Advertisement

بیتی رات بہت زوروں کی بارش ہوئی۔آصفہ آنکھ ملتے ہوئے صحن میں جا پہنچی تو اس نے گھر والوں سے سنا کہ اب وہ اکیلی نہیں اس کا ایک ننھا بھائی بھی ہے۔ وہ خوش بھی تھی اور اپنے کچھ معصوم سوالوں میں الجھی ہوئی بھی۔ دھیمے قدموں سے وہ اس کمرے کی چوکھٹ پر جا پہنچی جہاں اس کی ماں اور ننھا بھائی تھا، وہ معصومیت سے کچھ دیر اپنی ماں کو تکتی رہی، پھر ماں کی پکار پر وہ قریب گئی اور پوچھا ممی یہ چھوٹا بچہ کون ہے؟

Advertisement

ماں نے کہا بیٹا آپ کا بھائی ہے۔ آپ کہتی تھی نا آپ اکیلی ہو دیکھو اب آپ اکیلی نہیں! آصفہ کی خوشی اس کی آنکھوں سے جھلکنے لگی،وہ سارا دن اپنے ننھے بھائی کے ساتھ کھیلتی رہی۔ وہ اس قدر خوش تھی کہ اسے اپنے کھانے پینے کا خیال بھی نہ رہا۔

اگلی رات اس کےبھائی کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے وہ اپنی ماں کے ساتھ اپنے بھائی کا خیال رکھتے ہوئے دیر رات تک جاگتی رہی۔ اس نے اپنی ماں سے پوچھا؛
” ممی کیا میں بھی اتنی ہی چھوٹی تھی اور آپ دیر رات تک پریشان ہوتی تھیں؟ ”
آصفہ کی ماں نے مسکراتے ہوئے کہا؛
” ہاں بیٹا آپ بھی اتنی ہی چھوٹی تھی، آپ بھی پریشان کرتی تھیں اور اپنے بھائی کی طرح آپ بھی اپنا کوئی کام نہیں کر سکتی تھیں۔”

اس نے چند لمحوں کے بعد پھر سوال کیا؛
”ممی آپ میرا اتنا خیال رکھتی ہیں، میں جو کہتی ہوں پاپا سب لادیتے ہیں پر میں تو آپ کے لئے کچھ نہیں لاتی تو آپ کیوں خیال رکھتی ہیں؟
آصفہ کی ماں نے کہا؛
”بیٹا ممی اور پاپا آپ سے بہت پیار کرتے ہیں آپ ان کی ننھی سی جان ہیں اس لئے آپ کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔ اس نے پھر کہا، ممی ممی، پاپا تو آفس میں کام کرتے ہیں تو انہیں پیسے ملتے ہیں۔ سبھی کام کے بدلے کچھ نہ کچھ چاہتے ہیں آپ بھی ہم سے کچھ چاہتے ہیں کیا؟ ماں نے مسکراتے ہوئے کہا بیٹا نہیں!
پر کیوں؟ آصفہ نے پوچھا۔
ماں نے اپنی ننھی بیٹی کو سمجھاتے ہوئے کہا؛
”بیٹا دنیا کے لوگوں اور والدین میں بہت فرق ہوتا ہے۔ والدین کسی مفاد کے تحت اپنے بچوں سے محبت نہیں کرتے۔“
آصفہ نے پھر سوال کیا پر میں کچھ کرنا چاہتی ہوں آپ کے لئے۔
ماں نے کہا؛
”اچھا ٹھیک ہے آپ کو کچھ کرنا ہے اپنے ممی پاپا کے لئے تو آپ ہم سے بھی اتنی ہی محبت کر نا جتنا ممی پاپا آپ سے کرتے ہیں، بڑے ہو کر بھی یا بڑے ہو کر ہمارے پیار اور قربانیوں کو بھلا دوگی۔؟”
آصفہ نے اپنی امی کو گلے لگاتے ہوئے کہا کبھی نہیں بالکل نہیں!

رات میں جب بتیاں بجھا دی گئیں اور آصفہ کی ماں اور اس کا بھائی سو چکے تو آصفہ کروٹ بدل کر کچھ دیر تک روتی رہی۔ دراصل اسے اس انمول محبت کا احساس ہو رہا تھا جسے بہت کم لوگ ہی سمجھ پا تے ہیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement
Advertisement