Advertisement
اگر ایمان کی پوچھو بے ایمانی نہیں جاتی
میں کافر ہو گیا لیکن مسلمانی نہیں جاتی۔
بظاہر دکھ ہے کوئی اور نہ ہے تکلیف ہی کوئی
پریشانی یہی ہے بس پریشانی نہیں جاتی۔
جو کچھ باہر ہے وہ سب ذرّہ ذرّہ جانتا ہوں میں
مگر وہ شے جو اندر ہے وہی جانی نہیں جاتی۔
لباسوں کی نہیں قلت ڈھکا رہتا ہوں سر تا پا
بدن کُچھ چیز ایسی ہے کہ عریانی نہیں جاتی۔
مُجھے معلوم آئینے میں میرا عکس ہے بےشک
مگر پھر بھی مری آنکھوں کی حیرانی نہیں جاتی۔
میں بےشک بس گیا ہوں آ کے اس گنجان بستی میں
مگر کچھ بات ہے دل کی بیابانی نہیں جاتی۔
بظاہر شادیوں میں اور جشنوں میں ہوں میں غلطاں
اگر اندر کی پوچھو تو نوحہ خوانی نہیں جاتی۔
فقیری میری فطرت ہے فقیرانہ لبادہ ہے
یہ کُچھ اللہ کی قدرت ہے کہ سلطانی نہیں جاتی۔
ضعیفی آ گئی کمزور جسم و جان ہیں بےشک
مرے جذبات کی لیکن فراوانی نہیں جاتی۔
طلسماتی کرشمے جھوٹ ہیں دھوکہ ہیں یہ معلوم
مگر دل کی جو خصلت ہے سلیمانی نہیں جاتی۔
زمانے بھر میں اِک پہچان تھی کل تک مگر بیتاب
اب آئینے میں اپنی شکل پہچانی نہیں جاتی۔
پرتپال سنگھ کی غزل
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement