غزل

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم
گھبرا گئے ہیں بے دلی ہم زباں سے ہم
کچھ ایسی دُور بھی تو نہیں منزل مُراد
لیکن یہ جب کہ چھوٹ چلیں کارواں سے ہم
اے یادِ یار! دیکھ کہ باوصف رنج ہجر
مسرور ہیں تری خلشِ ناتواں سے ہم
اے زہد خشک!تیری ہدایت کے واسطے
سوغاتِ عشق لائے ہیں کوئے بتاں سے ہم
بے تابیوں سے چھپ نہ سکا حال آرزو
آخر بچے نہ اس نگہ بدگماں سے ہم
ہے اِنتہائے یاس بھی اک ابتدائے شوق
پھر آگئے وہیں،چلے تھے جہاں سے ہم
حسرتؔ پھر اور جاکے کریں کسی کی بندگی
اچھا،جو سر اُٹھائیں بھی اس آستاں سے ہم

تشریح

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم
گھبرا گئے ہیں بے دلی ہم زباں سے ہم

شاعر کہتا ہے کہ ہمارے اندر جو محبت کا جذبہ موجزن ہے ایسا جذبہ، ایسا شوق ہم اوروں میں کیسے پیدا کریں! نہیں کر سکتے۔لہذا ہم اپنے ہم زبان،اپنے محبوب کی بے دلی،سرد مہری سے گھبرا گئے ہیں کیونکہ وہ ہمارے شوق کے برعکس بے دلی سے کام لے رہا ہے‌۔

کچھ ایسی دُور بھی تو نہیں منزل مُراد
لیکن یہ جب کہ چھوٹ چلیں کارواں سے ہم

شاعر کہتا ہے کہ محبت کی منزل کچھ آسان نہیں ہوتی، بہت دُشوار ہوتی ہے۔ لیکن ایسی بات بھی نہیں ہے کہ اس منزل تک پہنچا نہ جا سکے۔ لیکن یہ جبھی ممکن ہے جب ہم کارواں سے چھٹکارا پاکر،الگ ہو کر اس کی جُستُجو کریں، تلاش کریں۔

اے یادِ یار! دیکھ کہ باوصف رنج ہجر
مسرور ہیں تری خلشِ ناتواں سے ہم

عاشق جُدائی کے غم سے دوچار ہے۔ایسے موقعوں پر محبوب کی یاد بڑی کارگر ہوتی ہے۔ دل لگا رہتا ہے۔ اب شاعر محبوب کی یاد ہی سے مخاطب ہے۔ کہتا ہے کہ دیکھ اس کے باوجود کہ ہجر کے رنج سے دوچار ہیں لیکن تمہاری ہلکی ہلکی خلش یعنی یاد کی ہلکی ہلکی چُبھن سے ہم کتنے خوش ہیں۔

اے زہد خشک!تیری ہدایت کے واسطے
سوغاتِ عشق لائے ہیں کوئے بتاں سے ہم

شاعر کہتا ہے کہ اے روکھے، پھیکے پرہیزگار تمہاری رہبری کے لئے ہم کیا سوغات لائے ہیں۔ہم بتوں کے کوچے سے عشق کی سوغات لائے ہیں۔یعنی تو اگر عشق اختیار کرے گا تو تیری پرہیزگاری یوں روکھی پھیکی نہیں رہے گی۔عشق مجازی ہی دراصل حقیقی معبود تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔

بے تابیوں سے چھپ نہ سکا حال آرزو
آخر بچے نہ اس نگہ بدگماں سے ہم

جب تک محبوب کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ کوئی اس پر عاشق ہے تو وہ اپنے ادائے محبوبانہ سے نہیں دیکھتا۔لیکن جب اسے یہ پتا چل جاتا ہے تو وہ اس کی ادائے محبوبانہ سے بسمل ہو جاتا ہے۔اب شاعر کہتا ہے ہماری بے قراریوں سے ہمارے دل کی آرزو محبوب سے پوشیدہ نہیں رہ سکی۔لہذا ہماری لاکھ کوشش کے باوجود آخر اس کی نگاہ ناتوں اپنا کام کر گئی۔ہم اس نظر سے اپنے دل کو نہیں بچا سکے۔

حسرتؔ پھر اور جاکے کریں کسی کی بندگی
اچھا،جو سر اُٹھائیں بھی اس آستاں سے ہم

غزل کے آخری شعر یعنی مقطع میں شاعر محبوب کی چوکھٹ کی قدر و قیمت بیان کرتا ہوا کہتا ہے کہ چلیں اس کے آستانے،اس کی چوکھٹ سے ہم اپنا سر اٹھا بھی لیں تو حسرتؔ اس سے بڑھ کر یا اس کی برابری کا دوسرا کون ہے جس کی ہم بندگی کریں۔اسے جا کر سجدہ کریں۔گویا کوئی نہیں ہے۔یہ شعر محبوب حقیقی کی طرف بھی منسوب کیا جا سکتا ہے۔

Advertisements