انشائیہ ایک نثری صنف ہے۔ اسے ذہنی کیفیت کا ادبی اظہار بھی کہا گیا ہے۔ انشائیہ مضمون کی ایک ایسی قسم ہے جس میں علم و استدلال کے بجائے تاثراتی اور تحقیقی کیفیت پائی جاتی ہے۔کسی بھی موضوع پر شخصی اور انفرادی طرز کے تحریری اظہار خیال کو انشائیہ کہتے ہیں۔

انشائیے میں قدم قدم پر مصنف کی شخصیت جھلکتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انشایئے میں واقعات سے زیادہ تاثرات اہمیت رکھتے ہیں۔ موضوع کچھ بھی ہو،انشائیہ نگار اسے اپنے ذاتی نقطۂ نظر سے پیش کرتا ہے۔انشائیے کے لیے موضوع کی کوئی قید نہیں بلکہ موضوع کے انوکھے پہلو سامنے لائے جاتے ہیں۔

انشایئے کا سارا حسن اسی انوکھے پہلو میں مضمر ہے۔ اردو انشائیوں کے کچھ عنوانات پر غور کریں تو یہ نہایت غیر سنجیدہ معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً چار پائی ، ارہر کا کھیت، جھینگر کاجنازہ ،کتے وغیرہ لیکن انشائیہ پڑھنے کے بعد بظاہر نا معقول اورغیر اہم باتوں میں حکمت اور معقولیت پوشیدہ نظر آئے گی۔

انشائیہ نگار غیر فلسفیانہ انداز میں فلسفہ حیات بھی بیان کر جاتا ہے۔ انشائیے کا ڈھانچا غیر منظم اور ساخت پھیلی ہوتی ہے۔ کسی عنوان کے تحت بات شروع کی جاتی ہے اور بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے۔ یہاں آغاز تو ہوتا ہے لیکن بات کن راستوں سے ہوکر آگے بڑھے گی اور اختتام کہاں ہوگا ، یہ غیر متوقع ہوتا ہے۔

انشائیہ عام مضمون کی طرح مربوط اظہار خیال نہیں ہوتا بلکہ غزل کے شعروں جیسی بے ریلی انشائیے کی شناخت ہے۔انشائیہ نگار کو در پردہ موضوع کی مرکزیت قائم رکھنی ہوتی ہے۔ اس مرکزیت کا سہارا لے کر وہ ایسی باتیں بھی کہہ جاتا ہے جن کا موضوع سے بظاہر گہرا تعلق نہیں ہوتا۔انشائیہ کی دل کشی کا راز اس کی شگفتگی اور بے تکلفی میں ہے۔

انشائیہ نگار ایک ایسی فضا پیدا کرتا ہے جس میں پیغام یا تلقین کا شائبہ نہیں ہوتا۔ وہ بے تکلفی کے ساتھ سنجیدہ بات کو بھی شگفتہ اسلوب میں کہہ جا تا ہے۔ اردو میں انشائیہ نگاری کا آغاز مضمون کی شکل میں ہوا۔ 1857 کے بعد علی گڑھ تحریک کے زیر اثر مضمون نگاری کا رواج ہوا۔ مضمون نگاری اس دور کی ضرورت تھی ، کیوں کہ ایک نئے سماج کی تعمیر اور ایک نئے شعور کو پروان چڑھانا تھا۔ اس کی پہل سرسید احمد خاں نے امید کی خوشی اور خوشامد جیسے مضامین لکھ کر کی۔ یہ مضامین اصلاحی نوعیت کے ہیں جنھیں انشائیہ کہنا مناسب نہیں۔ البتہ ان مضامین میں شخصی رنگ کسی حد تک ضرور موجود ہے۔

محمد حسین آزاد نے انشائیے کی طرف خصوصی توجہ کی اور اس صنف کو استحکام بخشا۔ اگلشن امید کی بہار ، سچ اور جھوٹ کا رزم نامہ اور انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا ان کے نمائندہ انشائیے ہیں۔ نیرنگ خیال ان کے انشائیوں کامجموعہ ہے۔ انشائیہ کے یہ نقوش، میر ناصر علی ، نیاز فتح پوری ، سجاد انصاری ، فرحت اللہ بیگ ، مہدی افادی اور عہد اقلیم شرر کی تحریروں میں بھی موجود ہیں۔

انشائیہ کی زیادہ ترقی یافتہ شکل خواجہ حسن نظامی ، رشید احمد صدیقی ، پطرس بخاری ، انجم مانپوری، کنہیا لال کپور، فرقت کا کوروی وغیرہ کے یہاں نظر آتی ہے۔ بعد کے دور میں وزیر آغا نظیر صدیقی متنفیق الرحمن ، کرنل محمد خان، ابن انشاء شفیقہ فرحت، یوسف ناظم ، احمد جمال پاشا، مشتاق یوسفی مجتبی حسین ، مشتاق قمر جمیل آذر غلام جیلانی اصغر وغیرہ نے انشائیہ کی صنف کو فروغ و استحکام عطا کیا۔