Advertisement

نظم کا بنیادی وصف وحدت ہے۔ یوں تو ہر کلام موزوں کو نظم کہا جاتا ہے لیکن بحیثیت صنف کے نظم اس صنف سخن کو کہتے ہیں جس میں کسی موضوع سے متعلق ربط و تسلسل کے ساتھ اظہار خیال کیا گیا ہو۔ لہذا بنیادی پہچان وحدت ہے۔

Advertisement

اس لخاظ سے دیکھا جائے تو غزل کی ہیئت میں کہے گئے مسلسل و مربوط اشعار بھی نظم کے زمرے میں آتے ہیں۔ اکبر نے اپنی نظموں کے لئے غزل سے لے کر مثنوی، قطع، رباعی اور معریٰ کی ہیئتیں اور بحور استعمال کی ہیں۔اکبر کے یہاں ہمیں مختصر اور طویل دونوں طرح کی نظمیں مل جاتی ہیں۔

Advertisement

ان کی زیادہ تر نظمیں قطع کی ہیئت میں ہیں اس لیے ان پر کوئی عنوان درج نہیں ہے۔ ان کی نظموں کے عنوانات عام طور پر ان کے کلیات کے مرتبین نے دیے ہیں۔1865ء میں انجمن پنجاب کے زیر اہتمام جدید اردو نظم کی جو تحریک شروع ہوئی اکبر بھی اس سے متاثر نظر آتے ہیں۔

Advertisement

محققین کے مطابق اکبر کی پہلی نظم ”نامہ بنام اودھ“ ہے جو مثنوی کی ہیئت میں ہے۔ اس میں اکبر نے فارسی تراکیب کا استعمال زیادہ کیا ہے اور انداز بیان بھی پیچیدہ ہے۔ لیکن بعد کی نظموں میں یہ خامی نظر نہیں آتی۔

مثلاً تعلیم نسواں، نظم قومی، برق کلیساء، جلوہ دربار دہلی، برٹش راج، لب ساحل اور موج، دریا کی روانی، دو تتریاں، فرضی لطیفہ، پیر و مرشد نے کہا وہ ہوا نہ رہی، عشرتی گھر کی محبت کا مزہ، ایک بوڑھا نحیف و خستہ زار، گرمی میں انور نے یہ اکبر سے کہا، درخت جڑ پہ ہے قائم تو استوار بھی ہے وغیرہ۔

Advertisement

ان نظموں کے موضوعات سنجیدہ اور فکر انگیز ہیں ساتھ ہی پیرایہ بیان بھی شستہ اور عام فہم ہے۔ اکبر کی نظموں میں ہمیں طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ منظر نگاری کے نمونے ملتے ہیں مثال کے طور پر دریا کی روانی کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

ادھر پھولتا اور لچکتا ہوا رخ اس سمت کرتا پھسلتا ہوا
پہاڑوں سے سر کو پٹکتا ہوا چٹانوں میں دامن جھٹکتا ہوا
وہ گاتا ہوا وہ بجاتا ہوا یہ لہروں کو پیہم نچاتا ہوا
سدھرتا ہوا اور سنورتا ہوا تھرکتا ہوا رقص کرتا ہوا

اس نظم کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اکبر کو الفاظ کے استعمال پر کس قدر قدرت حاصل تھی۔ سادہ سے الفاظ کا انتخاب کر کے انہوں نے نہایت ہی دلکش تصویر کشی کی ہے۔اکبر نے معریٰ کی شکل میں بھی نظمیں کہی ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی نظم”چلا جاتا تھا ایک ننّھا سا کیڑا رات کاغذ پر“ کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

Advertisement
چلا جاتا تھا ایک ننھا سا کیڑا رات کاغذ پر
بلا قصد ضرر میں نے اٹھایا اس کو انگلی سے
مگر ایسا وہ نازک تھا کہ فوراً پس گیا بالکل
نہایت ہی خفیف اک داغ کاغذ پر رہا اس کا

اکبر کی نظموں کی بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں ڈرامائیت ہے۔ مکالمے کے ذریعے اکبر ایسی تصویر بناتے ہیں کہ منظر نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ”لب ساحل اور موج“ کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

دور کوہ لب ساحل سے جو گزری اک موج
کوہ نے اس سے کہا تو نے نہ دیکھا مرا اوج
مجھ سے مل کر تجھے جانا تھا برائے دم چند
بولی سالک نہیں کرتے کبھی ساکن کو پسند

اکبر کے کلیات میں ہمیں مختصر نظمیں زیادہ ملتی ہیں۔ اس کے برعکس اکبر طویل نظمیں بھی کہی ہیں۔ اس کی سب سے اچھی مثال ” گاندھی نامہ“ ہے۔ اس نظم میں اکبر نے ہیئت کے تجربوں کے مختلف نمونے پیش کیے ہیں۔

Advertisement

اکبر کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے ایسے الفاظ کا استعمال اپنی شاعری میں کیا ہے جس سے عام طور پر شعراء پرہیز کرتے ہیں۔ انگریزی کے الفاظ اور اصطلاحیں جس خوبی سے اکبر نے استعمال کی ہیں اس کی مثال کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔
مثال کے طور پر مختلف نظموں کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

جب اپنی ہسٹری ہم بھول جائیں گے تو کیا ہوگا؟
خدارا ایک نظر اس سین کا کرتے تو نظارہ
مشینیں چل رہی ہیں اور کسی کی کچھ نہیں چلتی
ادھر ہیں بے چھلے کندے ادھر ہے برق وش آرا
بہت ہی عمدہ ہے اے ہم نشیں برٹش راج
کہ ہر طرح کے ضوابط بھی ہیں اصول بھی ہے
جو چاہے کھول لے دروازہ عدالت کو
کہ تیل پیچ میں ہے ڈھیلی اس کی چول بھی ہے
Hina Maheenwritten by
Advertisement

Advertisement

Advertisement