن و رحیم ہے۔ اللہ نے ہمیں دنیا کی تمام آسائشات عطا کی، سب سے افضل مخلوق اشرف المخلوقات کا رتبہ عطا کیا۔ اور جو اللہ کی رضا کے اور اس کے نام اور دین کی سر بلندی کے لیے جان دیتا ہے، اللہ اسے شہادت کا رتبہ پانے پر ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی بھی عطا کی ہے۔
_______

تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں
نہ گِلہ ہے دوستوں کا، نہ شکایتِ زمانہ

تشریح :
اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میری زندگی اللہ کے کرم و عنایات میں گزری ہے۔ اللہ کے سہارے ہی میں ہر مشکل وقت سے بچا اور مصیبت میں اللہ نے ہی مجھے تھاما ہے۔ میں اللہ کی بندگی کرتا ہوں، مجھے کسی کا ڈر و خوف نہیں ہے۔ میں اپنے حال میں خوش ہوں، مجھے کسی دوست کوئی گلا نہیں ہے نہ مجھے زمانے سے کوئی شکایت ہے۔ میں راضی با رضا رہتا ہوں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement